دفتر خارجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ سے متعلق رپورٹ جمع کرادی

6%D8%A7%D8%A7%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%AF%D9%82%DB%8C%D8%B1%D8%B9%D9%BE%DB%81%D8%AA%DB%92.jpg

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے دائر مقدمے میں دفتر خارجہ نے تحریری رپورٹ پیش کردی۔ دفتر خارجہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بات ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ اور خاندان سے کرا دی جائے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی عدالت میں درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے اپنی ہمشیرہ کی بازیابی کے لیے دائرکیس کی سماعت ہوئی تو دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر نے تحریری رپورٹ جمع کرائی جس میں دفتر خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے فیڈرل میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ٹیلی فون تک رسائی حاصل ہے۔


دفتر خارجہ نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنے خاندان سے بات چیت کی مکمل آزادی ہے ۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی قونصلیٹ نے ایک بار پھر فیڈرل میڈیکل سینٹر کارس ویل کو درخواست کی ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو ڈاکٹر عافیہ تک قونصلر کو رسائی دی جائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کی جیل کے فیڈرل میڈیکل سینٹر کارس ویل میں 2008 سے قید ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں پاکستانی حکام نے یہ معاملہ مسلسل ہر سطح پر امریکی حکام کے سامنے اٹھایا ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہیوسٹن میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ جنرل نے مکمل ٹرائل سزا اور قید کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے رابطہ رکھا۔ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل ہر 3 ماہ بعد عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔

رپورٹ میں دفتر خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی قونصلر کو ڈاکٹر عافیہ تک آخری بار رسائی 28 جنوری 2022 کو دی گئی تھی جس میں ڈاکٹر عافیہ نے قونصلر سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس وقت وہ بالکل صحت مند تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ ، بھائی محمد علی اور اپنی وکیل ماروا ایلبیالی کو نامزد کیا ہے جن کے ساتھ ان کی صحت بارے معلومات شیئر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل ساجد قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دفتر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ 2 ہفتے میں امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کی ٹیلیفون پر بات ان کے خاندان سے کرائی جائے ، ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ صدر پاکستان امریکی صدر جوبائیڈن سے بات کریں تو وہ ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کا حکم دے سکتے ہیں۔
 
Advertisement

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
American se darnay walay tamam Muslims hukamran Dr.Afia ko kiya insaaf dilaya gein??Lakho begunah musalman mar dia USA ne..Ham ne kia Ukhar lia US ka??JI ne hazaro March kia Dr.Afia k lia..L nahi put sakay US ka..Ham G hain..hamari parties bhi G hain.yaheeh haqeeqat ha..IK USA k badmashi ki baat kar raha ha.Kia ap ne JI ke leader Siraj k moonh se IK ke haq m koi baat suni?Nahi.kiyo k ye sab logo ko chotia ban tey hain Islam k naam par.sayasat k naam par.
 

انقلاب

Senator (1k+ posts)
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ صدر پاکستان امریکی صدر جوبائیڈن سے بات کریں تو وہ ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کا حکم دے سکتے ہیں
باجوہ کیا صرف دوسرے ملکوں کے سربراہوں کو پاکستان کے لیے امداد دلوانےکے لیے فون کرتا ہے؟ سبحان اللہ، خان کے دور کے ۱۰ ارب باجوہ لائے، پر عافیہ کو لانے کے لیے دندان ساز کا سہارا۔
ایسا تو نہیں ہو سکتا ناں
 
Sponsored Link