رانا شمیم حلف نامہ تصدیق کیلئے پاکستانی عدالتوں میں جانے کو تیار ہوں، چارلس

Goldfinger

Councller (250+ posts)

1019652_333210_11_akhbar.jpg

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) وکیل، اوتھ کمشنر اور نوٹری پبلک، جس نے جسٹس (ر) رانا شمیم کے حلف نامے کی تصدیق کی تھی، نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں عدالتوں میں پیش ہونے کیلئے تیار ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ رانا شمیم نے حلف نامے پر دستخط کیے تھے اور دستاویز پر دستخط کرتے وقت وہ پورے ہوش و حواس میں تھے۔

اس دستاویز کے حوالے سے خبر دی نیوز میں سب سے پہلے انصار عباسی نے دی تھی۔ دی نیوز اور جیو کے ساتھ خصوصی بات چیت میں لندن کے نوٹری پبلک چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والا حلف نامہ (جس میں صرف ایک نام کو حذف کر دیا گیا تھا) بالکل درست اور وہی حلف نامہ تھا جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے اور مہر ثبت کی تھی اور اس پر جسٹس رانا شمیم کے دستخط تھے۔

چارلس گتھری نے کہا کہ رانا شمیم نے ان سے بات چیت میں تصدیق کی تھی کہ اپنے حلف نامے پر دستخط چاہتے ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج پر دبائو ڈالا تاکہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو 2018ء کے عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔

چارلس گتھری نے جسٹس رانا شمیم کے متعلق بتایا کہ وہ بہت پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے دور میں پاکستان کے سینئر ترین ججوں میں شامل تھے، انہوں نے مجھے واضح طور پر بتایا تھا کہ ’’ہاں‘‘ وہ جانتے ہیں کہ وہ حلف نامے کیا بات کہہ رہے ہیں۔

دی نیوز میں شائع ہونے والے حلف نامے کے حوالے سے چارلس گتھری نے بتایا کہ یہ بالکل درست اور اصل دستاویز ہے، اسی دستاویز پر میرے روبرو حلف اٹھا کر دستخط کیے گئے تھے۔ جس شخص نے یہ تیار کیا تھا اس نے مجھے اپنا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ دکھایا تھا، انہوں نے مجھ سے اکیلے میں ملاقات کی لہٰذا یہ آزاد انداز سے تیار کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہے رانا شمیم ہوں یا کوئی اور، برطانیہ میں معیاری طریقہ کار یہ ہے کہ ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جس دستاویز پر وہ حلفاً دستخط کر رہے ہیں وہ اس کے مندرجات سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کس دستاویز پر دستخط کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس دستاویز پر دستخط کی صلاحیت ہے، اور یہ بھی کہ کیا وہ ذہنی طور پر ہوش و حواس میں ہیں یا نہیں۔ اور لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ کس دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن کا ہم کسی بھی شخص سے حلف لیتے وقت دھیان رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر دستخط کرنے والے شخص کو اپنی شناختی دستاویز (پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس) پیش کرنا ہوتی ہے جس کے بعد میں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ سامنے والا شخص اصل ہے۔

جسٹس شمیم کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا۔ انہوں نے میرے روبرو اکیلے دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ چارلس گتھری پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو خدمات فراہم کرتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ پاکستان فارن آفس بشمول نیب کیلئے دستاویزات کی تصدیق کرتے ہیں۔

انہوں نے ہی پاناما سے جڑی دستاویزات کی تصدیق کی تھی جو نیب نے لندن سے حاصل کرکے پاکستان میں 2017ء میں پیش کی تھیں۔ چارلس گتھری نے بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کیا تنازع شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی موزوں ذریعے سے کوئی دستاویز پیش ہوگی تو وہ اس کی تصدیق کریں گے، میں آزاد اور غیر جانبدار ہوں، کوئی سیاسی آدمی نہیں، لہٰذا اگر پاکستانی ہائی کمیشن مجھ سے کہے کہ درست اور اصل دستاویزات کی تصدیق کرو ں تو میں کروں گا۔ میں نے ماضی میں بھی یہ کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹری پبلک ایک آزاد اور غیر جانبدار شخص ہوتا ہے جو دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے اور حلف لیتا ہے۔ نوٹری پبلک ایک وکیل سے مختلف ہے کیونکہ وہ کسی مخصوص شخص کیلئے کام کرتا ہے اور مخصوص پارٹی کیلئے کام کرتا ہے۔ اس نمائندے کو معلوم ہے کہ کم از کم تین لوگوں نے چارلس گتھری کے حوالے سے ایک خفیہ آپریشن کرنے کی کوشش کی، اسے دستاویزات کی تصدیق کیلئے فیس دی اور اس کے بعد یہ خبر نکالنے کی کوشش کی کہ جیسے حلف نامہ جعلی تھا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جسٹس شمیم پر کوئی دبائو تھا یا پھر اوتھ کمشنر نے کوئی غلط کام کیا ہے۔

تاہم، یہ اسٹنگ آپریشن کامیاب نہ ہوا کیونکہ چارلس گتھری اپنی قانونی اور حقیقی پوزیشن پر برقرار رہے۔ چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ دی نیوز اور جنگ میں رانا شمیم کا حلف نامہ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں کئی لوگوں سے سوالات موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا، میں جانتا ہوں یہ خبر پاکستان میں بڑی خبر بن کر سامنے آئی، عموماً میں اس حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کر دیتا ہوں یا پھر اس سے زیادہ نہیں کہتا کہ جس شخص نے میرے روبرو دستخط کیے میں نے اس کی شناخت کی تھی، جس وقت رانا شمیم نے حلفاً دستاویز پر دستخط کیے تھے اس وقت وہ میرے ساتھ تنہا تھے۔

سورس
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

A.jokhio

Minister (2k+ posts)

1019652_333210_11_akhbar.jpg

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) وکیل، اوتھ کمشنر اور نوٹری پبلک، جس نے جسٹس (ر) رانا شمیم کے حلف نامے کی تصدیق کی تھی، نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں عدالتوں میں پیش ہونے کیلئے تیار ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ رانا شمیم نے حلف نامے پر دستخط کیے تھے اور دستاویز پر دستخط کرتے وقت وہ پورے ہوش و حواس میں تھے۔

اس دستاویز کے حوالے سے خبر دی نیوز میں سب سے پہلے انصار عباسی نے دی تھی۔ دی نیوز اور جیو کے ساتھ خصوصی بات چیت میں لندن کے نوٹری پبلک چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والا حلف نامہ (جس میں صرف ایک نام کو حذف کر دیا گیا تھا) بالکل درست اور وہی حلف نامہ تھا جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے اور مہر ثبت کی تھی اور اس پر جسٹس رانا شمیم کے دستخط تھے۔

چارلس گتھری نے کہا کہ رانا شمیم نے ان سے بات چیت میں تصدیق کی تھی کہ اپنے حلف نامے پر دستخط چاہتے ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج پر دبائو ڈالا تاکہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو 2018ء کے عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔

چارلس گتھری نے جسٹس رانا شمیم کے متعلق بتایا کہ وہ بہت پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے دور میں پاکستان کے سینئر ترین ججوں میں شامل تھے، انہوں نے مجھے واضح طور پر بتایا تھا کہ ’’ہاں‘‘ وہ جانتے ہیں کہ وہ حلف نامے کیا بات کہہ رہے ہیں۔

دی نیوز میں شائع ہونے والے حلف نامے کے حوالے سے چارلس گتھری نے بتایا کہ یہ بالکل درست اور اصل دستاویز ہے، اسی دستاویز پر میرے روبرو حلف اٹھا کر دستخط کیے گئے تھے۔ جس شخص نے یہ تیار کیا تھا اس نے مجھے اپنا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ دکھایا تھا، انہوں نے مجھ سے اکیلے میں ملاقات کی لہٰذا یہ آزاد انداز سے تیار کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہے رانا شمیم ہوں یا کوئی اور، برطانیہ میں معیاری طریقہ کار یہ ہے کہ ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جس دستاویز پر وہ حلفاً دستخط کر رہے ہیں وہ اس کے مندرجات سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کس دستاویز پر دستخط کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس دستاویز پر دستخط کی صلاحیت ہے، اور یہ بھی کہ کیا وہ ذہنی طور پر ہوش و حواس میں ہیں یا نہیں۔ اور لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ کس دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن کا ہم کسی بھی شخص سے حلف لیتے وقت دھیان رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر دستخط کرنے والے شخص کو اپنی شناختی دستاویز (پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس) پیش کرنا ہوتی ہے جس کے بعد میں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ سامنے والا شخص اصل ہے۔

جسٹس شمیم کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا۔ انہوں نے میرے روبرو اکیلے دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ چارلس گتھری پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو خدمات فراہم کرتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ پاکستان فارن آفس بشمول نیب کیلئے دستاویزات کی تصدیق کرتے ہیں۔

انہوں نے ہی پاناما سے جڑی دستاویزات کی تصدیق کی تھی جو نیب نے لندن سے حاصل کرکے پاکستان میں 2017ء میں پیش کی تھیں۔ چارلس گتھری نے بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کیا تنازع شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی موزوں ذریعے سے کوئی دستاویز پیش ہوگی تو وہ اس کی تصدیق کریں گے، میں آزاد اور غیر جانبدار ہوں، کوئی سیاسی آدمی نہیں، لہٰذا اگر پاکستانی ہائی کمیشن مجھ سے کہے کہ درست اور اصل دستاویزات کی تصدیق کرو ں تو میں کروں گا۔ میں نے ماضی میں بھی یہ کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹری پبلک ایک آزاد اور غیر جانبدار شخص ہوتا ہے جو دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے اور حلف لیتا ہے۔ نوٹری پبلک ایک وکیل سے مختلف ہے کیونکہ وہ کسی مخصوص شخص کیلئے کام کرتا ہے اور مخصوص پارٹی کیلئے کام کرتا ہے۔ اس نمائندے کو معلوم ہے کہ کم از کم تین لوگوں نے چارلس گتھری کے حوالے سے ایک خفیہ آپریشن کرنے کی کوشش کی، اسے دستاویزات کی تصدیق کیلئے فیس دی اور اس کے بعد یہ خبر نکالنے کی کوشش کی کہ جیسے حلف نامہ جعلی تھا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جسٹس شمیم پر کوئی دبائو تھا یا پھر اوتھ کمشنر نے کوئی غلط کام کیا ہے۔

تاہم، یہ اسٹنگ آپریشن کامیاب نہ ہوا کیونکہ چارلس گتھری اپنی قانونی اور حقیقی پوزیشن پر برقرار رہے۔ چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ دی نیوز اور جنگ میں رانا شمیم کا حلف نامہ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں کئی لوگوں سے سوالات موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا، میں جانتا ہوں یہ خبر پاکستان میں بڑی خبر بن کر سامنے آئی، عموماً میں اس حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کر دیتا ہوں یا پھر اس سے زیادہ نہیں کہتا کہ جس شخص نے میرے روبرو دستخط کیے میں نے اس کی شناخت کی تھی، جس وقت رانا شمیم نے حلفاً دستاویز پر دستخط کیے تھے اس وقت وہ میرے ساتھ تنہا تھے۔

سورس
Good ho gaya!...ab rana shamim batayae...konse totey se black mail hoke eh affidavit sign kiya tha??
 
Last edited:

ahameed

Minister (2k+ posts)

1019652_333210_11_akhbar.jpg

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) وکیل، اوتھ کمشنر اور نوٹری پبلک، جس نے جسٹس (ر) رانا شمیم کے حلف نامے کی تصدیق کی تھی، نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں عدالتوں میں پیش ہونے کیلئے تیار ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ رانا شمیم نے حلف نامے پر دستخط کیے تھے اور دستاویز پر دستخط کرتے وقت وہ پورے ہوش و حواس میں تھے۔

اس دستاویز کے حوالے سے خبر دی نیوز میں سب سے پہلے انصار عباسی نے دی تھی۔ دی نیوز اور جیو کے ساتھ خصوصی بات چیت میں لندن کے نوٹری پبلک چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والا حلف نامہ (جس میں صرف ایک نام کو حذف کر دیا گیا تھا) بالکل درست اور وہی حلف نامہ تھا جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے اور مہر ثبت کی تھی اور اس پر جسٹس رانا شمیم کے دستخط تھے۔

چارلس گتھری نے کہا کہ رانا شمیم نے ان سے بات چیت میں تصدیق کی تھی کہ اپنے حلف نامے پر دستخط چاہتے ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج پر دبائو ڈالا تاکہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو 2018ء کے عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔

چارلس گتھری نے جسٹس رانا شمیم کے متعلق بتایا کہ وہ بہت پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے دور میں پاکستان کے سینئر ترین ججوں میں شامل تھے، انہوں نے مجھے واضح طور پر بتایا تھا کہ ’’ہاں‘‘ وہ جانتے ہیں کہ وہ حلف نامے کیا بات کہہ رہے ہیں۔

دی نیوز میں شائع ہونے والے حلف نامے کے حوالے سے چارلس گتھری نے بتایا کہ یہ بالکل درست اور اصل دستاویز ہے، اسی دستاویز پر میرے روبرو حلف اٹھا کر دستخط کیے گئے تھے۔ جس شخص نے یہ تیار کیا تھا اس نے مجھے اپنا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ دکھایا تھا، انہوں نے مجھ سے اکیلے میں ملاقات کی لہٰذا یہ آزاد انداز سے تیار کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہے رانا شمیم ہوں یا کوئی اور، برطانیہ میں معیاری طریقہ کار یہ ہے کہ ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جس دستاویز پر وہ حلفاً دستخط کر رہے ہیں وہ اس کے مندرجات سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کس دستاویز پر دستخط کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس دستاویز پر دستخط کی صلاحیت ہے، اور یہ بھی کہ کیا وہ ذہنی طور پر ہوش و حواس میں ہیں یا نہیں۔ اور لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ کس دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن کا ہم کسی بھی شخص سے حلف لیتے وقت دھیان رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر دستخط کرنے والے شخص کو اپنی شناختی دستاویز (پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس) پیش کرنا ہوتی ہے جس کے بعد میں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ سامنے والا شخص اصل ہے۔

جسٹس شمیم کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا۔ انہوں نے میرے روبرو اکیلے دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ چارلس گتھری پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو خدمات فراہم کرتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ پاکستان فارن آفس بشمول نیب کیلئے دستاویزات کی تصدیق کرتے ہیں۔

انہوں نے ہی پاناما سے جڑی دستاویزات کی تصدیق کی تھی جو نیب نے لندن سے حاصل کرکے پاکستان میں 2017ء میں پیش کی تھیں۔ چارلس گتھری نے بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کیا تنازع شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی موزوں ذریعے سے کوئی دستاویز پیش ہوگی تو وہ اس کی تصدیق کریں گے، میں آزاد اور غیر جانبدار ہوں، کوئی سیاسی آدمی نہیں، لہٰذا اگر پاکستانی ہائی کمیشن مجھ سے کہے کہ درست اور اصل دستاویزات کی تصدیق کرو ں تو میں کروں گا۔ میں نے ماضی میں بھی یہ کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹری پبلک ایک آزاد اور غیر جانبدار شخص ہوتا ہے جو دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے اور حلف لیتا ہے۔ نوٹری پبلک ایک وکیل سے مختلف ہے کیونکہ وہ کسی مخصوص شخص کیلئے کام کرتا ہے اور مخصوص پارٹی کیلئے کام کرتا ہے۔ اس نمائندے کو معلوم ہے کہ کم از کم تین لوگوں نے چارلس گتھری کے حوالے سے ایک خفیہ آپریشن کرنے کی کوشش کی، اسے دستاویزات کی تصدیق کیلئے فیس دی اور اس کے بعد یہ خبر نکالنے کی کوشش کی کہ جیسے حلف نامہ جعلی تھا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جسٹس شمیم پر کوئی دبائو تھا یا پھر اوتھ کمشنر نے کوئی غلط کام کیا ہے۔

تاہم، یہ اسٹنگ آپریشن کامیاب نہ ہوا کیونکہ چارلس گتھری اپنی قانونی اور حقیقی پوزیشن پر برقرار رہے۔ چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ دی نیوز اور جنگ میں رانا شمیم کا حلف نامہ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں کئی لوگوں سے سوالات موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا، میں جانتا ہوں یہ خبر پاکستان میں بڑی خبر بن کر سامنے آئی، عموماً میں اس حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کر دیتا ہوں یا پھر اس سے زیادہ نہیں کہتا کہ جس شخص نے میرے روبرو دستخط کیے میں نے اس کی شناخت کی تھی، جس وقت رانا شمیم نے حلفاً دستاویز پر دستخط کیے تھے اس وقت وہ میرے ساتھ تنہا تھے۔

سورس
اب تو ن لیگ اس کو عدالت میں لازمی لے کر جائے گی😂
 

pcdoc24x7

Minister (2k+ posts)
I don't understand what's the big deal .... He is a notary public who gets paid to witness and then stamp and sign on a statement.... That's his frikkin job. The bigger question is how does he know the statement provided is factually accurate or not? Rus-gullay banto ... Seriously patwari nation is totally idiot.
 

Eigoroll

Councller (250+ posts)
Keep dragging foreigners into your mess, loser nation. Keep reinforcing the idea to the whole world that your are incompetent, imbicile, mentaly immature lilliputians who can't solve their own problems. No wonder green passport is humiliated in the world. Who would respect a person or a nation whose lack of integrity and self respect are known to everyone.
 

pinionated

Senator (1k+ posts)
He is a notary…. I can take a letter saying that I claim that Bilawal is a gay transvestite and get it notarized!
 

ahameed

Minister (2k+ posts)
ظاہر ہے تمہاری پکوڑہ برادری کے ٹرک دروازے پر ہی موجود ہونگے ۔​
ان کو تو آسان حل نہیں ھے کہ ایک دو فلیٹس کی منی ٹریل ان کے منہ پر ماریں؟؟؟
 

Siberite

Minister (2k+ posts)
ان کو تو آسان حل نہیں ھے کہ ایک دو فلیٹس کی منی ٹریل ان کے منہ پر ماریں؟؟؟

مشکل تو پکوڑہ برادری کے لیے کچھ بھی نہیں ، صرف دو ردی کے ٹرک ہی لے جانے ہیں ۔ جب اسمتھ فیملی کے تہہ خانے میں بنائے جانے والے قبل العمران کے دستاویزاتی ثبوت ثاقب نثار قبول کرسکتا ہے تو پھر تو ھر شے آسان ہے ، مراد سعید کی طرح اداکاری کرتے ہوئے ثاقب نثار کے منہ پرچپکائے گئے ۔​
 

ahameed

Minister (2k+ posts)
مشکل تو پکوڑہ برادری کے لیے کچھ بھی نہیں ، صرف دو ردی کے ٹرک ہی لے جانے ہیں ۔ جب اسمتھ فیملی کے تہہ خانے میں بنائے جانے والے قبل العمران کے دستاویزاتی ثبوت ثاقب نثار قبول کرسکتا ہے تو پھر تو ھر شے آسان ہے ، مراد سعید کی طرح اداکاری کرتے ہوئے ثاقب نثار کے منہ پرچپکائے گئے ۔​
تو پھر اپنی نااہل فیملی سے شکوہ کریں کہ انھوں نے تہہ خانے سے ایسی چیزیں نکالنے کی بجائے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا😂😂
 

crankthskunk

Chief Minister (5k+ posts)
Don't trust what this fuck Murtaza reports. He is a pet dog of Sharifs, he stands there everyday, ready to publish what Sharifs wants as a news item. When last I twitted to him on a matter which related to British Tax payers and also drops in the Met police twitter handle, he promptly blocked me.

The Notary can never testify for the truthfulness of any one's affidavit. They only confirms the ID of the persons, like he said by looking at his Passport , ID cards etc. or in the UK photo driving licence to confirm the person, which is signing the doc is genuine. That's all the role of a notary. Nothing more than that. This is an attempt by Murtaza to clear Sharifs, like a pet dog of them.
 

Shazi ji

Chief Minister (5k+ posts)
تو پھر اپنی نااہل فیملی سے شکوہ کریں کہ انھوں نے تہہ خانے سے ایسی چیزیں نکالنے کی بجائے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا😂😂
ahameed does not know any politics but thinks he is educated
بچے پڑھنا شروع کر
 

ahameed

Minister (2k+ posts)
ahameed does not know any politics but thinks he is educated
بچے پڑھنا شروع کر
جناب منی ٹریل میں بھی سیاست ہوتی ھے، تو پھر آپ یقیناً ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ مجھے سیاست کا کچھ نہیں پتہ

میں تو سمجھا تھا کہ بینک ٹرانزیکشن دکھا کر میاں جی سب سازشوں کا ناکام بنا سکتے ہیں
 

Siberite

Minister (2k+ posts)
تو پھر اپنی نااہل فیملی سے شکوہ کریں کہ انھوں نے تہہ خانے سے ایسی چیزیں نکالنے کی بجائے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا😂😂


ھر ایک اسمتھ فیملی جتنا گہرا اور لمبا تہہ خانہ نہیں رکھتا ۔​
 

ranaji

President (40k+ posts)
ابے گدھے کے بچے اوتھ کمشنر حلف نامہ کی تصدیق تو سچی ہی ہے اگر میں ایک حلف نامہ دوں اور اور اس میں لکھوں کہ میرے پاس چوہدری افتخار چیف جسٹس آیا ہوا تھا اور اس نے میرے سامنے فون کرکے ایک اور جج کو کہا کہ جج شمیم حرام زادہ ہے اور کسی سور کی اولاد ہے اور حلف نامہ لکھ کر کسی بھی اوتھ کمشنر سے اس کو اٹسٹ کراؤں تو وہ حلف نامہ بھی اصلی ہوگا اور تصدیق بھی اصل کیونکہ اوتھ کمشنر میری تصدیق کرے گا کہ یہ اس حلف نامے پر میرے ہیُ دستخط ہیں۔ اور میں نے یہ حلف نامہ پڑھ کر سمجھ کر دستخط کئے ہیںُ اور وہ دستخط اس اوتھ کمشنر کے سامنے کئے ہیں اور اس نے میرے دستخط کی تصدیق کی ہے اب وہ حلف نامہ بھی اصلی ہے اور تصدیق بھی اصلی مگر کیا اوتھ کمشنر نے یہ بھی تصدیق کردی کہ جج شمیم حرام زادہ بھی ہے اور کسی سور کا بچہ بھی ہے نہیں یہ تصدیق نہیں ہوئی نہ ہی کوئی بھی یہُ تصدیق کرسکتا ہے کہُ۔ جو میں اس میں لکھا وہ سچ ہے یا جھوٹ اس کے لئے مجھے ثبوت دینے ہوگے کہ جج شمیم حرام زادہ بھی ہے اور سور کا بچہ بھی ہے اسی طرح اس نے کہا میں نے سنا لکھ کر کوئی بھی جھوٹی کہانی لکھ کر ایک ہزار حلف نامے اصلی اور تصدیق شدہ اسی گھترئ سے تصدیق کرا کے میں دے سکتا ہوں لیکن میرے لئے اب ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ بڈھا جج شمیم حرام زادہ ہے اور سور کا بچہ ہے میرا حلف نامہ بھی اصلی ہے اور تصدیق بھی اصلی مگر اندر جو لکھا ہے میں جو مرضی جھوٹ لکھ دوں چاہے میں اپنے حلف نامے میں لکھ دوں کہ جج شمیم کا باپ جارج بش سینئیر ہے پھر بھی میرا حلف نامہ اصلی ہوگا اور تصدیق بھی اصلی مگر اندر میں نے جھوٹ لکھا۔ اب مجھے اس جھوٹ کو یا تو سچ ثبوت کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا یا پھر جھوٹ کی سزا اور توہین عدالت کی سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا
 

ahameed

Minister (2k+ posts)
ھر ایک اسمتھ فیملی جتنا گہرا اور لمبا تہہ خانہ نہیں رکھتا ۔​
منی ٹریل کی بجائے قطری خط دو گے تو سزا تو ملے گی، اس میں غلط کیا ھے کہ جب تک دنیا کے سارے چوروں کو سزا نہ ہو جائے میرے میاں جی کو نہیں پوچھ سکتے؟؟؟
 
Last edited:
Sponsored Link