فیصل آباد:خواتین کو برہنہ کرنے کا واقعہ، فوٹیج نے تفتیش کا رخ موڑ دیا؟

chak-fsl.jpg


فیصل آباد کے علاقے ملت ٹاؤن میں گزشتہ روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جس میں ابتدائی معلومات کے مطابق خواتین نے دکان پر چوری کی تو دکان کے مالک نے اپنے ملازموں اور دیگر دکانداروں کے ساتھ مل کر ان خواتین کو محبوس کیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز دل دہلا دینے والے تھیں جن میں خواتین کو سرعام سڑک پر برہنہ حالت میں دیکھا گیا اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ان خواتین کے کپڑے دکانداروں نے ہی پھاڑے ہیں۔

مگر آج سوشل میڈیا پر اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر یوں لگ رہا ہے کہ جیسے تفتیش کا رخ بدل گیا ہے کیونکہ اس فوٹیج میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین دکان میں گھسیں، انہوں نے پانی پینے کی اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر وہ سامنے پڑے کولر سے پانی پینے کی بجائے دکان کے پچھلے حصے میں زبردستی داخل ہو گئیں۔


دکاندار ان خواتین کو پچھلے حصے میں جانے سے روکتا ہے اور بعد ازاں جب وہ صورتحال کو قابو سے باہر سمجھتا ہے تو باہر آکر دیگر دکانداروں سے مدد مانگتا ہے۔

اسی دوران یہ خواتین دکان سے باہر نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتی ہیں مگر وہ ان میں سے ایک کو پکڑ لیتا ہے جبکہ ان میں سے ایک خاتون کے کپڑوں کو پھٹا ہوا دیکھ کر وہ چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خواتین اس کے ساتھ ہاتھاپائی پر اتر آتی ہیں تو جواب میں دکاندار بھی ان کے ساتھ دست درازی کرتے ہوئے تشدد پر اتر آتا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خواتین کچھ دور جا کر خود ہی اپنے کپڑے پھاڑ کر واپس آکر اپنی ساتھی کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہیں مگر تب تک دیگر دکاندار بھی پہنچ جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر یہ سب پکڑی جاتی ہیں۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ عورت کی عزت کرنی چاہیے لیکن جو عورت اپنی عزت کی خود حفاظت نہ کرے دوسرے کو کیا کہنا۔ ایسی عورت دوسری عورتوں کیلئے بھی خطرہ ہیں ان کو ٹھیک کرنا چاہیے ورنہ معاشرہ کبھی ٹھیک نہی ہو گا۔


یمنیٰ طارق نے کہا کہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان میں سے حق پر کون تھا مگر اس طرح برہنہ خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو پوسٹ نہیں کرنا چاہیے۔


رضوانہ غضنفر نے کہا کہ معاملے کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے۔


جاوید مشہود نے سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پچھلے کمرے سے نکلتے ہی خاتون نے خود اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور دیگر خواتین نے کچھ دور جا کر خود اپنے کپڑے اتارے۔


اردو شو نامی پلیٹ فارم کی جانب سے اس واقعے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی گئی اور بتایا گیا کہ کس طرح یہ واقعہ پیش آیا۔


یہ واقعہ بہرحال اپنے آپ میں ایک سانحہ جیسا ہے جس میں خواتین نے خود اپنا لباس اتارا اور پھر دکانداروں پر برہنہ کرنے کا الزام تھونپ دیا، مگر جس طرح خواتین کو سرعام ہجوم کے سامنے گھسیٹا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا وہ بھی قابل مذمت اور قابل سزا جرم ہے۔
 
Advertisement

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
chak-fsl.jpg


فیصل آباد کے علاقے ملت ٹاؤن میں گزشتہ روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جس میں ابتدائی معلومات کے مطابق خواتین نے دکان پر چوری کی تو دکان کے مالک نے اپنے ملازموں اور دیگر دکانداروں کے ساتھ مل کر ان خواتین کو محبوس کیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز دل دہلا دینے والے تھیں جن میں خواتین کو سرعام سڑک پر برہنہ حالت میں دیکھا گیا اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ان خواتین کے کپڑے دکانداروں نے ہی پھاڑے ہیں۔

مگر آج سوشل میڈیا پر اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر یوں لگ رہا ہے کہ جیسے تفتیش کا رخ بدل گیا ہے کیونکہ اس فوٹیج میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین دکان میں گھسیں، انہوں نے پانی پینے کی اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر وہ سامنے پڑے کولر سے پانی پینے کی بجائے دکان کے پچھلے حصے میں زبردستی داخل ہو گئیں۔


دکاندار ان خواتین کو پچھلے حصے میں جانے سے روکتا ہے اور بعد ازاں جب وہ صورتحال کو قابو سے باہر سمجھتا ہے تو باہر آکر دیگر دکانداروں سے مدد مانگتا ہے۔

اسی دوران یہ خواتین دکان سے باہر نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتی ہیں مگر وہ ان میں سے ایک کو پکڑ لیتا ہے جبکہ ان میں سے ایک خاتون کے کپڑوں کو پھٹا ہوا دیکھ کر وہ چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خواتین اس کے ساتھ ہاتھاپائی پر اتر آتی ہیں تو جواب میں دکاندار بھی ان کے ساتھ دست درازی کرتے ہوئے تشدد پر اتر آتا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خواتین کچھ دور جا کر خود ہی اپنے کپڑے پھاڑ کر واپس آکر اپنی ساتھی کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہیں مگر تب تک دیگر دکاندار بھی پہنچ جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر یہ سب پکڑی جاتی ہیں۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ عورت کی عزت کرنی چاہیے لیکن جو عورت اپنی عزت کی خود حفاظت نہ کرے دوسرے کو کیا کہنا۔ ایسی عورت دوسری عورتوں کیلئے بھی خطرہ ہیں ان کو ٹھیک کرنا چاہیے ورنہ معاشرہ کبھی ٹھیک نہی ہو گا۔


یمنیٰ طارق نے کہا کہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان میں سے حق پر کون تھا مگر اس طرح برہنہ خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو پوسٹ نہیں کرنا چاہیے۔


رضوانہ غضنفر نے کہا کہ معاملے کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے۔


جاوید مشہود نے سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پچھلے کمرے سے نکلتے ہی خاتون نے خود اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور دیگر خواتین نے کچھ دور جا کر خود اپنے کپڑے اتارے۔


اردو شو نامی پلیٹ فارم کی جانب سے اس واقعے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی گئی اور بتایا گیا کہ کس طرح یہ واقعہ پیش آیا۔


یہ واقعہ بہرحال اپنے آپ میں ایک سانحہ جیسا ہے جس میں خواتین نے خود اپنا لباس اتارا اور پھر دکانداروں پر برہنہ کرنے کا الزام تھونپ دیا، مگر جس طرح خواتین کو سرعام ہجوم کے سامنے گھسیٹا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا وہ بھی قابل مذمت اور قابل سزا جرم ہے۔
Prophet’s words that there will come a time when no one will be able to tell a perpetrator and a victim apart seem to have been proving true already.
 

Eigoroll

Councller (250+ posts)
Prophet’s words that there will come a time when no one will be able to tell a perpetrator and a victim apart seem to have been proving true already.
Absolutely. I have come across many such cases on this forum within last few months where the women were proven to be falsely accusing others of molestation, Including that famous Minar- Pakistan Tik Toker's case.
 

such786

Senator (1k+ posts)
Camera svae the truth otherwise shopkeeper would have lost his chracter and business reputation too.
 
Sponsored Link