مجرموں کی حوالگی کیلئے پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ طے

18%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%A6%DA%A9%DA%86%D8%AA%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%AF%D8%B1%D8%B9%D8%B9%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%AA%DB%8C.jpg

غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی پاکستان حوالگی کیلئے پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے مابین غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی پاکستان حوالگی کیلئے پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ برطانوی وزیرداخلہ پریتی پٹیل اور پاکستانی آفیشل نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے بعد پاکستان اور برطانیہ اپنے سزا یافتہ مجرمان کو ایک دوسرے کے ممالک واپس بھیج سکیں گے۔ معاہدے سے صرف ایسے شہریوں کو واپس لانے کی اجازت ہوگی جن کو متعلقہ عدالتیں سزائیں سنا چکی ہیں جبکہ دہری شہریت والے شہریوں پر معاہدے کا اطلاق نہیں ہو گا۔


برطانوی وزیر داخلہ ورکن پارلیمنٹ برائے ویتھم پریتی پاٹیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ: بریکنگ نیوز! پاکستان کے ساتھ غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی برطانیہ سے واپس پاکستان حوالگی کے ایک نئے تاریخی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ ہمارے امیگریشن کے حوالے سے نئے منصوبے کی عملی شکل میں تکمیل ہے جس کا ہم نے برطانوی عوام سے وعدہ کیا تھا۔


ایک اور ٹویٹ میں معاہدے کرنے کی تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے برطانیہ وزیر داخلہ پریتی پاٹیل نے لکھا کہ: ہمارا نیا معاہدہ خطرناک غیر ملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف ہے جنہیں برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ برطانوی عوام کے پاس کافی حد تک ایسے لوگ ہیں جو ہمارے قوانین کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ہمارے سسٹم کو چیلنج کر رہے ہیں، یہ سب کچھ ہم بدلنا چاہتے ہیں۔

مجرموں اور غیرقانونی تارکین کی حوالگی کے حوالے سے معاہدے پر پاکستان اور برطانیہ میں مذاکرات کا پہلا دورہ 2019 میں ہوا تھا جس میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ اپریل 2021ء میں کرسچن ٹرنر نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملاقات میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی حوالگی اور وطن واپسی کے متعلق بات چیت کی تھی۔ نئے معاہدے کے تحت پاکستان نے پاکستانی شہریوں اور طلبہ کے ویزے کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی تھی۔ برطانیہ نے اس پر پیشرفت کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اپنی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کے حوالے سے معلومات ایک دوسرے کو دینے کے پابند ہوں گے جبکہ معاہدے کا سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
Premium Member
18%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%A6%DA%A9%DA%86%D8%AA%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%AF%D8%B1%D8%B9%D8%B9%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%AA%DB%8C.jpg

غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی پاکستان حوالگی کیلئے پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے مابین غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی پاکستان حوالگی کیلئے پاکستان اور برطانیہ میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ برطانوی وزیرداخلہ پریتی پٹیل اور پاکستانی آفیشل نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے بعد پاکستان اور برطانیہ اپنے سزا یافتہ مجرمان کو ایک دوسرے کے ممالک واپس بھیج سکیں گے۔ معاہدے سے صرف ایسے شہریوں کو واپس لانے کی اجازت ہوگی جن کو متعلقہ عدالتیں سزائیں سنا چکی ہیں جبکہ دہری شہریت والے شہریوں پر معاہدے کا اطلاق نہیں ہو گا۔


برطانوی وزیر داخلہ ورکن پارلیمنٹ برائے ویتھم پریتی پاٹیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ: بریکنگ نیوز! پاکستان کے ساتھ غیرملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کی برطانیہ سے واپس پاکستان حوالگی کے ایک نئے تاریخی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ ہمارے امیگریشن کے حوالے سے نئے منصوبے کی عملی شکل میں تکمیل ہے جس کا ہم نے برطانوی عوام سے وعدہ کیا تھا۔


ایک اور ٹویٹ میں معاہدے کرنے کی تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے برطانیہ وزیر داخلہ پریتی پاٹیل نے لکھا کہ: ہمارا نیا معاہدہ خطرناک غیر ملکی مجرموں اور غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف ہے جنہیں برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ برطانوی عوام کے پاس کافی حد تک ایسے لوگ ہیں جو ہمارے قوانین کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ہمارے سسٹم کو چیلنج کر رہے ہیں، یہ سب کچھ ہم بدلنا چاہتے ہیں۔

مجرموں اور غیرقانونی تارکین کی حوالگی کے حوالے سے معاہدے پر پاکستان اور برطانیہ میں مذاکرات کا پہلا دورہ 2019 میں ہوا تھا جس میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ اپریل 2021ء میں کرسچن ٹرنر نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملاقات میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی حوالگی اور وطن واپسی کے متعلق بات چیت کی تھی۔ نئے معاہدے کے تحت پاکستان نے پاکستانی شہریوں اور طلبہ کے ویزے کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی تھی۔ برطانیہ نے اس پر پیشرفت کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اپنی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کے حوالے سے معلومات ایک دوسرے کو دینے کے پابند ہوں گے جبکہ معاہدے کا سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
جبھی تو مفرور مجرم نواز کتا واپس آ رہا ہے
 

Champion 01

Chief Minister (5k+ posts)
جبھی تو مفرور مجرم نواز کتا واپس آ رہا ہے
اس حرام خور چور کا کتے سے بھی برا حال کرے گی پاکستان کی قوم، بس یہ بھگوڑا بزدل جاتی امرا کا دلا واپس آ جاۓ سہی۔
 

Raiwind-Destroyer

Chief Minister (5k+ posts)
This is signed only for failed asylum seekers so its easier to send them back

All the criminals of Pakistan are still welcome
 

Rajarawal111

Prime Minister (20k+ posts)
جب وقت تھا تو عمران خان سے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کیا - اب چوروں کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے
سمجھ رھے ہیں عمران خان بھاگ جاۓ گا - اس کا راستہ بند کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں


LONDON: The UK signed a major deal with Pakistan on Wednesday, under which foreign criminals and immigration offenders from the UK can be returned to Pakistan.

UK Home Secretary Priti Patel hailed the development on Twitter, saying that “I’m proud to have signed a new landmark agreement with our Pakistani friends to return foreign criminals and immigration offenders from the UK to Pakistan. This deal shows our #NewPlanForImmigration in action, as we deliver for the British people”.


“I make no apology for removing dangerous foreign criminals and immigration offenders who have no right to remain in the UK. The British public have quite rightly had enough of people abusing our laws and gaming the system so we can’t remove them,” the statement quoted Ms Patel as saying.

“This agreement, which I am proud to have signed with our Pakistani friends, shows the New Plan for Immigration in action and the government delivering.”

Legal expert says agreement will allow Britain to deport ‘unwanted persons’, even those who have no ties, to Pakistan
“Our new Borders Act will go further and help end the cycle of last-minute claims and appeals that can delay removals.”

A statement from the Pakistani High Commission said: “The agreement renews and updates, in a bilateral context an earlier agreement between Pakistan and the European Community regarding readmission of persons residing without authorisation concluded in Oct 2009. The bilateral agreement was necessitated by the exit of the UK from the European Union.”

A photo tweeted with the announcement showed Ms Patel at a signing ceremony with Interior Secretary Yousaf Naseem Khokhar. A statement said the home secretary met with Mr Khokhar and the Pakistan High Commissioner to the UK, Moazzam Ahmad Khan, to sign the reciprocal agreement.

Under the new plan, Pakistani nationals with no legal right to remain in the UK, including criminals, failed asylum seekers and immigration offenders, will reportedly be removed.

The statement said Pakistan nationals make up the seventh largest number of foreign criminals in prisons in England and Wales totalling nearly 3pc of the foreign national offender population.

“The agreement underlines both countries’ ongoing commitment to tackling the issue of illegal migration and the significant threats it poses to both nations. The agreement also includes ongoing work to improve and expand UK-Pakistani law enforcement cooperation,” it said.

Bad news for Pakistan

Though Pakistan has demanded an extradition treaty with the UK for years, this agreement falls short of that. Some lawyers see it as a blow to Pakistan, which may now see an influx of deported criminals from the UK — even those who have never visited Pakistan.

“This is a very negative step for Pakistan,” UK-based immigration law expert Mohammad Amjad told Dawn. “Last year, the Pakistani government was presented with this deal and refused to sign it, because fundamentally it will allow serious criminals to be deported to Pakistan without critical information sharing. This will present huge problems for Pakistan.”

Mr Amjad cited the case of Sohail Ayaz, a convicted pedophile and child abuser who was deported to Pakistan from the UK, but exploited the absence of an information-sharing mechanism and continued his criminal activities in Pakistan. In 2019, he was arrested for the rape and assault of upto 30 minors, despite being convicted of similar offences by a UK court in 2008.

He said: “Such issues will increase. Some criminals may be deported who have no links to Pakistan, and they will pose an even greater threat as they have no family network once they are sent back. The only beneficiary is the UK.”

The deal with Pakistan came after deals were signed with Albania and India last year, as well as Serbia and Nigeria this year. Pakistan’s deal appears similar to the agreements signed with Albania, Serbia and Nigeria where illegal immigrants and criminal offenders will be removed from the UK.

The deal with India, however, was more of a migration partnership deal, which allowed young British and Indian nationals to work and live in each other’s countries.

Published in Dawn, August 18th, 2022

 
Sponsored Link