محمد رضوان کی صحت یابی ایک معجزہ ہے،ہارٹ اٹیک کا خدشہ تھا:ڈاکٹر

rizwan-dr-hos.jpg


رضوان کی صحت یابی ایک معجزہ ہے،ڈاکٹر

پاکستان کے وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان ہردل عزیز ہیں، انہوں نے سیمی فائنل میں اس وقت ہمت کا مظاہرہ کیا جب وہ زندگی اور موت سے لڑ رہے تھے،سینے کے انفکیشن کے باعث آئی سی یو میں تھے۔

سیمی فائنل سے کچھ روز قبل محمد رضوان کی طبیعت انتہائی ناساز تھی اور وہ آئی سی میں زیر علاج تھے، اس کے باجود انہیں اپنی ٹیم کی جیت کی فکر تھی، یہی وجہ تھی کہ بیماری کے باوجود وہ میدان میں اترے اور شاندار کاکردگی دکھائی۔


محمد رضوان کے چاہنے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کے ڈاکٹر سہیر زین العابدین کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین کو اسپتال لایا گیا تو ہارٹ اٹیک کا خدشہ تھا، ان کے سینے میں شدید درد ناقابل برداشت تھا۔


انہوں نے کہا کہ رضوان کو فوری طور پر یہ چیک کیا گیا کہ کہیں یہ ہارٹ تو نہیں، دراصل گلے میں انفیکشن کی وجہ سے ان کی سانس اور کھانے کی نالیاں سکڑ گئی تھیں،ڈاکٹر نے بتایا کہ ایمرجنسی میں موجود میڈیکل ٹیم نے دواؤں کے ذریعے سینے کا درد کم کیا پھر انھیں آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔

ڈاکٹر کے مطابق محمد رضوان دوران علاج یہی کہتے رہے کہ انھیں ٹیم کے پاس واپس جانا ہے، میچ کھیلنا ہے، عام طور پر اس طرح کی حالت میں مریض کو ٹھیک ہونے میں پانچ سے سات روز لگتے ہیں لیکن رضوان کی حالت میں غیرمعمولی طور پر بہت جلدی بہتری آئی۔

ڈاکٹر نے کہا کہ رضوان کی جلدی صحت یابی ایک معجزہ ہے،جس سے سب ہی حیران ہوئے،رضوان کا اللہ پر یقین اور ان کی توجہ نے انہیں سیمی فائنل میں کھیلنے کے قابل بنایا،انہوں نے انتہائی علیل ہونے کے باجود شاندار بیٹنگ کی، 52 گیندوں پر 67 رنز بنائے اور پاکستان کو بورڈ پر ایک معقول رنز دیئے،محمد رضوان نے ڈاکٹر سہیر کو اپنی پاکستانی ٹیم کی ٹی شرٹ خصوصی طور پر پیش کی۔

 
Advertisement

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
ایکدن میں تو کوی اتنا سخت بیمار نہیں ہوتا۔ رضوان بہت انرجیٹک ہے مگر ایک بندہ بیٹنگ بھی کررہا ہے اور کیپنگ بھی اسے آپ مسلسل کھلاتے اور ضائع کرتے جارہے تھے حالانکہ ورلڈ کلاس کیپر اور بلے باز سرفراز بھی ساتھ تھا کم از کم آخری دو میچز ہی اسے کھلا لیتے اور حسن کی جگہ بھی کوی نیا باولر آزما لیتے جو ہو سکتا ہے سیمی فائنل میں کام آجاتا اور رضوان بھی بیماری سے بچ جاتا مگر ان کو پتا نہیں کس نے توہمات میں ڈال دیا تھا کہ ٹیم چینج نہیں کرنی کوی ہلکا بیمار ہے تو اسے بھی کھلاتے جاو یہاں تک کہ وہ آی سی یو میں پنہچ جاے، ٹیم چینج کردی تو بدشگونی ہوجاے گی یہ ہندووانہ سوچ ہے۔
میرے خیال میں آخری دو میچ جو بہت آسان حریف کے ساتھ تھے نیمیبیا اور سکاٹ لینڈ ان مین حسن، رضوان اور حفیظ کو ریسٹ دینی چاہئے تھی
 
Sponsored Link