ن لیگی رہنما حنابٹ کا اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات کا اعتراف

ary-news-hina-butt-pmln.jpg


مسلم لیگ ن کی ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے نجی چینل اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات کا اعتراف کرلیا، ٹویٹ میں کہا کہ جو چینل اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اسے بند نہ کریں تو کیا کریں؟

مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کرنے کے احکامات کا اعتراف کرلیا لیگی رکن اسمبی نے ٹوئٹ میں لکھا جو چینل اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اسے بند نہ کریں تو کیا کریں۔

مزید لکھا کہ اے آر وائی نہ صرف حکومت کے خلاف بلکہ آرمی اور کیخلاف بھی جھوٹا پروپیگنڈا کرے اور ریاست مخالف حرکات سے بھی باز نہ آئے تو ایسے چینل کو حکومت بند نہ کرے تو کیا کرے؟


یاد رہے کہ پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد اسلام آباد، لاہور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں نشریات بند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات ہیں کسی چینل کو بند یا نمبر تبدیل نہیں کیاجاسکتا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود اے آر وائی نیوز کی نشریات کیبل پر بند کی جارہی ہیں۔ اے آر وائی نیوز کی نشریات حکومتی میڈیا سیل کا بھانڈا پھوڑنے پر بند کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ سمیت دیگر صحافتی تنظیموں نے اے آر وائی نیوز کی بندش کی سخت مذمت کرتے ہوئے نشریات فوری بحال نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔
 

Lubnakhan

Minister (2k+ posts)
You can clearly see the caliber of these so called women politicians by their choice of words. They don’t even bother to act like politicians. For them government is about use of power against dissident voice, to crush and hush anyone who is defying them. Law and constitution is nothing for them.
 

Husaink

Prime Minister (20k+ posts)
ary-news-hina-butt-pmln.jpg


مسلم لیگ ن کی ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے نجی چینل اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات کا اعتراف کرلیا، ٹویٹ میں کہا کہ جو چینل اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اسے بند نہ کریں تو کیا کریں؟

مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کرنے کے احکامات کا اعتراف کرلیا لیگی رکن اسمبی نے ٹوئٹ میں لکھا جو چینل اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اسے بند نہ کریں تو کیا کریں۔

مزید لکھا کہ اے آر وائی نہ صرف حکومت کے خلاف بلکہ آرمی اور کیخلاف بھی جھوٹا پروپیگنڈا کرے اور ریاست مخالف حرکات سے بھی باز نہ آئے تو ایسے چینل کو حکومت بند نہ کرے تو کیا کرے؟


یاد رہے کہ پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد اسلام آباد، لاہور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں نشریات بند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات ہیں کسی چینل کو بند یا نمبر تبدیل نہیں کیاجاسکتا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود اے آر وائی نیوز کی نشریات کیبل پر بند کی جارہی ہیں۔ اے آر وائی نیوز کی نشریات حکومتی میڈیا سیل کا بھانڈا پھوڑنے پر بند کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ سمیت دیگر صحافتی تنظیموں نے اے آر وائی نیوز کی بندش کی سخت مذمت کرتے ہوئے نشریات فوری بحال نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔
اس عورت کی شکل غور سے دیکھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایک سٹنٹڈ گروتھ کا کیس ہے اسکی ذہنی نشو نما کہیں راستے میں رک گئی ہے
😱
 

Muskerahat

Chief Minister (5k+ posts)
اس عورت کی شکل غور سے دیکھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایک سٹنٹڈ گروتھ کا کیس ہے اسکی ذہنی نشو نما کہیں راستے میں رک گئی ہے
😱
and half khusra
 
Sponsored Link