وزرا نے بیانات منصوبہ بندی سے دیے،حکومت فوج کوبدنام کررہی ہے،عارف حمید بھٹی

10bhattifoajbadnam.jpg

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ن لیگ کے اہم رہنماوں پر ڈیل مانگنے کا الزام سیدھا اسٹیبلشمنٹ پر الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام 'خبر ہے' میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اگر کسی مجرم کو ڈیل دی جارہی ہے تو کون دے رہا ہے، سیدھا سیدھا حکومت فوج کو بدنام کررہی ہے۔

سینئر تجزیہ کار نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور اگر کوئی کہتا ہے کہ ڈیل ہے تو ثبوت لے کر آئے، ایسے میں وزراء کی جانب سے اس طرح کے بیان سیدھا سیدھا فوج کو بدنام کرنے کے لئے ہیں۔



انہوں نے مزید کہا کہ فواد چوہدری بڑے پرانے سیاستدان ہیں وکٹ کے دونوں طرف بہت اچھے سے کھیلتے ہیں لیکن اب جب بقول ان کے ڈیل ہو رہی ہے تو یہ بھی بتا دیں کہ ڈیل کے لئے چاروں ن لیگی کس کے پاس گئے ہیں۔

ڈیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار طاہر ملک کا کہنا تھا کہ یہ سیدھا اسٹیبلشمنٹ پر الزام ہے، کوئی ڈیل لینے کس کے پاس جاسکتا ہے، ایک وزیراعظم دوسرا اسٹیبلشمنٹ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے وضاحت کر دی کہ کوئی ڈیل نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو اسی سے پوچھیں کہ کون کر رہا ہے ڈیل کیا محرکات ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ آج ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ڈیل پر بیان دے دیا جس کے ذریعے حکومت نے کامیابی سے کنفیوژن پیدا کر دیا ہے کہ یہاں فیصلے نہ اسمبلیوں میں ہوتے ہیں نہ پارلیمنٹ میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ن لیگ 4 بڑے رہنما ڈیل مانگ رہے ہیں کہ ہمارے بارے میں سوچا جائے ہم تیار ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے شریف خاندان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف فیملی نے حکومت سے چار لوگوں کی ڈیل مانگی ہے تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر جا سکیں۔

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھاکہ ڈیل مانگی جارہی ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کو باہر جانے دیں۔ جن لوگوں کیلئے ڈیل مانگی جا رہی ہے ان میں شہباز شریف، ان کا بیٹا، نواز شریف اور ان کی بیٹی شامل ہیں۔ شاہد خاقان عباسی پاکستان میں ہی رہیں گے۔

شہباز گل نے کہا کہ شریف فیملی کو ڈیل نہیں دی جائے گی، یہ چکن برگر مانگ رہے ہیں ، ہم انہیں ابلا ہوا آلو بھی نہیں دیں گے، ان کے سامنے عمران خان کھڑا ہے، احتساب ہوگا اور یہ تمام لوگ جیل جائیں گے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا ویزا برطانیہ میں جلد منسوخ ہونے والا ہے، بتانا پڑے گا کہ چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں کروڑوں اربوں روپے کہاں سے آئے، جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب ووٹ کا مقابلہ ووٹ سے ہو گا، ٹھگوں کے خلاف الیکشن لڑنا مشکل ہوتا ہے، آر ٹی ایس بیٹھنے کی بات کی جاتی ہے، نتائج کے بعد ایسے شخص کو جتوایا جس کا حلقے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان صحت کے شعبے میں انقلاب لے کر آئے ہیں اور غریبوں کو صحت کارڈ دیا ہے جس سے وہ مہنگے ہسپتالوں میں علاج کراسکتے ہیں۔
 
Advertisement

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام 'خبر ہے' میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اگر کسی مجرم کو ڈیل دی جارہی ہے تو کون دے رہا ہے، سیدھا سیدھا حکومت فوج کو بدنام کررہی ہے۔
جو مجرم لٹیرے ڈیل مانگ رہے ہیں وہ کتے بدنام کیوں نہیں ہو رہے دانشوڑ؟
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
سینئر تجزیہ کار نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور اگر کوئی کہتا ہے کہ ڈیل ہے تو ثبوت لے کر آئے، ایسے میں وزراء کی جانب سے اس طرح کے بیان سیدھا سیدھا فوج کو بدنام کرنے کے لئے ہیں۔
جب اپوزیشن ڈیل کی باتیں کرتی تھی تب فوج بدنام نہیں ہوئی کنجر صحافی ؟
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ آج ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ڈیل پر بیان دے دیا جس کے ذریعے حکومت نے کامیابی سے کنفیوژن پیدا کر دیا ہے کہ یہاں فیصلے نہ اسمبلیوں میں ہوتے ہیں نہ پارلیمنٹ میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
کنفیوژن اس وقت پیدا نہیں ہوئی تھی جب میڈیا اپوزیشن کیساتھ مل کر اس قسم کے بیانات چلاتا ہے؟ اب حکومت نے بھی وہی بات کی ہے تو کنفیوزن پیدا ہو گئی۔ منافقانہ صحافت
 
Sponsored Link