
بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد میں ایک جعلی پیر پر 14 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی کا شدید نوعیت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تھانہ صدر ہارون آباد میں درج ہونے والے مقدمے کے مطابق ملزم نے دم کرنے کے بہانے لڑکی کے گھر میں داخل ہو کر اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ لڑکی کے والد نے پولیس میں درخواست دائر کرتے ہوئے بتایا کہ جعلی پیر ان کی غیر موجودگی میں گھر آیا اور ان کی بیٹی کے ساتھ درندگی کی۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزم لڑکی کو طبیعت بگڑنے کے بہانے اپنے گھر لے گیا جہاں اس نے رات بھر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
اگرچہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور میڈیکل رپورٹ بھی موجود ہے، لیکن ملزم اب تک فرار ہے۔ متاثرہ لڑکی نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔
اس واقعے نے مقامی برادری میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب کسی جعلی پیر نے معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کی ہو۔ انہوں نے فوری انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام سے ملزم کی گرفتاری اور سخت سزا یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
ضلعی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ملزم کی تلاش جاری ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے جلد از جلد گرفتار کیا جائے"۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ عدالت تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں جعلی پیروں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے مجرموں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔