
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے تسلسل کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں نرمی کا مظاہرہ کریں، عمران خان کو بھی اپنے رویے میں نرمی لانا ہوگی۔
جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو اقتدار سے نکالنے،2018 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے پی ٹی آئی کی جیت سے ملک میں جمہوریت کی سپیس کم ہوگئی تھی،عمران خان کی حکومت جانے اور پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد یہ سپیس مزید کم ہوگئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ9 مئی کے بعد ملک میں جمہوریت کی سپیس تو بہت ہی کم ہوگئی ہے،اب صورتحال یہ ہے کہ جمہوری قوتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اور ان کی ڈکٹیشن پر ہی چلنا ہوگا، یہ جمہوری سپیس لینے کیلئے سیاستدانوں کو جدوجہد کرنی پڑے گی اور اس کیلئے عمران خان کو یہ سوچنا ہوگا کہ انہیں جمہوریت کی بقا کیلئےسیاسی جماعتوں کی جدوجہد میں شامل ہونا پڑے گا۔
سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اسی طرح دوسری جماعتیں بھی یہ سوچ لیں، اگر انہیں ملک میں جمہوریت چاہیے، اگر انہیں منتخب حکومت کا کردار ادا کرنا ہے تو اس کیلئے سیاسی سپیس پیدا کریں اور ایسا ماحول بنائیں کہ جمہوریت پھل پھول سکیں، پی ٹی آئی حکومت میں آکر پی ڈی ایم کو دبائے اور پی ڈی ایم جواب میں پی ٹی آئی کو دبانا شروع کردے تو ایسےجمہوریت کیسے پھل پھول سکے گی؟
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ اس وقت اسمبلی میں نام نہاد اپوزیشن موجود ہے، ایسے میں اپنی مرضی کی قانون سازی کرنا آسان ہے، یہ تمام قانون سازیاں جوابھی ہورہےہیں وہ ان کے سیاسی فائدے میں ہیں، یہ قانون یا تو پی ٹی آئی کے خلاف ہیں یا پی ڈی ایم والوں کیلئے فائدے کے ہیں، اسی لیے یہ دھڑا دھڑ بلز قومی اسمبلی سے پاس ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی قانون سازی ہو اس کے منفی و مثبت پہلوؤں پر غور و فکر ہونی چاہیے، اور یہ غورکیا جانا چاہیے کہ آنے والے وقتوں میں اس قانون کا کیا اثر پڑے گا، بہت سے قانون یہ بناتے ہیں اور بعد میں خود ہی ایسے قانون کے تحت پھنس جاتے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس وقت حکومت کا ایک مقصد ہے کہ پی ٹی آئی کو کس طریقے سے پھانسا جاسکتا ہے، اس کو کس طرح سے روکا جاسکتا ہےیا اس کی مقبولیت کو کم کیا جاسکتا ہے، یہ حکومت کا پہلا ٹارگٹ ہے، حکومت، اسٹیبلشمنٹ یا مقننہ سب کا ایک یہی فوکس ہے، 9 مئی کا جو واقعہ ان سے سر زد ہوگیا اب اس کی سزا تو بھگتنی ہوگی، عمران خان کو ابھی بھی چاہیےکہ وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کریں اور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے بات چیت کے دروازے کھولیں۔
Last edited by a moderator: