
اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے مذاکرات کا اشارہ خوش آئند ہے اور حکومت بھی سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام "لائیو وِد عادل شاہ زیب" میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کے لیے اپنی کمیٹی تشکیل دے گی لیکن اسپیکر آفس کو بہترین فورم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاحال تحریک انصاف نے اسپیکر کے ذریعے کوئی باضابطہ پیغام نہیں بھیجا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تحریک انصاف مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں کس قدر سنجیدہ ہے تاکہ معاملات طے کیے جا سکیں۔
رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمٰن اور وزیر اعظم کی متوقع ملاقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مدارس ایکٹ کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات سے قبل مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں احتجاج کے لیے نہیں آئیں گے۔
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تحقیقات کے لیے تیار ہے، لیکن تحریک انصاف کو کسی ایسے شخص کو سامنے لانا ہوگا جو کہے کہ وہ حکومتی گولی سے زخمی یا ہلاک ہوا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف سول نافرمانی کی دھمکی دینا چاہتی ہے تو دے، لیکن مذاکراتی عمل میں پیش رفت عملی اقدامات سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت کے ذریعے مذاکرات کی خبر ایک خوشگوار پیش رفت ہے اور پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی طرف سے سنجیدہ رویے کا اشارہ ملا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات تب ہی ممکن ہیں جب دونوں جانب سے باضابطہ رابطے قائم ہوں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہے۔ چند روز قبل قومی اسمبلی میں اپنی نشست پر واپس آتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن بینچوں کی طرف دیکھ کر کہا تھا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، جس سے سیاسی مسائل کے حل کی امید مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل ملکی استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/8ransssmuxaajratt.png