افغان طالبان کے پاکستانی معیشت پر طنز، ذمہ دار کون؟مہر بخاری کا جواب

1afghancrirtcize.jpg

افغانستان کی وزارت پٹرولیم و معدنیات کے ترجمان مفتی عصمت اللہ برہان نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی اقتصادی قمیض اتنی پھٹی ہوئی ہے کہ اس میں افغانستان سے ملنے والے کوئلے میں چند ملین ڈالر کے فائدے سے رفو نہیں ہو سکتا۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مہر بخاری نے طالبان کو بتایا ہے کہ کس طرح پاکستانی معیشت کی موجودہ حالت کا ذمہ دار افغانستان ہی ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان مفتی عصمت نے کہا کہ ان کی حکومت کا پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئلے کی تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور کوئلے کو افغان حکومت مستقبل میں پاکستان کے لیے بطور ’پریشر پوائنٹ‘ استعمال کر سکتی ہے۔


واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان سے کوئلے کی درآمد کے بارے میں ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے ملک کو دو ارب ڈالرز سے زیادہ بچت ہوگی۔

جس پر افغانستان کی وزارت پیٹرولیم کے ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان کی حکومت کا پاکستان کے ساتھ کوئلے کی برآمد کا کوئی معاہدہ ہے اور نہ کسی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہیں۔

افغان حکومت کے عہدیدار نے کہا کہ ہم نے حکومتی سطح پر اور نہ کسی پاکستانی کمپنی کے ساتھ کوئلے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے لیکن ہم کوئلہ مقامی صنعت کاروں کو بیچتے ہیں اور یہی کوئلہ مقامی صنعت کار پھر پاکستان برآمد کرتے ہیں اور اس پر ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

افغان ترجمان نے یہ بھی کہا پاکستان سے ہمیں کسی فائدے کی امید نہیں ہے۔ عصمت الله نے مزید کہا کہ پاکستان کو ہماری طرف سے اور افغان عوام کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کے بیان پر رد عمل کا اندازہ اب ہوا ہوگا کیونکہ ہم نے انتقام کے طور پر کوئلے پر فی ٹن ڈیوٹی 90 ڈالر سے بڑھا کر اب 200 ڈالر کردی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم دیکھا جائے تو وہ ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر ہے۔ پاکستان افغانستان کو چاول، گندم، خوردنی تیل اور کھانے کی اشیا برآمد کرتا ہے۔ اگر پاکستان یہ برآمدات روک دے اور اسمگلنگ پر قابو پا لے تو افغانستان کو بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسی معاملے پر تجزیہ کرتے ہوئے مہر بخاری نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی قمیض پھٹنے میں افغان جنگ، سوویت یونین اور امریکا افغان جنگ کی صورت میں افغانستان کا ہاتھ رہا ہے، ضروری ہے کہ حکومت افغان طالبان کو یہ باور کرائے۔
 
Advertisement

Rocky Khurasani

Councller (250+ posts)
1afghancrirtcize.jpg

افغانستان کی وزارت پٹرولیم و معدنیات کے ترجمان مفتی عصمت اللہ برہان نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی اقتصادی قمیض اتنی پھٹی ہوئی ہے کہ اس میں افغانستان سے ملنے والے کوئلے میں چند ملین ڈالر کے فائدے سے رفو نہیں ہو سکتا۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مہر بخاری نے طالبان کو بتایا ہے کہ کس طرح پاکستانی معیشت کی موجودہ حالت کا ذمہ دار افغانستان ہی ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان مفتی عصمت نے کہا کہ ان کی حکومت کا پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئلے کی تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور کوئلے کو افغان حکومت مستقبل میں پاکستان کے لیے بطور ’پریشر پوائنٹ‘ استعمال کر سکتی ہے۔


واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان سے کوئلے کی درآمد کے بارے میں ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے ملک کو دو ارب ڈالرز سے زیادہ بچت ہوگی۔

جس پر افغانستان کی وزارت پیٹرولیم کے ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان کی حکومت کا پاکستان کے ساتھ کوئلے کی برآمد کا کوئی معاہدہ ہے اور نہ کسی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہیں۔

افغان حکومت کے عہدیدار نے کہا کہ ہم نے حکومتی سطح پر اور نہ کسی پاکستانی کمپنی کے ساتھ کوئلے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے لیکن ہم کوئلہ مقامی صنعت کاروں کو بیچتے ہیں اور یہی کوئلہ مقامی صنعت کار پھر پاکستان برآمد کرتے ہیں اور اس پر ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

افغان ترجمان نے یہ بھی کہا پاکستان سے ہمیں کسی فائدے کی امید نہیں ہے۔ عصمت الله نے مزید کہا کہ پاکستان کو ہماری طرف سے اور افغان عوام کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کے بیان پر رد عمل کا اندازہ اب ہوا ہوگا کیونکہ ہم نے انتقام کے طور پر کوئلے پر فی ٹن ڈیوٹی 90 ڈالر سے بڑھا کر اب 200 ڈالر کردی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم دیکھا جائے تو وہ ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر ہے۔ پاکستان افغانستان کو چاول، گندم، خوردنی تیل اور کھانے کی اشیا برآمد کرتا ہے۔ اگر پاکستان یہ برآمدات روک دے اور اسمگلنگ پر قابو پا لے تو افغانستان کو بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسی معاملے پر تجزیہ کرتے ہوئے مہر بخاری نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی قمیض پھٹنے میں افغان جنگ، سوویت یونین اور امریکا افغان جنگ کی صورت میں افغانستان کا ہاتھ رہا ہے، ضروری ہے کہ حکومت افغان طالبان کو یہ باور کرائے۔
Stupid and Chawwal analysis by Mehar Bukhari. Criticism tou Dushman ke bhi sunani chaheye. Woh tou phir bhi Muslims hain aur neighbours hain. We, the Pakistanis are the biggest threat to the stability of our country.
Our Generals decided to be the part of America's War on Terror. We had the option, to be neutrals, but the dollars were quite attractive. If only, we would have stayed away from that war, we would be 150 billion dollars richer. There would still be poverty in Pakistan, but the social fabric of the country would be intact.
 

hkniazi

Minister (2k+ posts)
Premium Member
Who else in the world, other than Pakistan is even interested or interested but not afraid of the dire consequences of doing business with that regime in Afghanistan?

But this not a topic or for a journalist to answer anyway. This should be addressed by a politician.

And believe it or not, this imported coal is mostly bought/used by foji foundation.
 

zain786

Chief Minister (5k+ posts)
چھتر مارو وڈے بشرم باجرے نوں زلیل کرا دتا سانوں ایس کڑی یوے نے
 

Arshak

Minister (2k+ posts)
Pakistan Dakoo Movement has mad Pakistan a laughing stock of the world.When a country like Afghanistan starts mocking Pakistan then it means the country has gone to dogs.
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Choro ki Gov ki ham Pakistani khud izzat nahi kartay..Afghans kiyo karay gein?? Kia Bibi Mehar ko pta ha is baat ka??
 

karachiwala

Chief Minister (5k+ posts)

مبارک ہو گنج شریف برادران آف دلا ہاراں نے پاکستان کا امیج اپنی اخلاقیات تک پہنچا دیا
 
Sponsored Link