بلال یاسین کا قاتلانہ حملے کے بعد پہلا بیان، عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

bilal-yaseen.jpg


مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر گزشتہ رات قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ زخمی ہوئے ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت بظاہر خطرے سے باہر ہے مگر حتمی رائے آپریشن سے پہلے نہیں دی جا سکتی۔ بلال یاسین کا اس حملے سے متعلق کہنا ہے کہ انہیں پہلے لگا کہ حملہ آور پولیس والے ہیں یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ مارنے آئے ہیں۔

بلال یاسین نے میو اسپتال میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ معمول کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے حلقے میں گھوم رہے تھے کہ اچانک 2 لوگ آئے، وہ سمجھے کہ یہ پولیس والے ہیں۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ مجھے مارنے آئے ہیں۔


دوسری جانب بلال یاسین پر جب موہنی روڈ بلال گنج کے قریب حملہ ہوا تو عینی شاہدین نے دیکھا کہ بلال یاسین گھر کی یونین کونسل میں معمول کے مطابق نکلے تھے اور گھر سے تھوڑے فاصلے پر موہنی روڈ پر دو لڑکے پیچھے سے آئے۔ ان میں سے ایک نے پستول نکالی فائر کیا تو وہ مس ہو گیا۔

عینی شاہد نے مزید کہا کہ جب ایک پستول سے گولی نہ چلی تو حملہ آوروں نے دوسری پستول نکالی فائرنگ کی، گولی ان کے پیٹ پر لگی اور اس کے بعد گولی ان کی ٹانگ پر بھی لگی۔ پولیس کے مطابق بلال یاسین کو کل تین گولیاں لگیں جن میں سے 2 پیٹ پر اور ایک ٹانگ پر لگی۔

ادھر مسلم لیگ ن کی قیادت نے بلال یاسین پر حملے کی پرزور مذمت کی ہے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلال یاسین پر فائرنگ دہشت گردی ہے، مجرموں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے فکر مند ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے پارٹی کارکنان اور قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے دعا فرمائیں۔


جب کہ مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ممبر پنجاب اسمبلی اور نواز شریف کے باوفا ساتھی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ۔ پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگیں لیکن اللہ نے بچا لیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود حالت خطرے سے باہر ہے۔ اللہ انہیں جلد اور مکمل شفا عطا فرمائے۔ سب سے دعا کی درخواست ہے۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
bilal-yaseen.jpg


مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر گزشتہ رات قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ زخمی ہوئے ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت بظاہر خطرے سے باہر ہے مگر حتمی رائے آپریشن سے پہلے نہیں دی جا سکتی۔ بلال یاسین کا اس حملے سے متعلق کہنا ہے کہ انہیں پہلے لگا کہ حملہ آور پولیس والے ہیں یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ مارنے آئے ہیں۔

بلال یاسین نے میو اسپتال میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ معمول کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے حلقے میں گھوم رہے تھے کہ اچانک 2 لوگ آئے، وہ سمجھے کہ یہ پولیس والے ہیں۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ مجھے مارنے آئے ہیں۔

دوسری جانب بلال یاسین پر جب موہنی روڈ بلال گنج کے قریب حملہ ہوا تو عینی شاہدین نے دیکھا کہ بلال یاسین گھر کی یونین کونسل میں معمول کے مطابق نکلے تھے اور گھر سے تھوڑے فاصلے پر موہنی روڈ پر دو لڑکے پیچھے سے آئے۔ ان میں سے ایک نے پستول نکالی فائر کیا تو وہ مس ہو گیا۔

عینی شاہد نے مزید کہا کہ جب ایک پستول سے گولی نہ چلی تو حملہ آوروں نے دوسری پستول نکالی فائرنگ کی، گولی ان کے پیٹ پر لگی اور اس کے بعد گولی ان کی ٹانگ پر بھی لگی۔ پولیس کے مطابق بلال یاسین کو کل تین گولیاں لگیں جن میں سے 2 پیٹ پر اور ایک ٹانگ پر لگی۔

ادھر مسلم لیگ ن کی قیادت نے بلال یاسین پر حملے کی پرزور مذمت کی ہے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلال یاسین پر فائرنگ دہشت گردی ہے، مجرموں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے فکر مند ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے پارٹی کارکنان اور قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ بلال یاسین کی زندگی اور صحت کے لئے دعا فرمائیں۔


جب کہ مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ممبر پنجاب اسمبلی اور نواز شریف کے باوفا ساتھی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ۔ پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگیں لیکن اللہ نے بچا لیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود حالت خطرے سے باہر ہے۔ اللہ انہیں جلد اور مکمل شفا عطا فرمائے۔ سب سے دعا کی درخواست ہے۔

جب قبضہ گروپنگ کرو گے تو کسی دن اپنے سے بڑا بدمعاش ٹکر ہی جائے گا۔
 
Sponsored Link