رجب طیب اردگان مسلمانوں کا لیڈر یا ایک مطلب پرست شخص

AWAITED

Senator (1k+ posts)
Political-Islam-Growing-Influence-of-Tayyab-Erdogan-1.jpg

طیب اردگان کا بیان سنا اور پڑھا کہ عمران خان کو عربوں نے ملائشیا کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے. جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا بیان دینا کیوں پڑا؟ ترک اور سعودی مخاصمت کوئ نئ بات نہیں. ترک قوم جو کبھی خادم حرمین تھی. امیر مکہ کی بغاوت سے اس سعادت سے محروم ہو گئ. خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا.

یہاں تک کہ ترکی بھی اتاترک کو باپ مان کر مغرب کی تقلید پر چل نکلا. اربکان اور پھر اردگان ترکی میں اسلام کی واپسی کا ذریعہ بنے جس کی وجہ سے امت کی آنکھ کا تارہ بن گۓ. ترک کی ترکی یورپی اثرات اور اسلام کے نام لیوا ہونے کا احساس پاکستانی قوم کو بھی خوب بھایا. کچھ اثر ترکی کے ڈراموں نے بھی چھوڑا. مگر پاکستان بننے سے اب تک ہم عرب دنیا اور خصوصاً سعودی عرب سے عقیدت اور مسلم برادرانہ تعلقات کی اہمیت سے بھی نا آشنا نہیں تھے.

اور اسکے فوائد بھی حاصل کرتے رہے. سعودی عرب مالی طور پر پاکستان کا ہر اچھے اور برے حال میں ہمارا مددگار رہا ہے. اور ہم بھی سعودی شاہی خاندان کو وفاداری اور خلوص کا احساس دلاتے رہے ہیں جس کیلئے انکی کچھ ایسی فرمائشیں بھی پوری کیں جو امریکہ بہادر کی تھیں مگر ہم امریکیوں کو انکار کر چکے تھے. لہذا حکومت پاکستان اب بھی سعودی عرب کو سب مسلم ممالک سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسکی بڑی وجہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ کا سعودی عرب میں واقع ہونا ہے. مگر پاکستان کے عوام کی ہمدردی ترکوں کیساتھ وابستہ ہونے لگی.

اور ایسے ہی جزبات ترک عوام کی طرف سے بھی ظاہر ہوۓ. مگر عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نے ترکی میں کافی کچھ بدل دیا. ترک اکثریت جو صرف طیب اردگان کو اسلام کا لیڈر سمجھتے تھے انہیں نظر آیا کہ عمران خان بھی شائد ایک واضح اور شائد نسبتاً بہتر مسلم لیڈر ہے. ترک عوام میں مقبولیت نے اردگان کو مجبور کردیا کہ عمران خان کو اپنے قریب کرے مگر ایک چھوٹے بھائ کہ طور پر. نا کہ ایسے لیڈر کے طور پر جو مسلمانوں کا مقدمہ اردگان سے بہتر لڑ سکتا ہے سو وہی اردگان جسنے عمران خان کو نیلے قالین سے سرد مہر استقبال کیا تھا اب مجبور ہے.

ملائشیا میں کانفرنس جس میں ایران کو تو دعوت دی گئ مگر سعودی عرب کو بلانا لازم نا سمجھا گیا مگر کانفرنس کا نام اتحاد المسلمین. سعودی عرب کی جگہ کوئ اور ملک بھی ہوتا تو یقیناً بے چین ہوجاتا کہ کیوں اسے مدعو نہیں کیا گیا؟ عمران خان اور باجوہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم آپکے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے. اردگان کو عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس برائے مہاجرین میں اعتماد میں لیا اور مہاتیسے تو عمران خان کے دیرینہ ذاتی تعلقات ہیں.

مہاتیر کی ویڈیو کال پر ولی عہد سلمان سے بات کروائ گئ اور مہاتیر کو عمرے اور دورے کی دعوت دی گئ جو مہاتیر نے قبول کر لی. اب رہ گیا بیچارہ اردگان. تو اسنے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بیان دے دیا کہ عربوں کے احسانات سے مجبور ہو کر پاکستان کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا اردگان نے ایک تیر سے دو شکار کیے. عربوں اور پاکستانیوں کے دل میں مخاصمت بھی ڈالی اور اب ساتھ ہی فروری میں آنے کا اعلان بھی کردیا.

تاکہ عربوں کے دل میں خلیج گہری ہو جاۓ اور ہماری عوام فرط جزبات سے جھوم رہی ہے کہ دیکھا اردگان کتنا بڑا لیڈر ہے کہ عمران خان تو نہیں گیا مگر اردگان پھر بھی آ رہا ہے سعودی عرب کو امریکہ کا دوست ہونے کا طعنہ دینے والا ہر پاکستانی امریکہ اور یورپ کے ویزہ کا طلبگار ہے. امریکہ نے بھی جب تک ضرورت تھی ہماری خوب مدد کی.

اس دنیا میں تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں. عربوں کا تیل امریکی ڈالر میں بکتا ہے کیا سعودی عرب امریکہ سے کٹی کر لے؟ اردگان جو اسرائیل پر تنقید کرتا تو نظر آتا ہے کبھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسرائیل سے تجارت بھی کرتا ہے؟ دوسرے ممالک کی طرح ہماری سول اور ملٹری قیادت بھی اب صرف پاکستان کیلئے پہلے سوچ رہی ہے. اسلۓ جزبات سے نکلیں اور قیادت کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں بقلم فرحان شیخ
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Nawazcophansi76

Senator (1k+ posts)
طیب اردگان کا بیان سنا اور پڑھا کہ عمران خان کو عربوں نے ملائشیا کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے. جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا بیان دینا کیوں پڑا؟ ترک اور سعودی مخاصمت کوئ نئ بات نہیں. ترک قوم جو کبھی خادم حرمین تھی. امیر مکہ کی بغاوت سے اس سعادت سے محروم ہو گئ. خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا. یہاں تک کہ ترکی بھی اتاترک کو باپ مان کر مغرب کی تقلید پر چل نکلا. اربکان اور پھر اردگان ترکی میں اسلام کی واپسی کا ذریعہ بنے جس کی وجہ سے امت کی آنکھ کا تارہ بن گۓ. ترک کی ترکی یورپی اثرات اور اسلام کے نام لیوا ہونے کا احساس پاکستانی قوم کو بھی خوب بھایا. کچھ اثر ترکی کے ڈراموں نے بھی چھوڑا. مگر پاکستان بننے سے اب تک ہم عرب دنیا اور خصوصاً سعودی عرب سے عقیدت اور مسلم برادرانہ تعلقات کی اہمیت سے بھی نا آشنا نہیں تھے. اور اسکے فوائد بھی حاصل کرتے رہے. سعودی عرب مالی طور پر پاکستان کا ہر اچھے اور برے حال میں ہمارا مددگار رہا ہے. اور ہم بھی سعودی شاہی خاندان کو وفاداری اور خلوص کا احساس دلاتے رہے ہیں جس کیلئے انکی کچھ ایسی فرمائشیں بھی پوری کیں جو امریکہ بہادر کی تھیں مگر ہم امریکیوں کو انکار کر چکے تھے. لہذا حکومت پاکستان اب بھی سعودی عرب کو سب مسلم ممالک سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسکی بڑی وجہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ کا سعودی عرب میں واقع ہونا ہے. مگر پاکستان کے عوام کی ہمدردی ترکوں کیساتھ وابستہ ہونے لگی. اور ایسے ہی جزبات ترک عوام کی طرف سے بھی ظاہر ہوۓ. مگر عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نے ترکی میں کافی کچھ بدل دیا. ترک اکثریت جو صرف طیب اردگان کو اسلام کا لیڈر سمجھتے تھے انہیں نظر آیا کہ عمران خان بھی شائد ایک واضح اور شائد نسبتاً بہتر مسلم لیڈر ہے. ترک عوام میں مقبولیت نے اردگان کو مجبور کردیا کہ عمران خان کو اپنے قریب کرے مگر ایک چھوٹے بھائ کہ طور پر. نا کہ ایسے لیڈر کے طور پر جو مسلمانوں کا مقدمہ اردگان سے بہتر لڑ سکتا ہے سو وہی اردگان جسنے عمران خان کو نیلے قالین سے سرد مہر استقبال کیا تھا اب مجبور ہے. ملائشیا میں کانفرنس جس میں ایران کو تو دعوت دی گئ مگر سعودی عرب کو بلانا لازم نا سمجھا گیا مگر کانفرنس کا نام اتحاد المسلمین. سعودی عرب کی جگہ کوئ اور ملک بھی ہوتا تو یقیناً بے چین ہوجاتا کہ کیوں اسے مدعو نہیں کیا گیا؟ عمران خان اور باجوہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم آپکے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے. اردگان کو عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس برائے مہاجرین میں اعتماد میں لیا اور مہاتیسے تو عمران خان کے دیرینہ ذاتی تعلقات ہیں. مہاتیر کی ویڈیو کال پر ولی عہد سلمان سے بات کروائ گئ اور مہاتیر کو عمرے اور دورے کی دعوت دی گئ جو مہاتیر نے قبول کر لی. اب رہ گیا بیچارہ اردگان. تو اسنے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بیان دے دیا کہ عربوں کے احسانات سے مجبور ہو کر پاکستان کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا اردگان نے ایک تیر سے دو شکار کیے. عربوں اور پاکستانیوں کے دل میں مخاصمت بھی ڈالی اور اب ساتھ ہی فروری میں آنے کا اعلان بھی کردیا. تاکہ عربوں کے دل میں خلیج گہری ہو جاۓ اور ہماری عوام فرط جزبات سے جھوم رہی ہے کہ دیکھا اردگان کتنا بڑا لیڈر ہے کہ عمران خان تو نہیں گیا مگر اردگان پھر بھی آ رہا ہے سعودی عرب کو امریکہ کا دوست ہونے کا طعنہ دینے والا ہر پاکستانی امریکہ اور یورپ کے ویزہ کا طلبگار ہے. امریکہ نے بھی جب تک ضرورت تھی ہماری خوب مدد کی. اس دنیا میں تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں. عربوں کا تیل امریکی ڈالر میں بکتا ہے کیا سعودی عرب امریکہ سے کٹی کر لے؟ اردگان جو اسرائیل پر تنقید کرتا تو نظر آتا ہے کبھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسرائیل سے تجارت بھی کرتا ہے؟ دوسرے ممالک کی طرح ہماری سول اور ملٹری قیادت بھی اب صرف پاکستان کیلئے پہلے سوچ رہی ہے. اسلۓ جزبات سے نکلیں اور قیادت کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں بقلم فرحان شیخ
Tay Ree MAA key Kus Hindu Troll Modi K tuttay baz. F U.
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
کوی یہ نہیں کہہ رہا کہ سعودیہ سے تعلقات توڑ لئے جائیں قوم تو صرف یہ کہہ رہی ہے کہ فیصلے کرتے وقت قومی غیرت کا مظاہرہ کیا کریں اور اپنے فیصلے خود کریں چاہے کتنا بھی نقصان ہوجاے ہمارے لاکھوں پاکستانی یورپ میں ہیں ان ملکوں کے خلاف تو ہم کھل کربولتے ہیں پھر بھی کوی پاکستانی واپس نہیں آتا مگر کیا وجہ کہ سعودیہ کے آگے سب کے پر جلتے ہیں؟ سعودیہ اگر پاکستانی واپس بھجواتا ہے تو کوی بات نہیں آنے دیں حکومت ان کو اچھے ممالک میں بھجوادے جیسے کوریا جاپان اور یورپ کے ممالک ہیں۔ جاہل عربیوں سے تو جان چھوٹے گی بے چاروں کی
 

Nawazcophansi76

Senator (1k+ posts)
طیب اردگان کا بیان سنا اور پڑھا کہ عمران خان کو عربوں نے ملائشیا کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے. جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا بیان دینا کیوں پڑا؟ ترک اور سعودی مخاصمت کوئ نئ بات نہیں. ترک قوم جو کبھی خادم حرمین تھی. امیر مکہ کی بغاوت سے اس سعادت سے محروم ہو گئ. خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا. یہاں تک کہ ترکی بھی اتاترک کو باپ مان کر مغرب کی تقلید پر چل نکلا. اربکان اور پھر اردگان ترکی میں اسلام کی واپسی کا ذریعہ بنے جس کی وجہ سے امت کی آنکھ کا تارہ بن گۓ. ترک کی ترکی یورپی اثرات اور اسلام کے نام لیوا ہونے کا احساس پاکستانی قوم کو بھی خوب بھایا. کچھ اثر ترکی کے ڈراموں نے بھی چھوڑا. مگر پاکستان بننے سے اب تک ہم عرب دنیا اور خصوصاً سعودی عرب سے عقیدت اور مسلم برادرانہ تعلقات کی اہمیت سے بھی نا آشنا نہیں تھے. اور اسکے فوائد بھی حاصل کرتے رہے. سعودی عرب مالی طور پر پاکستان کا ہر اچھے اور برے حال میں ہمارا مددگار رہا ہے. اور ہم بھی سعودی شاہی خاندان کو وفاداری اور خلوص کا احساس دلاتے رہے ہیں جس کیلئے انکی کچھ ایسی فرمائشیں بھی پوری کیں جو امریکہ بہادر کی تھیں مگر ہم امریکیوں کو انکار کر چکے تھے. لہذا حکومت پاکستان اب بھی سعودی عرب کو سب مسلم ممالک سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسکی بڑی وجہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ کا سعودی عرب میں واقع ہونا ہے. مگر پاکستان کے عوام کی ہمدردی ترکوں کیساتھ وابستہ ہونے لگی. اور ایسے ہی جزبات ترک عوام کی طرف سے بھی ظاہر ہوۓ. مگر عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نے ترکی میں کافی کچھ بدل دیا. ترک اکثریت جو صرف طیب اردگان کو اسلام کا لیڈر سمجھتے تھے انہیں نظر آیا کہ عمران خان بھی شائد ایک واضح اور شائد نسبتاً بہتر مسلم لیڈر ہے. ترک عوام میں مقبولیت نے اردگان کو مجبور کردیا کہ عمران خان کو اپنے قریب کرے مگر ایک چھوٹے بھائ کہ طور پر. نا کہ ایسے لیڈر کے طور پر جو مسلمانوں کا مقدمہ اردگان سے بہتر لڑ سکتا ہے سو وہی اردگان جسنے عمران خان کو نیلے قالین سے سرد مہر استقبال کیا تھا اب مجبور ہے. ملائشیا میں کانفرنس جس میں ایران کو تو دعوت دی گئ مگر سعودی عرب کو بلانا لازم نا سمجھا گیا مگر کانفرنس کا نام اتحاد المسلمین. سعودی عرب کی جگہ کوئ اور ملک بھی ہوتا تو یقیناً بے چین ہوجاتا کہ کیوں اسے مدعو نہیں کیا گیا؟ عمران خان اور باجوہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم آپکے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے. اردگان کو عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس برائے مہاجرین میں اعتماد میں لیا اور مہاتیسے تو عمران خان کے دیرینہ ذاتی تعلقات ہیں. مہاتیر کی ویڈیو کال پر ولی عہد سلمان سے بات کروائ گئ اور مہاتیر کو عمرے اور دورے کی دعوت دی گئ جو مہاتیر نے قبول کر لی. اب رہ گیا بیچارہ اردگان. تو اسنے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بیان دے دیا کہ عربوں کے احسانات سے مجبور ہو کر پاکستان کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا اردگان نے ایک تیر سے دو شکار کیے. عربوں اور پاکستانیوں کے دل میں مخاصمت بھی ڈالی اور اب ساتھ ہی فروری میں آنے کا اعلان بھی کردیا. تاکہ عربوں کے دل میں خلیج گہری ہو جاۓ اور ہماری عوام فرط جزبات سے جھوم رہی ہے کہ دیکھا اردگان کتنا بڑا لیڈر ہے کہ عمران خان تو نہیں گیا مگر اردگان پھر بھی آ رہا ہے سعودی عرب کو امریکہ کا دوست ہونے کا طعنہ دینے والا ہر پاکستانی امریکہ اور یورپ کے ویزہ کا طلبگار ہے. امریکہ نے بھی جب تک ضرورت تھی ہماری خوب مدد کی. اس دنیا میں تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں. عربوں کا تیل امریکی ڈالر میں بکتا ہے کیا سعودی عرب امریکہ سے کٹی کر لے؟ اردگان جو اسرائیل پر تنقید کرتا تو نظر آتا ہے کبھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسرائیل سے تجارت بھی کرتا ہے؟ دوسرے ممالک کی طرح ہماری سول اور ملٹری قیادت بھی اب صرف پاکستان کیلئے پہلے سوچ رہی ہے. اسلۓ جزبات سے نکلیں اور قیادت کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں بقلم فرحان شیخ
Must farahan ekk Harami Hindu troll hai. Iss key maa Delhi ekk mushoor Tawaif hai. Kalee Kunt hai uss ka naam.
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
Must farahan ekk Harami Hindu troll hai. Iss key maa Delhi ekk mushoor Tawaif hai. Kalee Kunt hai uss ka naam.
Tay Ree MAA key Kus Hindu Troll Modi K tuttay baz. F U.

کیا خباثت لکھ رہا ہے بے وقوف اندھے ، مجھے بھی اس کی یہ پوسٹ پسند نہیں ہے مگر چغد ، تجھے ضرور اپنی تربیت دکھانی ہے ، دلیل کا جواب دلیل سے دے اگر ہے تو ، ویسے ہی ہرجگہ گند نہ کیا کر ۔
 

feeqa

Senator (1k+ posts)
Saudis are the bastard who are the rotten egg of Muslim world. Go & visit Turkey & see how developed Turkey is after Erdogan rule.
People of Turkey loved Erdogan
 

Khan125

Chief Minister (5k+ posts)
Political-Islam-Growing-Influence-of-Tayyab-Erdogan-1.jpg

طیب اردگان کا بیان سنا اور پڑھا کہ عمران خان کو عربوں نے ملائشیا کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے. جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا بیان دینا کیوں پڑا؟ ترک اور سعودی مخاصمت کوئ نئ بات نہیں. ترک قوم جو کبھی خادم حرمین تھی. امیر مکہ کی بغاوت سے اس سعادت سے محروم ہو گئ. خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا.

یہاں تک کہ ترکی بھی اتاترک کو باپ مان کر مغرب کی تقلید پر چل نکلا. اربکان اور پھر اردگان ترکی میں اسلام کی واپسی کا ذریعہ بنے جس کی وجہ سے امت کی آنکھ کا تارہ بن گۓ. ترک کی ترکی یورپی اثرات اور اسلام کے نام لیوا ہونے کا احساس پاکستانی قوم کو بھی خوب بھایا. کچھ اثر ترکی کے ڈراموں نے بھی چھوڑا. مگر پاکستان بننے سے اب تک ہم عرب دنیا اور خصوصاً سعودی عرب سے عقیدت اور مسلم برادرانہ تعلقات کی اہمیت سے بھی نا آشنا نہیں تھے.

اور اسکے فوائد بھی حاصل کرتے رہے. سعودی عرب مالی طور پر پاکستان کا ہر اچھے اور برے حال میں ہمارا مددگار رہا ہے. اور ہم بھی سعودی شاہی خاندان کو وفاداری اور خلوص کا احساس دلاتے رہے ہیں جس کیلئے انکی کچھ ایسی فرمائشیں بھی پوری کیں جو امریکہ بہادر کی تھیں مگر ہم امریکیوں کو انکار کر چکے تھے. لہذا حکومت پاکستان اب بھی سعودی عرب کو سب مسلم ممالک سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسکی بڑی وجہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ کا سعودی عرب میں واقع ہونا ہے. مگر پاکستان کے عوام کی ہمدردی ترکوں کیساتھ وابستہ ہونے لگی.

اور ایسے ہی جزبات ترک عوام کی طرف سے بھی ظاہر ہوۓ. مگر عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نے ترکی میں کافی کچھ بدل دیا. ترک اکثریت جو صرف طیب اردگان کو اسلام کا لیڈر سمجھتے تھے انہیں نظر آیا کہ عمران خان بھی شائد ایک واضح اور شائد نسبتاً بہتر مسلم لیڈر ہے. ترک عوام میں مقبولیت نے اردگان کو مجبور کردیا کہ عمران خان کو اپنے قریب کرے مگر ایک چھوٹے بھائ کہ طور پر. نا کہ ایسے لیڈر کے طور پر جو مسلمانوں کا مقدمہ اردگان سے بہتر لڑ سکتا ہے سو وہی اردگان جسنے عمران خان کو نیلے قالین سے سرد مہر استقبال کیا تھا اب مجبور ہے.

ملائشیا میں کانفرنس جس میں ایران کو تو دعوت دی گئ مگر سعودی عرب کو بلانا لازم نا سمجھا گیا مگر کانفرنس کا نام اتحاد المسلمین. سعودی عرب کی جگہ کوئ اور ملک بھی ہوتا تو یقیناً بے چین ہوجاتا کہ کیوں اسے مدعو نہیں کیا گیا؟ عمران خان اور باجوہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم آپکے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے. اردگان کو عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس برائے مہاجرین میں اعتماد میں لیا اور مہاتیسے تو عمران خان کے دیرینہ ذاتی تعلقات ہیں.

مہاتیر کی ویڈیو کال پر ولی عہد سلمان سے بات کروائ گئ اور مہاتیر کو عمرے اور دورے کی دعوت دی گئ جو مہاتیر نے قبول کر لی. اب رہ گیا بیچارہ اردگان. تو اسنے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بیان دے دیا کہ عربوں کے احسانات سے مجبور ہو کر پاکستان کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا اردگان نے ایک تیر سے دو شکار کیے. عربوں اور پاکستانیوں کے دل میں مخاصمت بھی ڈالی اور اب ساتھ ہی فروری میں آنے کا اعلان بھی کردیا.

تاکہ عربوں کے دل میں خلیج گہری ہو جاۓ اور ہماری عوام فرط جزبات سے جھوم رہی ہے کہ دیکھا اردگان کتنا بڑا لیڈر ہے کہ عمران خان تو نہیں گیا مگر اردگان پھر بھی آ رہا ہے سعودی عرب کو امریکہ کا دوست ہونے کا طعنہ دینے والا ہر پاکستانی امریکہ اور یورپ کے ویزہ کا طلبگار ہے. امریکہ نے بھی جب تک ضرورت تھی ہماری خوب مدد کی.

اس دنیا میں تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں. عربوں کا تیل امریکی ڈالر میں بکتا ہے کیا سعودی عرب امریکہ سے کٹی کر لے؟ اردگان جو اسرائیل پر تنقید کرتا تو نظر آتا ہے کبھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسرائیل سے تجارت بھی کرتا ہے؟ دوسرے ممالک کی طرح ہماری سول اور ملٹری قیادت بھی اب صرف پاکستان کیلئے پہلے سوچ رہی ہے. اسلۓ جزبات سے نکلیں اور قیادت کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں بقلم فرحان شیخ
Rubbish.
 

paittibahi

Minister (2k+ posts)
Political-Islam-Growing-Influence-of-Tayyab-Erdogan-1.jpg

طیب اردگان کا بیان سنا اور پڑھا کہ عمران خان کو عربوں نے ملائشیا کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے. جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا بیان دینا کیوں پڑا؟ ترک اور سعودی مخاصمت کوئ نئ بات نہیں. ترک قوم جو کبھی خادم حرمین تھی. امیر مکہ کی بغاوت سے اس سعادت سے محروم ہو گئ. خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا.

یہاں تک کہ ترکی بھی اتاترک کو باپ مان کر مغرب کی تقلید پر چل نکلا. اربکان اور پھر اردگان ترکی میں اسلام کی واپسی کا ذریعہ بنے جس کی وجہ سے امت کی آنکھ کا تارہ بن گۓ. ترک کی ترکی یورپی اثرات اور اسلام کے نام لیوا ہونے کا احساس پاکستانی قوم کو بھی خوب بھایا. کچھ اثر ترکی کے ڈراموں نے بھی چھوڑا. مگر پاکستان بننے سے اب تک ہم عرب دنیا اور خصوصاً سعودی عرب سے عقیدت اور مسلم برادرانہ تعلقات کی اہمیت سے بھی نا آشنا نہیں تھے.

اور اسکے فوائد بھی حاصل کرتے رہے. سعودی عرب مالی طور پر پاکستان کا ہر اچھے اور برے حال میں ہمارا مددگار رہا ہے. اور ہم بھی سعودی شاہی خاندان کو وفاداری اور خلوص کا احساس دلاتے رہے ہیں جس کیلئے انکی کچھ ایسی فرمائشیں بھی پوری کیں جو امریکہ بہادر کی تھیں مگر ہم امریکیوں کو انکار کر چکے تھے. لہذا حکومت پاکستان اب بھی سعودی عرب کو سب مسلم ممالک سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اسکی بڑی وجہ کعبہ اور روضہ رسول اللہ کا سعودی عرب میں واقع ہونا ہے. مگر پاکستان کے عوام کی ہمدردی ترکوں کیساتھ وابستہ ہونے لگی.

اور ایسے ہی جزبات ترک عوام کی طرف سے بھی ظاہر ہوۓ. مگر عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نے ترکی میں کافی کچھ بدل دیا. ترک اکثریت جو صرف طیب اردگان کو اسلام کا لیڈر سمجھتے تھے انہیں نظر آیا کہ عمران خان بھی شائد ایک واضح اور شائد نسبتاً بہتر مسلم لیڈر ہے. ترک عوام میں مقبولیت نے اردگان کو مجبور کردیا کہ عمران خان کو اپنے قریب کرے مگر ایک چھوٹے بھائ کہ طور پر. نا کہ ایسے لیڈر کے طور پر جو مسلمانوں کا مقدمہ اردگان سے بہتر لڑ سکتا ہے سو وہی اردگان جسنے عمران خان کو نیلے قالین سے سرد مہر استقبال کیا تھا اب مجبور ہے.

ملائشیا میں کانفرنس جس میں ایران کو تو دعوت دی گئ مگر سعودی عرب کو بلانا لازم نا سمجھا گیا مگر کانفرنس کا نام اتحاد المسلمین. سعودی عرب کی جگہ کوئ اور ملک بھی ہوتا تو یقیناً بے چین ہوجاتا کہ کیوں اسے مدعو نہیں کیا گیا؟ عمران خان اور باجوہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم آپکے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے. اردگان کو عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس برائے مہاجرین میں اعتماد میں لیا اور مہاتیسے تو عمران خان کے دیرینہ ذاتی تعلقات ہیں.

مہاتیر کی ویڈیو کال پر ولی عہد سلمان سے بات کروائ گئ اور مہاتیر کو عمرے اور دورے کی دعوت دی گئ جو مہاتیر نے قبول کر لی. اب رہ گیا بیچارہ اردگان. تو اسنے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے بیان دے دیا کہ عربوں کے احسانات سے مجبور ہو کر پاکستان کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا اردگان نے ایک تیر سے دو شکار کیے. عربوں اور پاکستانیوں کے دل میں مخاصمت بھی ڈالی اور اب ساتھ ہی فروری میں آنے کا اعلان بھی کردیا.

تاکہ عربوں کے دل میں خلیج گہری ہو جاۓ اور ہماری عوام فرط جزبات سے جھوم رہی ہے کہ دیکھا اردگان کتنا بڑا لیڈر ہے کہ عمران خان تو نہیں گیا مگر اردگان پھر بھی آ رہا ہے سعودی عرب کو امریکہ کا دوست ہونے کا طعنہ دینے والا ہر پاکستانی امریکہ اور یورپ کے ویزہ کا طلبگار ہے. امریکہ نے بھی جب تک ضرورت تھی ہماری خوب مدد کی.

اس دنیا میں تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں. عربوں کا تیل امریکی ڈالر میں بکتا ہے کیا سعودی عرب امریکہ سے کٹی کر لے؟ اردگان جو اسرائیل پر تنقید کرتا تو نظر آتا ہے کبھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسرائیل سے تجارت بھی کرتا ہے؟ دوسرے ممالک کی طرح ہماری سول اور ملٹری قیادت بھی اب صرف پاکستان کیلئے پہلے سوچ رہی ہے. اسلۓ جزبات سے نکلیں اور قیادت کے فیصلوں پر اعتماد رکھیں بقلم فرحان شیخ
میرے خیال میں تحریر لکھنے والا بھول گیا کہ ہر حکمران کی پہلی ترجیح اسکی اپنی قوم اور ملک ہوتا ہے۔
اگر اس تحریر کنندہ کے آرگومنٹ کو مان لیا جائے تو پھر سعودی عرب نے کس خوشی میں بھارت سے پچھتر ارب ڈالر کا ریفائنری کا کانٹریکٹ کیا۔ جبکہ بھارت کی کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی۔
سعودیہ اور امریکہ کسی بھی قیمت پر
او آئی سی جیسی نکمی تنظیم کے ہوتے ہوئے کوئی نئی تنظیم کا وجود برداشت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ نئی تنظیم انکے ملکی مفاد کے لئے اچھی نہیں ہے۔
 

ansar_raja786

Senator (1k+ posts)
نیازی کے چمچے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔
نیازی ترکی جاتا تو سب کہتے اردگان بڑا لیڈر ہے لیکن اب جب نیازی منافق نے یو ٹرن لیا بلکہ سعودی عرب کے شاہ نے بلا کر اسے کہا کہ ملائیشیا نہیں جانا۔
نیازی جیسا نوکر اور بھکاری نے شاہ کا حکم تو ماننا ہی تھا۔
اس پر طیب اردگان نے سچ بولا اور
نیازی کے شیرو طیب اردگان کے خلاف ہو گئے۔
شرم کرو کھوتو
 

Citizen X

President (40k+ posts)
We Pakistanis have also more than required inflated his personality. He is no saint either, his past is also a tainted one. No man can remain head of state for almost 20 years and be a straight shooter
 

ansar_raja786

Senator (1k+ posts)
We Pakistanis have also more than required inflated his personality. He is no saint either, his past is also a tainted one. No man can remain head of state for almost 20 years and be a straight shooter

کہاں نیازی جیسا منافق بھکاری اور شاہ کا غلام
اور کہاں رجب طیب اردگان۔
نیازی صرف گھٹیا ترین جھوٹا ہی ہو سکتا ہے۔
الیکشن چور نیازی جب بھی بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔
 
Sponsored Link