عمران خان کے زمانے میں دیوالیہ ہوجائے تو یہ بڑی بدقسمتی ہوگی:شبر زیدی

khan-and-shabar.jpg


ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبرزیدی نے سماء سے بات کرتےہوئے بتایا کہ امکان تھا کہ ادویات اور اسٹیشنری کے سامان پر سیلز ٹیکس لگے گا تاہم ایسا نہ ہوا،صرف خام مال پر سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے اور ریفنڈ کی اجازت دی گئی ہے،ضروری اشیاء پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے اور شوکت ترین درست بات کہہ رہے ہیں۔

سما نیوز سے گفتگو میں شبز زیدی نے پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کا حل بھی بتادیا، انہوں نے کہا کہ اپنے انٹرویو میں معیشت کی بہتری کیلئے پانچ چھ تجاویز دی تھیں، اس میں ایک تھی کہ جو آپ کے پاس زمینی اثاثے ہیں انہیں فروخت کریں، اور اس سے مقامی قرضے ادا کریں،یہ زمین غیرملکیوں کو بھی فروخت کی جاسکتی ہے،وہ زمین اٹھا کر تو نہیں لے جائے گا۔

شبز زیدی نے کہا کہ دوسری تجویز یہ دی تھی کہ جو پاکستان کا این ایف سی ایوارڈ ہے، اس کی تقسیم کیلئے اٹھارہویں ترمیم میں مزید ترمیم کریں،جو قرضے لئے گئے ہیں وہ صوبوں نے لئے ہیں اسلام آباد نے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیسری تجویز یہ دی کہ پاکستان کا ایکسپورٹیبل سرپلس ہے وہ صرف اسی وقت بڑھے گا جب برآمدات سدرن پاکستان میں ہوگی، ورنہ سرپلس خسارے میں جاتا ہے، پاکستان کے موجودہ درآمدی بل کے ساتھ پاکستان نہیں چل سکتا،کنزرویوشن انرجی کی بات نہیں کی گئی، انرجی بل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔


سابق چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے مزید کہا کہ عمران خان کے زمانے میں دیوالیہ ہوجائے تو یہ پاکستان کے لئے بڑی بدقسمتی ہوگی،میں اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ کوئی پاکستان بشمول رضا باقر پاکستانی مفادات کو آئی ایم ایف کے کہنے کے اوپرقربان کریں گے،اگر رضا باقر پاکستانی مفادات کوقربان کریں گے تو ہمیں ان کو فوراً نکال دینا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو معاشی نظام اس وقت دنیا میں آچکا ہے اور جس طرح سے ہم یہ چلا رہے ہیں اس کو فالو کرتے ہوئے اس کی بنیادوں پر عوام کو کچھ نہیں ملے گا،یہ نظام تباہی کی طرف لے جارہا ہے میں نے اس کا کھل کر اظہار کردیا ہے اور اس کی گونج آپ سن رہے ہیں اور بہت جلد ایوانوں میں بھی اس کی گونج سنائی دے گی،عام آدمی کی زندگی بہت مشکل ہوچکی ہے اور جس جگہ پر وہ2018 میں تھا اس میں حکومت کی مدت ختم ہونے تک مزید خرابی پیدا ہوجائے گی۔


دوسری جانب بول نیوز سے گفتگو میں اپنا تجزیہ دیتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختار ادارہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،جو اصولی طور پر صحیح بات ہے، ہماری قوم کا اعتماد اپنے لوگوں پر نہیں ہوتا، ہم سمجھتے ہیں کہ جو بیٹھا ہوا ہے ہم سے وفادار نہیں بلکہ وہ آئی ایم ایف کا وفادار ہے،اگر ایسا رہا تو مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔

سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ میں گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر کی وفاداری کو چیلنج نہیں کرتا، وہ پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا میں ہوں،میں ان کی پالیسی سےاختلاف کرسکتا ہوں ان کی وفاداری پر شک نہیں کرسکتا،دیکھنا یہ ہے جو فیصلہ اسٹیٹ بینک یا رضاباقر لے رہیں وہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ نہیں، یہ کہنا کہ ہم آٹونومی دے دی تو رضاباقر صاحب آئی ایم ایف کے حق میں فیصلے دینگے یہ کہنا غلط ہے۔
 
Advertisement

Complete Sense

Senator (1k+ posts)
Pakistan wo mulk hai Jo khabhi bhi dewalia nahi hota, NS aur Zardari nay lot lot kar aur nooch nooch kar mulk ko kha liya hai, magar khabi bhi mulk dewalia nahi howa.... IK bechara kuch bhi nahi hai
 

Kam

Minister (2k+ posts)
I agree with his point for export industry to be established in southern Pakistan.
Local consumption should be allowed in Northern Pakistan.
Secondly Government land who will buy. Land mostly belongs to provinces.
 
Sponsored Link