فیٹف کی شرائط، ایف بی آر نے کئی شعبوں کے لیے نئے مزید سخت قوانین بنا دیئے

FBR-png-aaa.jpg


ایف اے ٹی ایف (عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ،کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ ریگولیشنز میں ترامیم متعارف کرادی گئی ہیں۔ جس کے بعد وفاقی مالیاتی بیورو (ایف بی آر) نے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس، جیولرز اور اکاؤنٹنٹ کے شعبوں پر نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔

ایف بی آر نے پراپرٹی ڈیلرز وبلڈرز ڈویلپرز، جیولرز اور اکاؤنٹنٹس کے لئے لازم قرار دیا ہے کہ کوئی سزا یافتہ مجرم یا ملزم سے کسی طرح کی وابستگی رکھنے والےافراد یہ کاروبار نہیں کر سکیں گے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اب سے سزایافتہ مجرموں یا ان سے وابستگی رکھنے والے افراد پر نامزد نان فنانشل کاروباراور پروفیشن کے تحت آنے والے کاروبار کرنے پر پابندی عائد کردی. نوٹی فکیشن کے مطابق یہ پابندی ڈیزگنیٹڈ نان فنانشل بزنسز (designated non financial businesses) اور پیشہ ور مجرموں سے کاروبار پر ہوگی۔


ایف بی آر کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں تک مالیاتی رسائی روکنے کے لئے نامزد نان فنانشل کاروباروں اور پروفیشنلز ریگولیشنز میں مزید ترمیم کر دی ہے۔

اس کے بعد رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ، جیولرز اور اکاؤنٹنٹس کےلئے لازم ہوگا کہ وہ کسی ایسے شخص کوجو سزا یافتہ مجرم ہو یا کسی مجرم کے ساتھ کسی طرح کا بھی تعلق ہو، ایسے سز ایافتہ مجرم یا ملزم کے ساتھ وابستگی رکھنے والے افراد نامز د نان فنانشل کاروبار اور پروفیشنلز میں کسی طرح کی ملکیت یا کنٹرول نہ ہو۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو بینفیشل مالک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی انہیں کوئی سینئر عہدہ یا بورڈ میں کوئی حیثیت دی جائے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس (پراپرٹی بروکرز ، ڈیلرز، ڈویلپرز، بلڈرز)، جیولرز اور اکاؤنٹنٹ ایسی کسی ملکیت ، بینفیشل مالک یا مالکان ، سینئر عہدیداران اور بورڈ ممبران کے بارے میں ایف بی آر کو آگاہ کرنے کے پابند ہونگے۔
 
Advertisement
Last edited:
Sponsored Link