ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: اپوزیشن کی حکومت پر تنقید،شہباز گل کا جواب

gill-on-ts-and-ap.jpg


ٹرانسپیرنسی اںٹرنیشنل نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی کرپشن پر رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن مزید بڑھی ہے،پاکستان کرپشن پرسپشن انڈیکس میں سولہ درجے اوپر چلا گیا،جس کے بعد پاکستان کرپشن انڈیکس میں ایک سو چالیسویں نمبر پر آگیا، دو ہزار بیس میں پاکستان کا نمبر ایک سو چوبیس تھا۔

کرپشن مزید بڑھنے پر اپوزیشن نے حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‎ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ نے حکومت کے کرپٹ ہونے کی گواہی دے عالمی ادارے کی رپورٹ فرد جرم ہے۔


انہوں نے کہا کہ کرپٹ حکمران استعفا دیں،عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں ملک کرپشن میں ترقی کر رہا ہے، ‎کرپشن کرپشن کا شور مچانے والوں کی ہر روز چوریاں پکڑی جا رہی ہیں، دوہزار انیس سے دو ہزاراکیس تک ہر سال پاکستان میں کرپشن بڑھی،عمران نیازی حکومت کرپٹ اورچورہے۔


انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کی 16 درجے تنزلی افسوسناک ہے۔ عالمی سطح پرملک کی بدنامی کا دکھ ہے۔ آٹا،چینی، بجلی، دواؤں، یوریا اورایل این جی سمیت ہرشعبے میں کرپشن ہوگی توپاکستان کرپشن انڈیکس میں 124 سے 140 پرکیوں نہیں جائے گا،ی آئی یو کا پاکستان کے اسکورکو 40 فیصد اورورلڈ اکنامک فورم کا 5 فیصد اسکور کو کم کرنا پی ٹی آئی کی کرپشن پر فرد جرم ہے۔

سابق وزیراعظم اور لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی بھی پیچھے ن رہے، کہا ملک میں کرپشن چھ فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے، پاکستان ایک سو سترہ سے ایک سو چالیس پر آگیا،عمران خان بتائیں کرپشن کیوں بڑھی؟ عوام تو پہلے ہی گھبرائے ہوئے تھے، اب وزیراعظم بھی گھبرا گئے ہیں،اس ملک کے سارے چور کابینہ کی ٹیبل پر بیٹھے ہیں۔

پرویز رشید نے کہا ہے کہ صادق و امین کی سند دینے والا ثاقب نثار اور سند کو تغمہ بنا کر سجانے والا عمران خان دونوں بے نقاب ہوگئے،ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ ان چوروں کے ٹولے کے احتسابی ڈرامے کو بے نقاب کرتی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر و سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی پرسیپشن انڈیکس حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے، پاکستان کا کرپشن میں 16 درجے اوپر جانا حکومت کے بیانیے کو بے نقاب کرتا ہے۔


شیری رحمان نے ٹویٹ کیا کہ 2020 میں دنیا بھر میں پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 124 نمبر پر تھا، ایک سال کے اندر پاکستان 140 ویں نمبر پر آگیا، ‏کرپشن ختم کرنے کی دعویدار حکومت نے 16 ممالک کو کرپشن میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔


شیری رحمان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مشیر احتساب کا استعفی اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کم نہیں، بڑھی ہے، احتساب صرف مخالفین کو نشانا بنانے کے لئے ہے، اس حکومت کی کرپشن سے اب عالمی ادارے پردہ اٹھا رہے ہیں۔


اپوزیشن کی تنقید پر معاون خصوصی شہباز گل میدان میں آگئے، انہوں نے جوابی ٹویٹ میں اپوزیشن کو جواب دیا،شہباز گل نے نیوز لنک شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ یہ پڑی ہیں خبریں ٹرانپرینسی انٹرنیشنل کو بنانے والوں کی۔


شہباز گل نے مزید لکھا کہ یہ پڑی ہے ساری کی ساری ٹرانپرینسی انٹرنیشنل، جب ٹی وی ٹیم وہاں گئی تو آگے سے جواب ملا کہ عادل گیلانی صاحب نے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔
جی یہ وہی عادل گیلانی ہیں جن کو نواز شریف نے سربیا میں سفیر مقرر کیا تھا۔ سو جو عادل گیلانی کی رپورٹ ہے اسے آپ شریف خاندان کی لکھی سمجھیں۔

 
Advertisement

PakistanFIRST1

Senator (1k+ posts)
PTI TO BE BLAMED FOR THIS.

WHAT DO YOU MEAN CHORIYAN PAKARI JATHI HAIN.

WHAT THEY DO WITH ALL THIS CHOR AND CHORIAN.

NOTHING HAS HAPPENED IN 3 YEARS.

ALL CHOR ARE FREELY ROAMING AROUND ( SHAHBAZ SHAREEF, KHURSHEED SHAH ) ARE JUST TO EXAMPLE.
I AM OF THE OPINION NOTHING WILL EVER HAPPEN.

OTHER ALREADY FLED WITH COURTESY OF MEDICAL EXCUSES.
 

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتاتی ہےکہ کسی ملک کی عوام کیا سوچ رہی ہےکرپشن کےبارےمیں

‏جب واضح ثبوتوں کے باوجود کئی کئی سال بڑے بڑے کرپشن کنگز اور چوروں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلے نہ آئیں، 50 روپےکے سٹامپ پر سزایافتہ مجرم کو لندن میں عیاشی کےلیے جانےدیا جائےتو لوگوں نےکیا سوچنا ہے؟

جب کرپشن کے ملزم جیل کی بجائے سارا سال ہسپتال کے نام پر عیاشیاں کریں تو عوام نے کیا سوچنا ہے؟

جب کرپشن کنگز واضح ثبوتوں کے باوجود کال کوٹھڑیوں کی بجائے پارلیمنٹ میں بھاشن دیتے ہوئے ملیں تو عوام نے کیا سوچنا ہے؟​
 
Sponsored Link