چین کے نقش قدم پر چل کر عوام کو غربت سے نکالیں گے،وزیراعظم،چینی میڈیا

imran-khan-china-media.jpg


چین کے نقش قدم پر چل کر عوام کو غربت سے نکالیں گے،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے پاکستانیوں کو غربت سے نکالنے کیلئے چین کے نقش قدم پر چلنے کا عزم ظاہر کردیا،چینی میڈیا کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ چین کے نقش قدم پر چل کر پاکستانیوں کو غربت سے نکالیں گے۔۔ چین نے ستر کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے،پاکستان میں بھی چین کے ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی معیشت کو بڑھانا ہے تاکہ غریب کو اوپر اٹھاسکیں،عمران خان نے کہا کہ چین نے 40سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے چین نے اجتماعی طور پر سبھی کو ترقی میں حصہ دار بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام ملک جو پائیدار ترقی چاہتے ہیں وہ چین کے ماڈل سے سیکھ سکتے ہیں، چین میں ہر شعبے نے ترقی کی، ہم وہی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، دورہ چین ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے،آئندہ ہفتے چین کا دورہ کررہا ہوں،غربت کے خاتمے کیلئے ہم چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں معیشت کوبہتر کرنے کےلیے مزیداقدامات کرنے ہوں گے، بدقسمتی سے معیشت پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی ، پاکستان چاہتاہے اپنی پیداوار بڑھائے اور زراعت کوبہتر کرے ، زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبے میں چین سے معاونت کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا سے کھیل کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، خواہش ہے چینی کھلاڑیوں کوکرکٹ سکھائیں، خیبرپختونخوا میں گلگت سمیت دیگر علاقے کھیل کے لیے بہترین ہیں، خنجراب پاس کے قریب پاکستان اور چین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے خواہاں ہیں،چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ نبھایا،سی پیک نے دونوں دوستوں کو مزید قریب کیا۔

اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق مغرب میں بہت زیادہ بات نہیں کی جاتی اور اس معاملے پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی گئی،وفدکے ہمراہ آئندہ ہفتے چین کے دورےکا منتظر ہوں، چین کے ساتھ ہمارے 70 سال پرانے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوئے ہیں جب کہ چین ضرورت کے وقت ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔

مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ کشمیر میں بھارت نے انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی ہے، وہاں 90 لاکھ افرا د بدترین حالات میں کھلی جیل میں رہ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر سے متعلق مغرب میں بہت زیادہ بات نہیں کی جاتی اور مغرب میں کشمیر سے متعلق ایک خاص خاموشی ہے،ایک طرح سے کشمیر پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی گئی۔
 
Advertisement

Abdullah9

Senator (1k+ posts)
انا للہ وانا الہ راجعون۔
ریاست مدینہ سے ریاست ذی ڈونگ تک۔

جدھر دیکھتا ہوں ادھر توُ ہی توُ ہے۔​
sorry dear, bari ummedain tooti hain tumhari ryasate madina ke golden concept se.
 
Sponsored Link