کرنل کی بیوی کے فعل کو ادارے کے ساتھ کیوں نہ جوڑا جائے؟

Majid Sheikh

MPA (400+ posts)
بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر یہ دلیل دیتے نظر آرہے ہیں کہ کرنل کی بیوی کا فعل اس کا انفرادی فعل ہے اور اس کو فوج کے ادارے کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔۔ بظاہر یہ دلیل جائز لگتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے خلاف جاتے ہیں۔ اگر یہ فعل حقیقتاً کرنل کی بیوی کا انفرادی فعل ہوتا اور اس کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوتا تو اب تک وہ گرفتار ہوکر سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکی ہوتی اور ایف آئی آر کسی نامعلوم خاتون کے خلاف نہ کٹتی۔ اگر یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا تو اس کی یہ ویڈیو اب تک ہر چینل پر چل چکی ہوتی اور ہر ٹاک شو میں اس کی خوب کلاس بھی لی جاچکی ہوتی اور اب تک یہ سلسلہ چل رہا ہوتا۔ آئی ایس پی آر نے باقاعدہ میڈیا پرسنز اور نیوز چینلز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایف آئی آر والی خبر پر بھی بریکنگ نیوز نہ چلائی جائے بس ٹکر چلائے جائیں تاکہ یہ واقعہ زیادہ موضوع بحث نہ بنے۔۔

کرنل کی اہلیہ کے فوج کے ادارے کے ساتھ بالواسطہ تعلق کے طفیل ہی کسی بھی نیوز چینل کو ہمت نہیں ہوئی کہ اس پر خبر چلاتا، بار بار بریکنگ نیوز بریکنگ نیوز کی گردان کرتا جیسا کہ چینلز کا عمومی معاملات میں وطیرہ ہوتا ہے۔ نہ ہی کسی بھی اینکر کو ہمت ہوئی کہ اس موضوع پر ٹاک شو کرتا۔ تو جب موصوفہ کرنل کی اہلیہ ادارے کے ساتھ اپنے بالواسطہ تعلق سے بھرپور طریقے سے مستفید ہورہی ہیں اور ادارہ بھی اس خاتون کا بھرپور تحفظ کررہا ہے تو میرا سوال ہے کہ پھر خاتون کے فعل کو کیونکر انفرادی قرار دیا جائے اور اسے ادارے کے ساتھ کیوں نہ جوڑا جائے۔۔۔؟؟
 
Advertisement

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)
بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر یہ دلیل دیتے نظر آرہے ہیں کہ کرنل کی بیوی کا فعل اس کا انفرادی فعل ہے اور اس کو فوج کے ادارے کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔۔ بظاہر یہ دلیل جائز لگتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے خلاف جاتے ہیں۔ اگر یہ فعل حقیقتاً کرنل کی بیوی کا انفرادی فعل ہوتا اور اس کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوتا تو اب تک وہ گرفتار ہوکر سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکی ہوتی اور ایف آئی آر کسی نامعلوم خاتون کے خلاف نہ کٹتی۔ اگر یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا تو اس کی یہ ویڈیو اب تک ہر چینل پر چل چکی ہوتی اور ہر ٹاک شو میں اس کی خوب کلاس بھی لی جاچکی ہوتی اور اب تک یہ سلسلہ چل رہا ہوتا۔ آئی ایس پی آر نے باقاعدہ میڈیا پرسنز اور نیوز چینلز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایف آئی آر والی خبر پر بھی بریکنگ نیوز نہ چلائی جائے بس ٹکر چلائے جائیں تاکہ یہ واقعہ زیادہ موضوع بحث نہ بنے۔۔

کرنل کی اہلیہ کے فوج کے ادارے کے ساتھ بالواسطہ تعلق کے طفیل ہی کسی بھی نیوز چینل کو ہمت نہیں ہوئی کہ اس پر خبر چلاتا، بار بار بریکنگ نیوز بریکنگ نیوز کی گردان کرتا جیسا کہ چینلز کا عمومی معاملات میں وطیرہ ہوتا ہے۔ نہ ہی کسی بھی اینکر کو ہمت ہوئی کہ اس موضوع پر ٹاک شو کرتا۔ تو جب موصوفہ کرنل کی اہلیہ ادارے کے ساتھ اپنے بالواسطہ تعلق سے بھرپور طریقے سے مستفید ہورہی ہیں اور ادارہ بھی اس خاتون کا بھرپور تحفظ کررہا ہے تو میرا سوال ہے کہ پھر خاتون کے فعل کو کیونکر انفرادی قرار دیا جائے اور اسے ادارے کے ساتھ کیوں نہ جوڑا جائے۔۔۔؟؟
سوشل میڈیا کے ارسطوز خوامخواہ پریشان ہو رھے ھیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ھے پاکستان کی عوام اپنی فوج کو بہت پسند کرتی ھے اور اس افواج پاکستان پر پورا بھروسہ ھے اور عوام جانتی ھے کہ افواج پاکستان ہی اس ملک کی محافظ ھے اور عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں پاکستان کے تمام سول ادارے اور عام شہری کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر یں گے کیسی ایک شخص کی قانون شکنی کو فوج کے ادارے سے جوڑا جائے کیونکہ افواج پاکستان میں خود سے بھی سزا اور جزا کا سسٹم موجود ھے جس کی مثالیں موجود ہیں اور عوام کو بھی اس پر بھروسہ ھے لہذا عوام اس بات کی حمایت کرتی ھے کہ کبھی افواج پاکستان کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈا نہ کیا جائے جس سے ملک کے دشمنوں کو خوشی ہو جیسا کہ پہلے بیغرتوں کا ٹولہ ملک سے دشمنی کرتے رھے ھیں اور آج بھی سوشل میڈیا پر فوج کے ادارے کے خلاف بکواسیات کرتے رہتے ہیں اب عوام یہ برداشت نہیں کرے گی کیونکہ جس طرح پہلے کہا جا چکا ھے کہ افواج پاکستان میں اپنا احتساب کا ایک خود کار طریقہ موجود ھے ایک بار پھر کہوں گا کہ قانون سے کوئی با لاتر نہیں ھے اور افواج پاکستان کے اپنے اداروں میں یہ صلاحیت موجود ھے کہ اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو اس کا احتساب ہوگا
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
تم سے ایک سوال ہے بھائی جب ادارے کے سربراہ پر قتل کا الزام جیو نے چلایا اور فوج پر ہرالزام اور ہر قسم کی تنقید سب ٹی وی چینل پر چلتی ہے تو یہ بریکنگ نیوز اور کسی پر نہیں تو جیو پر کیپیٹل ٹی وی پر اور چینل 24 پر تو چلنی چاہئے تھی کس نے روکا تھا ؟
 
Last edited:

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
سوشل میڈیا کے ارسطوز خوامخواہ پریشان ہو رھے ھیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ھے پاکستان کی عوام اپنی فوج کو بہت پسند کرتی ھے اور اس افواج پاکستان پر پورا بھروسہ ھے اور عوام جانتی ھے کہ افواج پاکستان ہی اس ملک کی محافظ ھے اور عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں پاکستان کے تمام سول ادارے اور عام شہری کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر یں گے کیسی ایک شخص کی قانون شکنی کو فوج کے ادارے سے جوڑا جائے کیونکہ افواج پاکستان میں خود سے بھی سزا اور جزا کا سسٹم موجود ھے جس کی مثالیں موجود ہیں اور عوام کو بھی اس پر بھروسہ ھے لہذا عوام اس بات کی حمایت کرتی ھے کہ کبھی افواج پاکستان کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈا نہ کیا جائے جس سے ملک کے دشمنوں کو خوشی ہو جیسا کہ پہلے بیغرتوں کا ٹولہ ملک سے دشمنی کرتے رھے ھیں اور آج بھی سوشل میڈیا پر فوج کے ادارے کے خلاف بکواسیات کرتے رہتے ہیں اب عوام یہ برداشت نہیں کرے گی کیونکہ جس طرح پہلے کہا جا چکا ھے کہ افواج پاکستان میں اپنا احتساب کا ایک خود کار طریقہ موجود ھے ایک بار پھر کہوں گا کہ قانون سے کوئی با لاتر نہیں ھے اور افواج پاکستان کے اپنے اداروں میں یہ صلاحیت موجود ھے کہ اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو اس کا احتساب ہوگا
او بے غیرت ڈڈو ، تو کب سے عوام کا نمائندہ بن گیا ، تیری کرنل بے بے نے جو طوائف زنی سر عام دکھائ ہے وہ کسی ایک یا دودن کی دماغی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری اس ذھنیت کی نشانی ہے جس میں فوج کے آفیسر اپنے آپ کو قانون سے ماورا سمجھتے آئے ہیں اب اس حرکات کے جراثیم ان کے خاندانوں میں بھی سرایت کر گئے ہیں ۔ موجودہ حکومت خود بوٹ سرکار کی سرپرستی میں وجود میں آئ ہے ، بونگی خان کی ھوا خارج ہوجائے گی اگر اس نے اس عورت کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کی بات کی ۔ اس کا اگر فوج سے تعلق نہ ہوتا تو پھر اس کے خلاف سویلین مقدمہ درج ہوتا اور یہ منحوس سلاخوں کے پیچھے ہوتی ، لعنت ہو تیری بوٹ چاٹنے والی زندگی پر ۔
 

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)
او بے غیرت ڈڈو ، تو کب سے عوام کا نمائندہ بن گیا ، تیری کرنل بے بے نے جو طوائف زنی سر عام دکھائ ہے وہ کسی ایک یا دودن کی دماغی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری اس ذھنیت کی نشانی ہے جس میں فوج کے آفیسر اپنے آپ کو قانون سے ماورا سمجھتے آئے ہیں اب اس حرکات کے جراثیم ان کے خاندانوں میں بھی سرایت کر گئے ہیں ۔ موجودہ حکومت خود بوٹ سرکار کی سرپرستی میں وجود میں آئ ہے ، بونگی خان کی ھوا خارج ہوجائے گی اگر اس نے اس عورت کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کی بات کی ۔ اس کا اگر فوج سے تعلق نہ ہوتا تو پھر اس کے خلاف سویلین مقدمہ درج ہوتا اور یہ منحوس سلاخوں کے پیچھے ہوتی ، لعنت ہو تیری بوٹ چاٹنے والی زندگی پر ۔
بھائی اس پر ہنسوں یا پھر روؤں چھوٹے بچے اچھی باتیں کرتیں ہیں لڑتے نہیں۔
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
بھائی اس پر ہنسوں یا پھر روؤں چھوٹے بچے اچھی باتیں کرتیں ہیں لڑتے نہیں۔

تو بچے ، ناریل پکڑ اور پھُوٹ لے ۔ سیدھا جی ایچ کیو کے پچھواڑے والی پتلی گلی سے داخل ہونا ، وہی جو مشرف کود کے اسلم سکھیرے کے ساتھ رات کی تاریکی میں فلمیں دیکھنے جاتا تھا ۔
 

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)

تو بچے ، ناریل پکڑ اور پھُوٹ لے ۔ سیدھا جی ایچ کیو کے پچھواڑے والی پتلی گلی سے داخل ہونا ، وہی جو مشرف کود کے اسلم سکھیرے کے ساتھ رات کی تاریکی میں فلمیں دیکھنے جاتا تھا ۔
آپ بھلے انسان ہو آپ ملک کی بہتری چاہتے ہو فکر نہ کریں قانون سے کوئی بھی انسان بالاتر نہیں ھے اب وقت تبدیل ہو چکا ھے تبدیلی عوام میں اور اداروں میں آ چکی ھے اور انتظار کریں ایک بار پھر کہوں گا کہ کوئی بھی انسان قانون سے بالاتر نہیں ھے
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر یہ دلیل دیتے نظر آرہے ہیں کہ کرنل کی بیوی کا فعل اس کا انفرادی فعل ہے اور اس کو فوج کے ادارے کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔۔ بظاہر یہ دلیل جائز لگتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے خلاف جاتے ہیں۔ اگر یہ فعل حقیقتاً کرنل کی بیوی کا انفرادی فعل ہوتا اور اس کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوتا تو اب تک وہ گرفتار ہوکر سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکی ہوتی اور ایف آئی آر کسی نامعلوم خاتون کے خلاف نہ کٹتی۔ اگر یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا تو اس کی یہ ویڈیو اب تک ہر چینل پر چل چکی ہوتی اور ہر ٹاک شو میں اس کی خوب کلاس بھی لی جاچکی ہوتی اور اب تک یہ سلسلہ چل رہا ہوتا۔ آئی ایس پی آر نے باقاعدہ میڈیا پرسنز اور نیوز چینلز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایف آئی آر والی خبر پر بھی بریکنگ نیوز نہ چلائی جائے بس ٹکر چلائے جائیں تاکہ یہ واقعہ زیادہ موضوع بحث نہ بنے۔۔

کرنل کی اہلیہ کے فوج کے ادارے کے ساتھ بالواسطہ تعلق کے طفیل ہی کسی بھی نیوز چینل کو ہمت نہیں ہوئی کہ اس پر خبر چلاتا، بار بار بریکنگ نیوز بریکنگ نیوز کی گردان کرتا جیسا کہ چینلز کا عمومی معاملات میں وطیرہ ہوتا ہے۔ نہ ہی کسی بھی اینکر کو ہمت ہوئی کہ اس موضوع پر ٹاک شو کرتا۔ تو جب موصوفہ کرنل کی اہلیہ ادارے کے ساتھ اپنے بالواسطہ تعلق سے بھرپور طریقے سے مستفید ہورہی ہیں اور ادارہ بھی اس خاتون کا بھرپور تحفظ کررہا ہے تو میرا سوال ہے کہ پھر خاتون کے فعل کو کیونکر انفرادی قرار دیا جائے اور اسے ادارے کے ساتھ کیوں نہ جوڑا جائے۔۔۔؟؟
آئی ایس پی آر نے باقاعدہ میڈیا پرسنز اور نیوز چینلز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایف آئی آر والی
خبر پر بھی بریکنگ نیوز نہ چلائی جائے بس ٹکر چلائے جائیں تاکہ یہ واقعہ زیادہ موضوع بحث نہ بنے۔

Any supporting for this claim ?
 

Majid Sheikh

MPA (400+ posts)
سوشل میڈیا کے ارسطوز خوامخواہ پریشان ہو رھے ھیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ھے پاکستان کی عوام اپنی فوج کو بہت پسند کرتی ھے اور اس افواج پاکستان پر پورا بھروسہ ھے اور عوام جانتی ھے کہ افواج پاکستان ہی اس ملک کی محافظ ھے اور عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں پاکستان کے تمام سول ادارے اور عام شہری کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر یں گے کیسی ایک شخص کی قانون شکنی کو فوج کے ادارے سے جوڑا جائے کیونکہ افواج پاکستان میں خود سے بھی سزا اور جزا کا سسٹم موجود ھے جس کی مثالیں موجود ہیں اور عوام کو بھی اس پر بھروسہ ھے لہذا عوام اس بات کی حمایت کرتی ھے کہ کبھی افواج پاکستان کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈا نہ کیا جائے جس سے ملک کے دشمنوں کو خوشی ہو جیسا کہ پہلے بیغرتوں کا ٹولہ ملک سے دشمنی کرتے رھے ھیں اور آج بھی سوشل میڈیا پر فوج کے ادارے کے خلاف بکواسیات کرتے رہتے ہیں اب عوام یہ برداشت نہیں کرے گی کیونکہ جس طرح پہلے کہا جا چکا ھے کہ افواج پاکستان میں اپنا احتساب کا ایک خود کار طریقہ موجود ھے ایک بار پھر کہوں گا کہ قانون سے کوئی با لاتر نہیں ھے اور افواج پاکستان کے اپنے اداروں میں یہ صلاحیت موجود ھے کہ اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو اس کا احتساب ہوگا
ایک طرف مطالبہ کہ خاتون کے فعل کو فوج کے ساتھ نہ جوڑا جائے دوسری طرف آپ فرمارہے ہیں کہ فوج اس کو سزا دے گی۔۔ فوج کون ہوتی ہے اس کو جزا و سزا دینے والی ۔ یہ ایک سویلین معاملہ ہے، سویلین عدالت میں چلنا چاہیے، اگر فوج چاہتی ہے کہ ادارے کا نام نہ آئے تو کیوں اس عورت کی سرپرستی کررہی ہے۔ آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کرے اور کہے کہ ہمارے ادارے کا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں، سول ادارے اس کو ایک سویلین کے طور پر ڈیل کریں۔۔۔ پھر کوئی بھی فوج پر انگلی نہیں اٹھائے گا۔۔ فوج تو خود پوری طرح ملوث ہے اس معاملے میں۔
 

Majid Sheikh

MPA (400+ posts)
آئی ایس پی آر نے باقاعدہ میڈیا پرسنز اور نیوز چینلز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایف آئی آر والی
خبر پر بھی بریکنگ نیوز نہ چلائی جائے بس ٹکر چلائے جائیں تاکہ یہ واقعہ زیادہ موضوع بحث نہ بنے۔

Any supporting for this claim ?
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں