خان صاحب سے پیار . محبت، عقیدت اپنی جگہ... لیکن مرشد کھیلنے کو چاند مانگ رہے تھے، جو ان کو لانے والوں کے بس میں نہیں تھا.. جناب فرما رہے تھے میں تین جرنیلوں کا انٹرویو کر کے ڈی جی آئ ایس آئ کا تقرر کروں گا... ان تین جرنیلوں نے یقینا فوج میں اس وقت کمیشن حاصل کیا تھا جب خان صاحب برطانیہ میں تنظیم سازیاں کیا کرتے تھے ...آئ ایس آئ کا ایک ڈی جی ہوتا ہے جس کے نیچے نو میجر جرنل ہوتے ہیں ... آسان الفاظ میں کہا جائے تو پوری فوج کا نچوڑ ہوتا ہے یہ ادارہ.... جس کی تقریری اور تبدلے کی کھرلی میں خان صاحب سر دینے کی خواہش کر رہے تھے... پھر اس کڈ میں سے ڈنگ تو لگنا ہی تھا... نہ ایسا کوئی انٹرویو پہلے ہوا، نہ ہونا چاہیے تھا اور نہ ہو گا .... سیاست دانوں کو اس پھڈے میں کبھی نہیں پڑنا چاہیے... ایک یہی تو رہ گیا ہے ورنہ کون سا ایسا ادارہ ہے جس کی ماں بہن ایک نہیں کر دی ان لوگوں نے... قصہ مختصر جس کسی مشیر نے بھی خان صاحب کو ایسا مشورہ دیا تھا ،،،، وو نہ تو تحریک انصاف کا ہمدرد تھا اور نہ ہی خان صاحب کا ، پھر یہاں لونڈوں کی فوج خان صاحب کی ان بونگی کے دفاع میں بھی آ گئی ... دوستو مان لو، خان کی یہ ایک غلطی تھی...