گندم درآمد کی سمری میرے وزیر بننے سے پہلے جاچکی تھی,سابق نگراں وزیر فوڈ

drkasuh11i1.jpg


گندم درآمد اسکینڈل پر سابق نگراں وزیر کا تہلکہ خیز انٹرویو سامنے آگیا,سابق نگراں وزیر فوڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ گندم درآمد کی سمری میرے وزیر بننے سے پہلے جاچکی تھی, گندم درآمد کے مخالف کرنے والے سابق نگراں وزیر فوڈ سیکیورٹی ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے اےآروائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گندم درآمد کی سمری میرے وزیر بننے سے پہلے جاچکی تھی۔

سابق نگراں وزیر نے کہا کہ سمری بھیجی گئی کہ 5 لاکھ یا 1 ملین ٹن تک گندم درآمد کی جائے جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے رائے دی ابھی ہمارے پاس گندم کے وافر ذخائر ہیں، میں نے کہا گندم منگوانے کی ضرورت نہیں، اس لیے ٹی سی پی کے ذریعے گندم نہ منگوائیں۔
https://twitter.com/x/status/1787200122398351522
ڈاکٹرکوثر نے بتایا کہ ویٹ بورڈ اجلاس میں، میں نے تاریخ دی کہ اس تاریخ کے بعد گندم کا کوئی جہاز نہ آئے، اس تاریخ کے بعد جو کچھ ہوتا رہا علم نہیں اور نہ ہی میرا کردار تھا، ای سی سی میں معاملہ ڈسکس ہوا تو انہوں نے کہا نجی سیکٹر کو امپورٹ کا کہا جائے جب ای سی سی نے اجازت دے دی تو پھر کیا کچھ ہوتا رہا اس کا مجھے علم نہیں ہے۔

سابق نگراں وزیر نے کہا کہ نجی سیکٹر کو امپورٹ کی اجازت دینا میرے اختیار میں نہیں تھا یہ ای سی سی کا کام تھا، وزیر فوڈ سیکیورٹی ای سی سی کا ممبر نہیں ہوتا، ضرورت کے وقت سیکرٹری کو بلایا جاتا ہے,انہوں نے کہا کہ جب کبھی گندم کی کمی ہو تو وہ 2.5 ملین میٹرک ٹن ہوتی ہے مگر 3500 منگوالی گئی، یہ تو ہمارا کلچر ہے افسران کئی چیزیں بتاتے نہیں اور خود ہی چلا دیتے ہیں، ان سیکرٹریز کو پتہ ہوتاہے نگراں وزیر کچھ عرصے کے لیے آئے ہیں اور انکی اتھارٹی بھی نہیں۔

انٹرویو میں سابق نگراں وزیر نے بتایا کہ نگراں سیٹ اپ سے پہلے سمری جاچکی تھی لیکن اگر بعد میں درآمد کو بڑھایا گیا تو ہمیں بتاتے تو روک سکتے تھے، گندم درآمد کے وقت کیپٹن (ر) محمد محمود ہی سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی تھے اور مجھ سے پہلے موجود تھے۔

ڈاکٹر کوثر نے کہا کہ گندم امپورٹ کا معاملہ پہلے کابینہ اور پھر ای سی سی سے منظور ہوا، ای سی سی میں اصل کردار خزانہ اور وزارت تجارت کا ہوتاہے، میں نے ستمبر اکتوبر 2023 کو بتا دیا تھا ہمارے پاس گندم کے ذخائر موجود ہیں، ڈائریکٹوریٹ پلانٹ پروڈکشن امپورٹ ایکسپورٹ کے پرمٹ دیتاہے وہاں بھی گڑبڑ ہے۔

پنجاب میں گندم ذخائر40لاکھ 47 ہزار 508میٹرک ٹن پہلے سے موجود تھے، گندم کو 2600 سے 2900فی من تک درآمد کرکے 4700تک فروخت کی گئی اور گندم کےاسٹاک کو روک کرمصنوئی قلت ظاہر کی گئی۔گندم درآمد سے متعلق انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ درآمدات26ستمبر 2023سے شروع ہوئی اور 31مارچ 2024 تک جاری رہی جو لگ بھگ 6 ماہ کا عرصہ بنتا ہے۔
https://twitter.com/x/status/1787019681263763747
رانا تنویر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بدقسمتی سے جو ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا نہیں ہونا چاہیے تھا، اس سلسلے میں کمیٹی بنا دی ہے اس کی رپورٹ کا انتظار کریں۔
 

Kam

Minister (2k+ posts)
1. Wheat is over priced in Pakistan.
2. The rates should be determined as per the International Price. Or the rates in Afghanistan or Iran minus transportation and other costs.
3. The rates of essential elements for crop such as Urea and other fertilizers should be as per the international market. When we create a special situation, it creates problems of its own.