الیکشن کمیشن کا وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو نوٹس

8ecphamzanotice.jpg

الیکشن کمیشن نے پنجاب کی عوام کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی جانب سے روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت بجلی دینے کے اعلان کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 7 جولائی کو طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبہ پنجاب کے 5 کروڑ 50 لاکھ افراد کیلئے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے پر رواں ماہ سے مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ سیاست تو ہوتی رہے گی اب ریاست بچانے کا سوال ہے۔ مفت بجلی کی فراہمی سے عام آدمی کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا مفت بجلی کا اعلان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی حکومتی، سرکاری عہدیداران یا منتخب نمائندہ الیکشن شیڈول کے اعلان ہو جانے کے بعد متعلقہ حلقون میں کسی قسم کی ترقیاتی سکیم کا اعلان نہیں کر سکتا۔


یاد رہے کہ الیکشن شیڈول 25 مئی 2022 کو جاری کیا گیا تھا جس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ صوبائی حکومت کی طرف سے کسی قسم کے ترقیاتی کام کا اعلان نہیں کیا جائیگا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت بجلی فراہمی کا اعلان 4 جولائی 2022 کو کیا گیا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت بجلی فراہمی کے اعلان پر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی نائب صدر فواد چودھری نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے ہے اور یہ فیصلہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انتخابی ضابطہ اخلاق کو پیروں تلے روندا ہے۔ حمزہ شہباز شریف کا مقصد عوام کو سہولت دینا نہیں بلکہ ضمنی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔


انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جعلی وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ضمنی انتخاب سے قبل پیکیج کا اعلان ضمنی انتخاب کے صاف شفاف انعقاد پر اثراندز ہونے کی مکرویہ کوشش ہے۔


علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے فری بجلی فراہمی کے اعلان پر پاکستان تحریک انصاف کے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے ناداروں کو بجلی مفت فراہم کریں، خیبر پختونخوا حکومت کو فتنہ خان کو پالنے اور اس کا خرچہ اٹھانے کیلئے رکھا ہوا ہے؟ محنت کریں، حسد نہ کریں۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

shafali

Chief Minister (5k+ posts)
حرام خوروں کی نورا کشتی ۔ اب ایسے نہیں چلے گا ۔
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Khali zubani kalami nahi..sakht action hona chahay..Ye bhi PTI ka SC se kehnay ki wajah se action ki baat ki ha.warns EC kabhi na karta.SC ki bachi kuchi credibility ka sawal ha.Hamza ki guarantee SC ke CJ Bandial smait judges ne di ha..koi mazaq nahi ha.
 
Sponsored Link