یہ تو باقاعدہ کاٹنے تک جا چکی ہیں!

News_Icon

MPA (400+ posts)
Whats-App-Image-2021-10-19-at-8-53-08-PM-1.jpg


 
Last edited by a moderator:

hello

Minister (2k+ posts)
سرکاری حاجن عاصمہ شیرازی یہ بھی پوچھ لے کہ انہیں منی لانڈرنگ کرتے کتنا وقت گزر گیا یہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ تو 90 کی دہانی میں ناجائز دولت سے بنائے گئے تھے یہ سب کچھ تو اب سامنے آ گیا ہے بلکہ ابھی لندن عدالتی فیصلے سے تو ان 76 پراپرٹیز اور سامنے آ گیں ہیں

سپیشل عاصمہ شیرازی سرکاری حاجن صحافی کولندن لے کر گئی وہ اتنی بغیرت ہے اوپر دوپٹہ نیچے جین کی پینٹ اور شرٹ پہن کر اپنی آپ کو بڑی مذہبی دیکھاتی ہے لیکن اندر سے پوری پٹوارن ہے اور لوگوں کو یہ دونوں شوٹ کرکے دیکھا رہیں تھیں دیکھیں مریم اور نواز کتنے پریشان ہیں تاکہ ان کے لیے لوگوں کی ہمددیاں اکھٹی کی جا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔

موصوفہ نے سر پے ڈوپٹہ لے کر اینکری کر کے بڑا نام کمایا یہ علحیدہ بات ہے نیچے ایک چست شرٹ اور جین کی پینٹ پہن رکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ان کو سرکاری حاجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہےاور ان کی اینکری رینٹ پے بھی دستیاب ہوتی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے موصوفہ کو لندن جاتے مریم اور باؤ جی کے لیے ویڈیوز فلماتے دیکھا جس میں موصوفہ بڑی چلاکی سے کلثوم نواز کو بیماری کی حالت میں دیکھا کر ایک جزباتی پیغام دلوا رہیں تھیں کہ میاں نواز شریف بڑے کرب میں ہیں لہزا قوم ان کا ساتھ دے لیکن وہ سب فلاپ ہو گیا تھا
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
بی بی سی اردو کی صحافت کا یہی بازاری معیار ہے بازاری عورتوں سے بازاری زبان لکھوا کر بازاری انداز میں چھاپنا جب سے اس بازاری عورت نے بازاری انداز میں سرکاری خرچے پہ حج کر کے بازاری انداز میں اس کی تشہیر کی ہے اور پھر بازاری انداز میں اسے ڈیفینڈ کر کے سرکاری حجن کا خطاب پایا ہے اس دن سے اس بازاری عورت کا میں نے ایک بھی بازاری کالم نہیں پڑھا ہے نا غیر بازاری بات
 

Goldfinger

Politcal Worker (100+ posts)

_121132572_mediaitem121132571.jpg

کہانی بڑے گھر کی

عاصمہ شیرازی کا کالم

طاقت کے کھیل میں لڑائی کے اُصول طے کیے جاتے ہیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ کس وقت پر کس رِنگ میں کون سے پہلوان اُتارنے ہیں، کیسی ٹیم کھلانی ہے اور جیتنے کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ اچھے کپتان ساری توقعات کسی ایک کھلاڑی سے نہیں لگاتے بلکہ ہر ایک کا بیک اپ ضرور رکھتے ہیں۔
بُرا ہو ستاروں کی چال کا، نہ عطارد زوال پذیر ہوتا، نہ ہی زُحل اپنے خانے سے نکل کھڑا ہوتا، نہ سُورج اپنی جگہ بدلتا اور نہ ہی چاند نمودار ہوتا۔ بس سُورج کی جگہ بدلنے کی دیر تھی کہ اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے اور انھی گھڑیوں میں زوال کا وقت حاوی ہوا اور اب سُورج پھر بڑے گھر میں ہے۔
سیاست اور کھیل میں بس یہی فرق ہے کہ سیاست میں ہر ستارے کو اپنے آنگن میں اُتارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور زوال کے وقت صبر جبکہ عروج کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے۔
موجودہ ’پراجیکٹ تبدیلی‘ کے لیے ہر جتن کیا گیا۔ بڑے گھر نے سارے انڈے ایک ٹوکری میں ڈال لیے تو چھوٹے گھر نے بھی سارا جُوا ایک ہی شخصیت پر لگا دیا۔ نتیجہ یہ کہ دونوں اس وقت دل گرفتہ ہیں اور جنتری سے نئے منتر نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گذشتہ دو ہفتوں سے وطن عزیز میں جاری ’سمری اننگ‘ کا نتیجہ جو بھی نکلے ایک بات تو طے ہے کہ ہاتھوں سے کبوتر نکالتے نکالتے طوطے اُڑائے جا چُکے ہیں۔ اب ایک طرف کمانیں تبدیل ہو رہی ہیں تو دوسری جانب الوداعی ملاقاتیں۔۔۔ یہ تو طے ہے کہ ادارہ کبھی اپنے ’باس‘ کو بائے پاس نہیں کرتا اور نہ ہی فیصلے واپس لیے جاتے ہیں۔ پہلے کبھی ہوا نہیں اور اب بھی ایسا سوچا نہیں جا سکتا۔
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے کچھ ادارے کے پاس تقرریوں کے لیے وقت کی قلت اور کچھ بگڑی ہوئی چیزوں کو درست کرنے کا احساس، دن بہ دن بگڑتی معیشت اور آنے والے دنوں میں مزید اہم تعیناتیاں۔۔۔
سیاسی جماعتیں ہوں یا عدالتی معاملات وقت آ گیا ہے کہ بگاڑ کو سُدھار کی جانب لے جایا جائے۔ ادارے کے لیے اہم یہی تھا کہ وقت اور حالات کے پیش نظر فیصلے کیے جائیں مگر یہ خیال نہ تھا کہ فیصلے پر فیصلہ بھی سُنایا جائے گا؟ یہ دھچکا بہرحال لگ چُکا ہے، اب اس دھچکے کے بعد کیا ہو گا یہ وہ سوال ہے جو اسلام آباد میں ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے۔
گذشتہ چند دنوں کی دھول اب تک نہیں بیٹھی۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا؟ مملکت کے معاملات کیسے چلائے جائیں؟ معیشت اور سیاست بند گلی میں کھڑی ہے، حکومت غیر مقبول اور عوام مضطرب۔ اس سے قبل کہ غیر یقینی صورت حال حالات کو ہی قابو میں کر لے، اب کرنا کیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار اور دوسری جانب دُنیا بد اعتماد، آئی ایم ایف کا شکنجہ بھی پاکستان کے گرد کسا جا چُکا ہے۔ کیا ان حالات میں کوئی سیاسی جماعت ملک سنبھالنے کو تیار ہو گی؟
کیا وقت آ گیا ہے کہ فوج کا منظم ادارہ بنگلہ دیش کی طرح سب سیاسی جماعتوں کو بٹھائے اور قومی ڈائیلاگ کا آغاز کرے؟ صاف شفاف انتخابات کرائے اور ملک سیاستدانوں کے حوالے کر کے اپنا بُنیادی کردار ادا کرے؟
یہ سب سوال مشکل ہیں لیکن ناممکن نہیں۔ آج بھی میثاق معیشت پر بات ہو سکتی ہے۔ حزب اختلاف کی سنجیدہ سیاسی جماعتیں ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کو اختیار کریں یا قلیل المدتی حکومت بنائیں، یہ طے ہے کہ کوئی ایک جماعت حکومت نہیں چلا پائے گی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کو سیاسی شہادت دیے بغیر تبدیلی کیسے لا سکتی ہیں اور نظام گرنے سے کیسے بچا سکتیں ہیں۔ یہ دونوں بڑی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن اس سب کے لیے اپوزیشن کو جلد ایک صفحے پر آنا ہو گا۔

اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب تبدیلی کے اس چرخے میں کون کون آئے گا؟ سیاسی چال ستاروں کے حال سے زیادہ اہم ہے۔
 

rmunir

Minister (2k+ posts)
Agar aap Western media mein apni tehreerain chhapwana chahta hain to apnay mulk, mazhab aur rawayaat ka mazaq urain aapki tehreerain Western media mein bahot popular hongi
 

master timi

MPA (400+ posts)
میثاق معیشت؟ قومی حکومت جس میں تمام پارٹیوں کو شامل کیا جائے؟

یہ کالم ہے یا ن لیگ کا منشور؟ ساری وہ ہی باتیں جو ن لیگ کہتی ہے ۔ یہ لوگ پھر اپنے آپ کو صحافی بولتے ہیں حالانکہ یہ ن لیگ کے ماوتھ پیس ہیں

اور پھر یہ معصوم اور مظلوم بھی بنتے ہیں۔ عاصمہ باجی کچھ مہینوں پہلے رونی آواز میں بتا رہی تھیں کہ میرے بیٹے سے اس کے دوست پوچھتے ہیں کہ کیا تھماری ماں لفافہ لیتی ہے
 
Last edited:

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member

_121132572_mediaitem121132571.jpg

کہانی بڑے گھر کی

عاصمہ شیرازی کا کالم

طاقت کے کھیل میں لڑائی کے اُصول طے کیے جاتے ہیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ کس وقت پر کس رِنگ میں کون سے پہلوان اُتارنے ہیں، کیسی ٹیم کھلانی ہے اور جیتنے کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ اچھے کپتان ساری توقعات کسی ایک کھلاڑی سے نہیں لگاتے بلکہ ہر ایک کا بیک اپ ضرور رکھتے ہیں۔
بُرا ہو ستاروں کی چال کا، نہ عطارد زوال پذیر ہوتا، نہ ہی زُحل اپنے خانے سے نکل کھڑا ہوتا، نہ سُورج اپنی جگہ بدلتا اور نہ ہی چاند نمودار ہوتا۔ بس سُورج کی جگہ بدلنے کی دیر تھی کہ اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے اور انھی گھڑیوں میں زوال کا وقت حاوی ہوا اور اب سُورج پھر بڑے گھر میں ہے۔
سیاست اور کھیل میں بس یہی فرق ہے کہ سیاست میں ہر ستارے کو اپنے آنگن میں اُتارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور زوال کے وقت صبر جبکہ عروج کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے۔
موجودہ ’پراجیکٹ تبدیلی‘ کے لیے ہر جتن کیا گیا۔ بڑے گھر نے سارے انڈے ایک ٹوکری میں ڈال لیے تو چھوٹے گھر نے بھی سارا جُوا ایک ہی شخصیت پر لگا دیا۔ نتیجہ یہ کہ دونوں اس وقت دل گرفتہ ہیں اور جنتری سے نئے منتر نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گذشتہ دو ہفتوں سے وطن عزیز میں جاری ’سمری اننگ‘ کا نتیجہ جو بھی نکلے ایک بات تو طے ہے کہ ہاتھوں سے کبوتر نکالتے نکالتے طوطے اُڑائے جا چُکے ہیں۔ اب ایک طرف کمانیں تبدیل ہو رہی ہیں تو دوسری جانب الوداعی ملاقاتیں۔۔۔ یہ تو طے ہے کہ ادارہ کبھی اپنے ’باس‘ کو بائے پاس نہیں کرتا اور نہ ہی فیصلے واپس لیے جاتے ہیں۔ پہلے کبھی ہوا نہیں اور اب بھی ایسا سوچا نہیں جا سکتا۔
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے کچھ ادارے کے پاس تقرریوں کے لیے وقت کی قلت اور کچھ بگڑی ہوئی چیزوں کو درست کرنے کا احساس، دن بہ دن بگڑتی معیشت اور آنے والے دنوں میں مزید اہم تعیناتیاں۔۔۔
سیاسی جماعتیں ہوں یا عدالتی معاملات وقت آ گیا ہے کہ بگاڑ کو سُدھار کی جانب لے جایا جائے۔ ادارے کے لیے اہم یہی تھا کہ وقت اور حالات کے پیش نظر فیصلے کیے جائیں مگر یہ خیال نہ تھا کہ فیصلے پر فیصلہ بھی سُنایا جائے گا؟ یہ دھچکا بہرحال لگ چُکا ہے، اب اس دھچکے کے بعد کیا ہو گا یہ وہ سوال ہے جو اسلام آباد میں ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے۔
گذشتہ چند دنوں کی دھول اب تک نہیں بیٹھی۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا؟ مملکت کے معاملات کیسے چلائے جائیں؟ معیشت اور سیاست بند گلی میں کھڑی ہے، حکومت غیر مقبول اور عوام مضطرب۔ اس سے قبل کہ غیر یقینی صورت حال حالات کو ہی قابو میں کر لے، اب کرنا کیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار اور دوسری جانب دُنیا بد اعتماد، آئی ایم ایف کا شکنجہ بھی پاکستان کے گرد کسا جا چُکا ہے۔ کیا ان حالات میں کوئی سیاسی جماعت ملک سنبھالنے کو تیار ہو گی؟
کیا وقت آ گیا ہے کہ فوج کا منظم ادارہ بنگلہ دیش کی طرح سب سیاسی جماعتوں کو بٹھائے اور قومی ڈائیلاگ کا آغاز کرے؟ صاف شفاف انتخابات کرائے اور ملک سیاستدانوں کے حوالے کر کے اپنا بُنیادی کردار ادا کرے؟
یہ سب سوال مشکل ہیں لیکن ناممکن نہیں۔ آج بھی میثاق معیشت پر بات ہو سکتی ہے۔ حزب اختلاف کی سنجیدہ سیاسی جماعتیں ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کو اختیار کریں یا قلیل المدتی حکومت بنائیں، یہ طے ہے کہ کوئی ایک جماعت حکومت نہیں چلا پائے گی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کو سیاسی شہادت دیے بغیر تبدیلی کیسے لا سکتی ہیں اور نظام گرنے سے کیسے بچا سکتیں ہیں۔ یہ دونوں بڑی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن اس سب کے لیے اپوزیشن کو جلد ایک صفحے پر آنا ہو گا۔

اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب تبدیلی کے اس چرخے میں کون کون آئے گا؟ سیاسی چال ستاروں کے حال سے زیادہ اہم ہے۔
First time I gave someone dislike on this forum. Congratulations Bughaz Imran Khotay. Even other senior journalists bash Asma Shirazi for posting this article and yet you shared it here.
 
Sponsored Link