سوشل میڈیا کی خبریں

حال ہی میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا چھوٹی عید پر ایک بڑا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے مریم نواز کی عاجزی و انکساری بیان کرتے ہوئے کہا ک مریم نواز بازار سے عام 500، 600، 700، 800 روپے کا جوڑا لیکر پہن لیتی ہیں،اور چہرے پر صرف ایک یا دو چیزیں لگی ہوتی ہیں ۔ وزیر اطلاعات کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی آراء کی بھرمار ہو گئی ۔ اور انکے اس بیان کو شدید تنقید اور طنز کا سامنا کرنا پڑا،انکا کہنا تھا کہ اس مہنگائی کے دور میں 500 سے 800 کا سوٹ کہاں ملتا ہے؟ گھٹیا سے گھٹیا کوالٹی کا سوٹ بھی اتنے کا نہیں ملتا۔ فیاض شاہ نے تبصرہ کیا کہ یہ کون سے پاکستان کی بات کر رہی جہاں 700-800 کا لان کا سُوٹ مل رہا ہے؟ 800 روپے میں تو اب سمپل ٹی شرٹ نہیں ملتی آزاد منش کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا لان کا سوٹ اگر چھ سات سو روپے میں آتا ہے تو سلائی عظمی بخاری خود کر کے دیتی ہوگی، سو ڈیڑھ سو روپے میں عبید بھٹی نے تبصرہ کیا کہ جس زمانے میں سوٹ کی سلائی 1500 سے 2000 روپے ہے، اس زمانے میں مریم نواز صاحبہ 600، 700 والا سوٹ سیل سے لے کر پہنتی ہیں لیکن انکو جچ اتنا جاتا ہے کہ گوچی ارمانی کا لگنے لگتا ہے۔ عظمی بخاری صاحبہ نے میٹھا اس قدر تیز کر دیا ہے کہ 25 کروڑ لوگوں کو اس بیان سے شوگر ہو جائے فراز چشتی نے کہا کہ ویسے 800 سو کا تو بچے کا ریڈی میڈ بھی نہی ملتا یہ مریم نواز 800 سو کا کون سا کپڑا لیتی ہے وہ شاید کوئی اور کپڑا ہوگا ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ مجھے اس دکان کا پتہ بتائیں، سارے محلے کی عورتوں کو عید گفٹ میں اپنی جیب سے دوں گی وقاص کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اس نے مریم نواز کے مہنگے جوڑوں پر عوام کی نظر دلوائی ہے
استاد چاہت فتح علی خان نے عید کی خوشیوں کو چار چاند لگادئیے۔۔ ہائے، ہائے، اوئے ہوئے، آپ کی عید کی خوشیاں دوبالا کرنے استاد چاہت فتح علی خان آگئے اور چھا گئے،"اکھ لڑی بدوبدی موقع ملے کدی کدی"۔ استاد چاہت فتح علی خان نے عید کے موقع پر اپنے مداحوں کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے نیا گانا پیش کردیا ہے۔ گانے کے بول ہیں۔۔ہائے، ہائے، اوئے ہوئے،اکھ لڑی بدوبدی موقع ملے کدی کدی چاہت فتح علی خان کے اس گانے پ دلچسپ تبصرے ہورہے ہیں، ملیحہ ہاشمی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہت فتح علی خان صاحب سے صرف اتنا سوال ہے کہ انہوں نے بال کس سے straight کرواۓ ہیں؟ لڑکیوں کے بال اتنے pitch perfect طریقے سے سیدھے نہیں ہوتے جتنی ان کی زلفیں ہیں اور اوپر سے یہ جان لیوا موسیقی "ہاۓ ہاۓ" اسداللہ خان کو چاہت فتح علی خان کا گانا پسند نہ آیا اور کہا کہ چاہت فتح علی خان کے علاوہ سب کو عید مبارک سلمان درانی نے کہا کہ صبح صبح یہ کیا دیکھ لیا ہے ایوب خان نے کہا کہ لڑکی پے ترس آرہا ہے، کوئی اُور نہیں ملا اس کو۔؟ اور افسوس یہ ہو رہا ہے کہ استاد چاہت فتح علی کو تمغہ امتیاز کیوں نہیں دیا گیا عمران نے کہا کہ اس بیچاری لڑکی نے کتنے پیسوں میں یہ اذیت برداشت کی ہو گی۔ سر چاہت فتح علی خان پہ دو تین کیس کروادیں آپکے لئے تو عام بات ہوگی مگر کچھ عرصے کے لئے عوام کے کانوں کو سکون آجائے گا۔ کبھی تو عوام کے لئے سوچیں
بہاولنگر واقعہ کو سوشل میڈیا صارفین مکافات عمل قرار دے رہے ہیں گزشتہ دنوں بہاولنگر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں فوجی اہلکاروں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، جس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور اس واقعے کو سوشل میڈیا پر بہت ڈسکس کیا جارہا ہے۔ پولیس پارٹی نے ایک گھر پر چھاپا مارا تھا، گھر میں موجود افراد نے پولیس اہلکاروں پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور تشدد کرنے کا الزام لگایا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مطلوب ملزم کی گرفتاری کےلیے ایک گھر میں چھاپا مارا تھا، جس کے دوران اہل خانہ سمیت متعدد افراد نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ پولیس نے خواتین سمیت 23 افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ دل تو نہیں کرتا یہ کہنے کو مگر کہنا بھی لازمی ھے ان حالات میں- پنجاب پولیس آلہ کار بن کر لوگوں پر جس حد تک ظلم کر چکی ھے، نہایت بدقسمت واقعہ ان کے ساتھ بہاولنگر میں پیش آیا۔ کیسا محسوس ھو رھا ھوگا؟ دل ٹوٹے ھوں گے یقینی طور پر۔ اپنی تکلیف دیکھ کر لوگوں کا بھی کچھ احساس ھوا؟ عدیل راجہ نے راحت اندوری کا ایک شعر پیش کیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میںیہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے احمد حسین بوبک کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کے یہ مظالم آج مکافات عمل بن کر ان کے سامنے آ رہے ہیں فیضی کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کے کیے یہ مظالم آج مکافات عمل بن کر ان کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ایک نہتی ماں سمیت کتنے ہی بے گناہ لوگوں کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ پنجاب پولیس کو جلد توبہ کر لینی چاہیے وقاص امجد کا کہنا تھا کہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔۔ہزاروں گھر کا تقدس پامال کرنے والوں کا آج اپنا تقدس پامال ہو گیا۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل بہاولنگر واقعے کو دونوں اداروں کی جانب سے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرلیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر موجود اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے لکھا کہ بہاولنگر میں پیش آنے والے معمولی واقعے کو سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر اور بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ عید کے پہلے روز سوشل میڈیا پر یہ خبریں وائرل ہونے لگیں کہ بہاولنگر کے تھانہ مدرسہ میں فوج کے 40 سے 50 افراد نے دھاوا بولا اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ پنجاب پولیس کا کہا ہے کہ اس حوالے سے یہ غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے پاک فوج اور پنجاب پولیس کے درمیان کوئی محاذ آرائی ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ باتیں وائرل ہونے کے بعد دونوں اداروں کی طرف سے فوری جوائنٹ انوسٹی گیشن کی گئی جس میں دونوں اداروں کے افسران نے تمام حقائق کا جائزہ لیا اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا۔ بیان میں مزید کہا کہ پاک فوج اور پنجاب پولیس دہشت گردوں، شر پسندوں اور خطرناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پورے صوبے میں مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، عوام سے درخواست ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے جعلی پراپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔ پنجاب پولیس کے اس ٹویٹ پر کمیونٹی نوٹ لگ گیا، کمیونٹی نوٹ سوشل میڈیا صارفین نے کچھ ویڈیوز شئیر کیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر فوج کے جوان تشدد کررہے ہیں اور انہیں گھٹنوں کے بل بٹھایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے جس پر کمیونٹی نوٹ لگ گیا ہے، اس معمولی سے واقعہ میں زیادہ سے زیادہ کیا ہوا تھا، پولیس والوں کو ٹھڈے مارے گئے، انہیں گھٹنوں کے بل بٹھایا تھا اور پھینٹا لگایا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کو سوچنا چاہئے تھا کہ انکی غلط بیانی انکے لئے کتنی سبکی کا باعث بن سکتی ہے، پہلے ہی انہوں نےا پنی سبکی اپنے لوگوں کو گھنٹوں کے بل اور تشدد سے کروائی، انکے مطابق ایکس پر پابندی کی ایک وجہ یہ کمیونٹی نوٹ بھی ہیں جو حقائق سامنے لے آتے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار اوریا مقبول جان کی جانب سے مریم نواز شریف کی ایک جعلی تصویر شیئر کرکے نامناسب تنقید پر صحافی برادری کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، اوریا مقبول جان نے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اوریامقبول جان نے مریم نواز شریف کی ایک جعلی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہ ایک زمانہ تھا جب نصرت بھٹو کی امریکی صدر کے ساتھ ڈانس کی تصویروں پر ایک ہنگامہ کھڑا ہواگیا تھا، اس وقت نواز شریف اور ان کے خاندان کے پروردہ صحافیوں نے کئی سال ان تصویروں کو استعمال کیا، مریم نواز کی یہ تصویر بھٹو خاندان کی مظلومیت کی یاددہانی کیلئے ہے۔ صحافی شفاعت علی نے کہا رمضان کے مہینے میں وی پی این سروس کا استعمال کم کیا کریں، اس عادت کی کثرت سے انسان ذہنی اثر لے جائے تو جعلی تصویروں کو شیئر کرنا شروع کردیتا ہے، نفرت ضرور کریں مگر ذہنی ننگا پن دنیا سے راز دکھیں۔ سینئر صحافی مبشرزیدی نے کہا کہ ایف آئی اے کو اوریا مقبول جان کی جان کی اس پوسٹ پر کارروائی کرنی چاہیے۔ سینئر صحافی اسد علی طور نے کہا کہ خواتین سیاستدانوں کو ٹارگٹ کرنا اور اس معاشرے کے بیمار ذہنوں کی توجہ حاصل کرنا بہت آسان ہے، ایسے شرمناک ٹویٹس اور ذہنیت دونوں قابل مذمت ہیں۔ صحافی عاطف توقیر نے کہا کہ اس ملک میں کوئی قانون ہے؟ ایسے غلیظ لوگ آزاد کیوں پھررہے ہیں؟ یہ بندہ نا تو صحافی ہے اور نا ہی کوئی تجزیہ کار، یہ خواب فروش انسان ہے اور نفرت کا بیوپار کررہا ہے۔ یوٹیوبر سلمان درانی نے کہا کہ اوریا مقبول پر وہ صحافی بھی تنقید کررہے ہیں جو ناصرف بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کی خواتین کو لے کر ہرکردار کشی مہم کو سپورٹ کرتے دیکھے گئے ہیں، بلکہ وہ خود بھی دن رات خواتین کی کردار کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
صحافی محمد عمیر کے مطابق شاہد چوہدری المشہور شادا لاہور کا مشہور زمانہ جواریا اور سٹہ باز ہے،مزنگ لٹن روڈ کے لوگ اسے خوب جانتے ہیں اس پر جوئے کے درجنوں مقدمات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ٹک ٹاکر ہے تو جیل حکام نے اسے کیمپ جیل کا وزٹ کروایا اور پروگرام ریکارڈ ہوا،افسران ایک جواریے کو بریفننگ دیتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت میں کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہے جو کاشف ضمیر اور شادا جواریا جیسے جرائم پیشہ لوگوں کو سرکاری پروٹرکول دینے سے روک سکے؟حکومتی ادارے کیوں ان جرائم پیشہ لوگوں کو پرموٹ کررہے ہیں؟ صحافی شاہد اسلم نے اس پر ردعمل دیا کہ جب ساری حکومت ہی ٹک ٹاک پر چل رہی ہو تو اس میں شاہد چوہدری جیسے جواریوں سے ناروا سلوک کیوں۔ کیا یہ جواری اس ملک کے شہری نہیں ہیں اگر وہ جواری ہیں تو کیا انکے ٹک ٹاک بنانے کے حقوق سب ختم ہوگئے، حکام نے بریفنگ ہی تو دی ہے ایک جواریے کو اسے گرفتار تو نہیں کیا نا، عمیر بھائی آپ خواہ مخواہ شریف جواریوں کے ٹاک ٹاک سے پریشان ہیں۔ اس ملک میں کونسا کوئی قانون ہے قاعدہ ہے۔ احمد وڑائچ نے کہا کہ پولیس کے بہت وڈے افسر نے جونیئرز کو کہا ہوا ہے کہ اور کچھ کریں نہ کریں، ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ اسٹیٹس پر ویڈیوز لازمی لگائیں۔ اسی لیے 13 پرچوں کا ملزم کاشف ضمیر مہمانِ خصوصی بنا اور سٹے باز کو بریفنگ دی گئی۔ ٹک ٹاک کی حکومت ہو اور ٹک ٹاکرز کو پروٹوکول نہ ملے؟؟ پوری پنجاب پولیس ہی جرائم پیشہ بن چکی ہے تو ان معمولی جرائم پیشہ افراد پر کیا شور مچانا۔ ایک جیسے لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں موجیں لگی ہیں آئی جی صاحب پورا محکمہ ٹک ٹاک پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں تو نچلا عملہ بھی تو پھر یہی کچھ کرے گا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ریکارڈ یافتہ ملزم کاشف ضمیر کو چوہنگ پولیس ٹریننگ سینٹر تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔کاشف ضمیر کو ٹریننگ سینٹر کے مختلف شعبوں کا وزٹ کروایا گیا عملے سیلفیاں بھی بنوائیں ملزم کاشف ضمیر اس وقت لاہور سمیت دیگر اضلاع میں 13 مقدمات میں نامزد ہے۔انہیں کچھ سال پہلے ارطغرل غازی کے مرکزی اداکار کیساتھ فراڈ پر بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ جعلی سرکاری ملازم بن کر فراڈ کررہا ہے۔
پنجاب پولیس کا ملزمان کو خصوصی مہمان بنانے کا آغاز۔۔ارطغرل غازی کے مرکزی کردار کو چونا لگانیوالا کاشف ضمیر چوہنگ پولیس اسٹیشن میں مہمان خصوصی صحافی عمران بھٹی کے مطابق ریکارڈ یافتہ ملزم کاشف ضمیر کو چوہنگ پولیس ٹریننگ سینٹر تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔کاشف ضمیر کو ٹریننگ سینٹر کے مختلف شعبوں کا وزٹ کروایا گیا عملے سیلفیاں بھی بنوائیں عمران بھٹی کا کہنا تھا کہ ملزم کاشف ضمیر اس وقت لاہور سمیت دیگر اضلاع میں 13 مقدمات میں نامزد ہے۔ یادرہے کہ عثمانیہ سلطنت پر بنائے جانے والے شہرۂ آفاق ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے مرکزی کردار کی شکایت پر پنجاب پولیس نے جون 2021 کو ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کو گرفتار تھا۔اس وقت عمران خان برسر اقتدار تھے۔ ترک اداکار ایگن آلتن نے کاشف ضمیر کے خلاف آئی جی پنجاب کو ایک شکایتی ای میل بھیجی تھی، جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کا ذکر کیا اور ثبوت بھی فراہم کیے۔اسکے بعد آئی جی پنجاب نے کاشف ضمیر کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا۔ سی سی پی او لاہور نے تھانہ اقبال ٹاؤن کی پولیس نے جب کاشف ضمیر کے گھر جب چھاپہ مارا تو وہاں سے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی برآمد ہوئی، جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لے کر تھانے منتقل کیا ۔کاشف ضمیر نے گھر پر چھاپے مارنے والے پولیس اہلکاروں کے سامنے خود کو سرکاری افسر ظاہر کیا مگر وہ ثبوت اور بے گناہی پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس وقت کے ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت نے کہا تھا کہ ’کاشف ضمیر جعلی سونا پہن کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتا ہے، کاشف ضمیر نے ترک اداکار کے ساتھ فراڈ کر کے پاکستان کے تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کی‘۔ سی آئی اے کے مطابق ملزم کے قبضے سے غیر قانونی 9ایم ایم پستول اورگولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کاشف ضمیر کے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں پہلے سے 6 مقدمات درج ہیں جبکہ وہ کئی فراڈ کے کیسز میں ملوث بھی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم نے رواں سال ترک اداکار کو جعلی کمپنی کی تشہیر کے لیے معاہدے کے تحت پاکستان بلایا اور معاہدے کی رقم جعلی چیک کے ذریعے کی۔کاشف ضمیر کی جانب سے رقم ادا نا کرنے پر اینجن التان کام کئے بغیر دو ماہ قیام کے بعد اپنے ملک وآپس چلے گئے۔
ملٹری کورٹ میں زیرحراست افراد کی لسٹ پر خدیجہ صدیقی اور مشال یوسفزئی آمنے سامنے۔۔ ایک دوسرے پر جملے بازی مشال یوسفزئی نے ایک لسٹ شئیر کی جس میں انکا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹ میں زیر حراست مندرجہ ذیل 102 لوگوں کا بشمول بیرسٹر حسان نیازی اور ایڈوکیٹ حیدر مجید کا غیر قانونی ٹرائل غیر قانونی طریقہ کار سے مکمل ہوچکا ہے ۔ سپریم کورٹ کو ایکشن لے کر یہ تماشہ ختم کرنا ہوگا۔ اس پر خدیجہ صدیقی سامنے آگئیں اور کہا کہ بہت افسوس ہوا، آپ سے105 لوگوں کی لسٹ مانگی تھی، 28 لوگ جو لاہور میں ہیں ان سب سے رابطہ ہے اور مددبھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے لسٹ دینے کی بجائےمجھے کہا، تم ہو کون جو میں لسٹ دوں؟ عہدہ کیا ہے تمہارا؟ پھر آخر میں طعنہ دیا کہ تمہیں تو لسٹ نہیں ملے گی کبھی۔۔ اگر آپ اِن لوگوں کے لئے کام کر رہی ہوتی تو لسٹ دینے میں مسئلہ نا ہوتا۔ مشال یوسفزئی نے اس پر جواب دیا کہ سیریل نمبر 13 سے 40 تک لاہور کے افراد ہیں جن کے خاندانوں سے کانٹیکٹ اور ان کی مدد ریجنل صدر کرنل اعجاز منہاس صاحب کی ذمہ داری ہے اور پارٹی کی جانب سی دی گئی اس ذمہ داری کو وہ 9 مہینے سے نبھا رہے ہیں، چونکہ آپ ڈائریکٹلی انوولو نہیں تو آپکو زیادہ تر معلومات کا علم نہیں، نہ ہی آپ پریزنر کمیٹی کا حصہ ہیں جس سے آپ کو لیٹیسٹ ڈیولپمنٹس کا پتہ لگ سکے۔ انہوں مزید کہا کہ اب ٹرائل مکمل ہوچکے ہیں لیکن اگر آپ کو کسی اور چیز میں کوئی رہنمائی چاہیے تو پارٹی آفس سے کنٹیکٹ کرے ۔ مشال یوسفزئی نے مزید کہا کہ بد قسمتی سے ڈوریں جہاں سے ہل رہی ہیں اس کا ہمیں بخوبی اندازا ہے ۔ پارٹی اپنے لوگوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے لیکن آپ اس کے علاوہ اگر کسی کے لیے کچھ کر رہی ہے تو تفصیلات پارٹی آفس بھیجوا دے یا مجھے ڈی ایم کرے یا یہی پر پبلک کر دے کہ ہمِیں بھی معلوم ہوسکے۔ خدیجہ صدیقی نے کہا کہ آپ کو انسانوں کی قانونی یا مالی مدد کرنے کے لئے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی، دل ہونا چاہیے،انسانیت کا عہدہ سب سے بلند عہدہ ہے، ملٹری میں ۱۰۵ لوگ میرے نزدیک کسی پارٹی سے بڑھ کر انسان ہیں، پھر پاکستانی ہیں جن کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ لسٹ مانگنے کا مقصد یہی تھا کہ اِن لوگوں کی امداد کی جائے، حوصلہ دیا جائے، لاہور والے خاندانوں سے جب رابطہ ہوا تو پتہ چلا آئی ایل ایف کی طرف سے قانونی مدد تو دور کی بات، رابطہ تک نا کیا گیا۔ غلط بات کریں گے تو ہم سوال کریں گے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پکوڑوں سے متعلق معاشی تجزیہ کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پکوڑوں میں استعمال ہونے والے تیل کی مقدار سے متعلق کچھ اعدادوشمار شیئر کیے جس کے مطابق اگر لوگ پکوڑے کھانا چھوڑ دیں تو ایک ماہ میں ساڑھے 9 ملین ڈالر بچائے جاسکتے ہیں، اس پوسٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اے ایمان والوں تم پر روزے فرض ہیں پکوڑے نہیں۔ وزیر دفاع کے اس بیان پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دلچسپ تبصرے وتنقید سامنے آئی، احمد وڑائچ نے کہا کہ وزیر دفاع کی جگتوں سے حکومت کی معاشی معاملات پر سنجیدگی کا اندازہ لگالیں۔ ایک صارف نے کہا کہ پاکستانیوں مرجاؤ تاکہ یہ حکمران اپنی زندگی جی سکیں، ان کو آپ کی ٹینشن کھائے جارہی ہے۔ عامر سعید عباسی نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف عمرے کی ادائیگی کے دوران قومی کے نام اہم پیغامات جاری کررہے ہیں۔ حیدر علی نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقینی بنائیں ان جیسے لوگوں سے ڈیل کرنے کے بعد پکوڑے ان کا سارا خون جزب کرلیں۔
سیالکوٹ میں شاعر مشرق علامہ اقبال کی والدہ کے نام سے منسوب ایک میٹرنٹی اسپتال کا نام تبدیل کرکے اس کو وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے والد کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق وفاقی وزیر عثمان ڈار کی والدہ اور خواجہ آصف کے خلاف الیکشن لڑنے والی امیدوار ریحانہ ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ علامہ اقبال کی والدہ کے نام سے منسوب امام بی بی میٹرنٹی اسپتال کا نام تبدیل کرکے خواجہ آصف نے اپنے والد کے نام سے منسوب کرتے ہوئے خواجہ صفدر میٹرنٹی اسپتال رکھ دیا ہے، اس اسپتال کو بنانے کیلئے عمران خان کی حکومت نے تین کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسپتال پر شوکت خانم نہیں لکھا تھا، علامہ اقبال کی والدہ کے نام کی تختی کو ہٹایا گیا ہے، عمران خان کے دور میں سیالکوٹ میں ہونے والے فلاحی منصوبوں پر میرے بیٹے عثمان ڈار یا میرے کسی خاندان کے فرد کی نہیں ٹیکس پیئرز کے ناموں کی تختیاں لگائی گئیں، خواجہ آصف سے مطالبہ ہے اسپتال کا نام واپس علامہ اقبال کی والدہ سے منسوب کیا جائے۔ پی ٹی آئی کراچی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حلوائی کی دوکان پر نانا کی کی فاتحہ، یہ کوئی ٹرسٹ یا چریییٹ ہسپتال نہں۔، سرکاری پسوجں سے بننے اور چلنے والا سرکاری ہسپتال ہے،ساہلکوٹ مںئ علامہ اقبال کی والدہ کے نام سے منسوب، امام بی بی مٹرھنٹی ہسپتال کا نام تبدیل کر کے خواجہ آصف نے اپنے والد سے منسوب کرتے ہوئے خواجہ صفدر مٹر نٹی ہسپتال رکھ دیا ہے۔ ارشاد بھٹی نے کہا سیالکوٹ میں علامہ اقبال کی والدہ کےنام پر جو ہسپتال تھا اسکا نام بدل کر خواجہ آصف کے والد کے نام پر کر دیا گیا ہے۔۔ماشاءاللہ۔۔یہ بھی ذہنوں میں رہے کہ حکیم الامت،شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا جبکہ خواجہ صفدر ضیاءالحق شورٰی کے ممبر تھے ایک صارف نے اسپتال کے سابقہ اور موجودہ بورڈز کی تصاویر شیئر کیں اور کہا کہ خواجہ آصف کی یہ شرمناک حرکت ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ارسلان بلوچ نے کہا کہ کس قدر بے شرم، واہیات اور گرے ہوئے لوگ ہیں یہ، علامہ اقبال کی والدہ کا نام ہٹا کر اپنے والد کا نام لکھ دیا۔ سینئر وکیل سید نعیم بخاری نے کہا کہ انکا بس چلے تو بانی پاکستان مریم کا دادا اور شاعر مشرق رفیق تارڑ کو بنا کر کتابیں چھاپ دیں،شیطان بھی دیکھ کر شرماتا ہو گا۔ جبران جدون نے کہا کہ خواجہ آصف کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حاا ہوتی ہے جو آپ کے اندر نام کی بھی نہیں ہے، علامہ اقبال کی والدہ کے نام کی جگہ اپنے والد صاحب کا نام ہسپتال کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف نے 14 رکنی سیاسی کمیٹی کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سیاسی کمیٹی پی ٹی آئی کورکمیٹی کے فیصلوں کو حتمی شکل دے گی۔سیاسی کمیٹی بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پرقائم کی گئی ہے جس میں عمر ایوب خان، گوہر خان، سینیٹر شبلی فراز شامل ہوں گے۔ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی میں علی امین گنڈاپور، اسدقیصر، شیر افضل مروت ، شاہ فرمان، رؤف حسن، عون عباس بپی، حماداظہر، عاطف خان،حافظ فرحت بھی شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ سیاسی کمیٹی میں میاں اسلم اور خالد خورشید کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سیاسی کمیٹی میں شامل کئی ناموں پر تحریک انصاف کے رہنما اور سوشل میڈیا سپورٹرز سیخ پا ہیں، اسکی وجہ پارٹی میں شاہ فرمان ، عون عباس بپی، حافظ فرحت عباس شامل ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عون عباس بپی 9 مئی واقعات کی مذمت کرکے تحریک انصاف چھوڑ چکے تھے تو انہیں کیوں شامل کیا گیا۔ اسی طرح شاہ فرمان بھی 9 مئی کے بعد سیاست چھوڑنے کا اعلان کرچکے تھے جبکہ حافظ فرحت عباس پر اعتراض یہ ہے کہ اسکی دوستیاں ن لیگی رہنماؤں اور خاص طور پر اسدکھوکھر کیساتھ ہے اور وہ انکی گاڑی پر پنجاب اسمبلی آئے تھے۔ را نا عمران نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف خان پر اعتبار ھے باقی گوہر خان عمر ایوب اسد قیصر علی امین گنڈا پور جو کررہے ہیں وہ ہمیں سب نظر آ رہا ھے۔ یہ پولیٹیکل کمیٹی کم اور بھرتی کے لوگ زیادہ لگ رہے ہیں ۔ قربانیاں دینے والوں کو ابھی سے ہی پیچھے دھکیلا جا رہا ھے اور شاہ فرمان اور عون عباس جیسے کردار آگے آ رہے ہیں احمد وڑائچ نے ردعمل دیا کہ سندھ؟ بلوچستان؟ جنوبی پنجاب سے شبیر قریشی، زرتاج گل جیسے لوگ؟ سنٹرل پنجاب سے مونس الہیٰ؟ شمالی پنجاب سے کوئی سیاسی دماغ؟ تیمور مسعود؟ میجر طاہر صادق؟ پشاور سے شیر علی ارباب؟ آزاد کشمیر سے عبدالقیوم نیازی؟ کیا یہ سب اس قابل نہیں راشد بنگش کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے سالار خان سندھ سے فردوس شمیم نقوی حلیم عادل عالمگیر خان کے نام کیوں نہیں ہیں؟ عمر ایوب جواب دو بھگوڑے شبلی فراز ، شاہ فرمان کا نام نکالو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم ہے حافظ فرحت کو بھی باہر کریں فلک جاوید خان نے کہا کہ اپیکس کمیٹی میں۔۔ پنجاب سے علی اعجاز بٹر یا شوکت بسرا بلوچستان سے سالار کاکڑ یا صدام ترین سندھ سے خرم شیر زمان یا عالمگیر پختونخواہ سے شہریار آفریدی یا جنید اکبر کو شامل کرو۔۔۔ حافظ فرحت اور شاہ فرمان کو نکالو مقدس فاروق عوان نے کہا کہ ذاتی عناد کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کسی کو بھی رونگ نمبر ثابت کرنا بہت آسان ہوچکا،حافظ فرحت عباس بھی کچھ دنوں سے اسی منفی مہم سے متاثر ہو رہے ہیں،لیکن عمران خان نے بھرپور اعتماد کرتے ہوئے انہیں سیاسی کمیٹی میں شامل کر لیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ محض ایک پروپیگنڈا ہے ماریہ عطاء نے کہا کہ حافظ فرحت اور شاہ فرمان نے کونسا معرکہ مارا ہے کوئی بتائے گا؟ آفاق کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی تو نہی ہے گروپ ہے حافظ فرحت شاہ فرمان شبلی فراز عون بپی بیرسٹر گوہر گند ڈال رہا ہے بعدازاں تحریک انصاف کے کارکنوں کے دباؤ پر سیاسی کمیٹی میں مزید ناموں کا اضافہ کردیا گیا جن میں اعظم سواتی، حلیم عادل شیخ، فردوش شمیم نقوی، سالار کاکڑ اور قاسم سوری شامل ہیں لیکن کسی خاتون یا اقلیتی ممبر کو سیاسی کمیٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے آج پہلے ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں دھاتی ڈور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس سے نام لینا پڑتا ہے کہ خیبرپختونخوا سے دھاتی ڈور آ رہی ہے۔ دھاتی ڈور سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے گھر بھی گئی اور کریک ڈائون میں پتا چلا کہ دھاتی ڈور خیبرپختونخوا سے آرہی ہے اور آن لائن بیچی جا رہی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اپنے بارڈر پر چیک پوسٹ لگا دیں اور باقی رستے کھلے ہوں جہاں سے دہشت گرد اور سمگلر آسانی سے آ سکیں۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ پر صارفین کی طرف سے مریم نوازشریف کے بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی ساری سیاست ہی صوبائیت وتعصب کی بنیاد پر قائم ہے۔ سینئر صحافی وتجزیہ کار عمران ریاض خان نے لکھا کہ: ان 2 خاندانوں کی ٹوٹل سیاست ہی صوبائیت اور تعصب کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے آجتک کچھ نہیں سیکھا! سینئر صحافی طارق متین نے لکھا: نفرت ، بغض اور ناکامی کا ملاپ! سینئر صحافی اویس حمید نے لکھا: چلیں مان لیں خیبر پختونخوا سے ڈور آ رہی ہے۔ کسی بھی ممنوعہ شے کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ میں لاہور کے پرانے علاقے میں رہتا ہوں۔ اکثر رات کے وقت پتنگ بازی ہوتی دیکھتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک ایسے ہی دوست سے پوچھا کہ پتنگیں اور ڈور کہاں سے لاتے ہو تو اس کا جواب تھا مقامی تھانے کے اہلکاروں کو فون کرتے ہیں وہ ہوم ڈلیوری کر کے جاتے ہیں۔ انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ سینئر صحافی عمران افضل راجہ نے لکھا: کبھی عمران خان کو طعنہ دینے کے لیے پوری ”نیازی“قوم کی تضحیک کرتے ہیں،کبھی ووٹ نا ڈالنے پر KP کے عوام کو بیوقوف بولتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستانی نہیں مانتےاوراب یہ بیان! اپنی انہی جاہل حرکتوں سے شریف خاندان نے ن لیگ کا مکمل صفایا کر لیا ہے۔ شہریار محسود نے لکھا:امید ہے مریم صاحبہ اگلی بار کچھ اور چیزوں کا بھی اعتراف کرے گی جیسے کہ خیبرپختونخوا سے بجلی گیس کروڈ آئل کے علاؤہ پختونخوا کے حصے کا پانی بھی کافی مقدار میں آرہا ہے۔ احمد ابوبکر نے لکھا:نفرت اور تعصب مثبت تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے! وقار خان نے لکھا:پہلے ہر مہلک چیز انڈیا سے آتی تھی ان دنوں KPK سے آرہی ہے! فرید ملک نے لکھا: بار بار خیبرپختونخواہ کو ٹارگٹ کرنے والی سی ایم صاحبہ اپنے انڈر پنجاب پولیس پر بھی توجہ دے لیں! پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف اندھا استعمال کرتے محافظوں کو کھلی چھوٹ کیوں، کچے پکے کے ڈاکو دندناتے پھر رہے اور نااہل مینڈیٹ چور صوبائی منافرت کو ہوا دے رہی ہے! مزمل اسلم نے لکھا:یہ محترمہ کہنا کیا چارہی ہیں؟ کیا اب اندرونی ملک جانے کے لئے ویزہ لینا پڑے گا؟ یہ کے پی کا نام لے کر نفرت کیوں پھیلا رہی ہیں؟ ان کو عوام نے مسترد کر دیا تو یہ اپنا بغض نکلا رہی ہیں؟ بغض تو پنجاب پر بھی نکالے کیوں کے وہاں کی عوام نے بھی انہیں مسترد کیا مگر فارم 47 کی بدولت آج قابض ہیں۰ عوامی مینڈیٹ پر جب ڈاکا لگتا ہے تو اس طرح کے اناڑی ملک کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ ترجمان تحریک انصاف نے لکھا :وزیر اعلیٰ جیسے منصب پر بیٹھ کر بار بار مریم نواز کی جانب ایک صوبے کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے، اس سطح کے مسائل پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہیں اور دوسرے صوبے اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن بار بار وفاقیت کو متاثر کر کہ خیبر پختون خواہ کو ایسے نشانہ بنانا بین الصوبائی ہم آہنگی پر منفی اثرات ڈالتا ہے! عدیل حبیب نے لکھا: چونکہ مریم نواز کے لیے کی ٹک ٹاک ویڈیوز بھی کام نہیں کر رہی اور کسی پر اثر انداز نہیں ہو رہیں، تو کیا وہ پنجابی بمقابلہ پٹھان ڈویژن بنانے جیسے تفرقہ انگیز ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہیں؟ لوگ باشعور ہیں، ان کے نفرت پھیلانے والے ایسے حربے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے! سینئر صحافی محمد فہیم نے لکھا: چیک پوسٹ بنا دیں گے لیکن موٹرویز کھلی ہیں، افسوس سے مجھے نام لینا پڑرہا ہے لیکن خیبر پختونخوا سے دھاتی ڈور آئی اور ایک قیمتی جان ضائع ہوئی ایسا نہیں ہو سکتا کہ سکیورٹی چیک پوسٹ بنا دیں اور ایک کاریڈور بنا ہو دہشتگردوں اور سمگلروں کیلئے۔
پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ گلوکار سلمان احمد نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت ایک رانگ نمبر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سلمان احمد اور شیر افضل مروت کے درمیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لفظی جنگ جاری ہے، سلمان احمد نے اپنی ایک ٹویٹ میں شیر افضل مروت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل مروت خرم روکھڑی کی طرح رانگ نمبر ہیں۔ انہوں نے شیر افضل مروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے لیڈر کا غلط فائدہ اٹھایا، آپ کو سائیڈ لائن کرکے عمران خان نے درست فیصلہ کیا ہے۔ گلوکار نے مزید کہا کہ سچائی کی نشاندہی کرنے پر عادل راجا اور حیدر مہدی دونوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سلمان احمد کی اس ٹویٹ پر شیر افضل مروت نے بھی جوابی وار کیا اور کہا کہ آپ کا بیان آپ کی سوچ کا عکاس ہے، آپ ایسے متنازعہ بیان سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، آپ اور آپ جیسے دو غداروں سے میری سوشل میڈیا ٹیم نمٹے گی۔ شیر افضل مروت نے سلمان احمد کووارننگ دیتے ہوئے کہا کہ 5 اپریل تک کا انتظار کریں، آپ کو جواب ضرور ملے گا۔
گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوشل میڈیاکو ایک وبا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آج کل نئی وباء پھیلی ہوئی ہے، سوشل میڈیا کی، اس کا بھی پریشر ہوتا ہے کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ تصدیق جیلانی نے سوشل میڈیا کی وجہ سے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تصدق جیلانی سے متعلق عجیب عجیب باتیں ہوئیں مجھے شرم آئی، مہذب معاشرے میں ایسی باتیں ہوتی ہیں؟مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ اس پر مطیع اللہ جان نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے سابق چیف جسٹس پر سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر کمیشن کی سربراہی سے انکار کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، اب کیا سپریم کورٹ کا یو ٹیوب چینل ڈالروں کے لئیے یہ فیک نیوز نہیں پھیلا رہا؟ سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی نے خط میں واضح طور پر کمیشن سے دستبردار ہونے کی وجہ آئین اور قانون بتائی گئی تھی نہ کہ سوشل میڈیا کا دباؤ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیکھا جو تیر کھا کہ کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی اینکر عمران ریاض نے قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ قاضی فائز عیسی سے سوال ہے کہ جو ریٹائر جج سوشل میڈیا کے دباؤ سے بھاگ گیا وہ چھ ججز کو دباؤ سے نکالے گا؟ کیسے ممکن ہے؟ اسد طور نے کہا کہ قاضی فائز عیسٰی کہتے ہیں سوشل میڈیا نے ملک تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،اسد طور نے کہا کہ سوشل میڈیا تو 2010 میں آیا تھا اس سے پہلے ملک کس نے تباہ کیا؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ نیب کیس میں سزا معطل کر دی گئئ ہے۔ صحافی احتشام کیانی کے مطابق سسٹم ایک بار پھر کھیل کھیل گیا اور جج، وکیل سب بے بس رہ گئے۔ مختلف صحافیوں کے مطابق معاملہ عمران خان کی سزا کالعدم ہونے کی طرف جارہا تھا مگر سزا معطل کردی گئی، اب سزا کالعدم ہونے کی پٹیشن دیر سے سنی جائیں گی اور فیصلہ آنے سے میں ایک سال سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔ اس حوالے سے صحافی مریم نواز کے کیس کا حوالہ بھی دیتے ہیں جنہیں 2018 میں سزا ہوئی لیکن سزائیں 2022 میں کالعدم ہوئیں، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے طے کر لیا تھا کہ عمران خان کی سزا یا سزا کا فیصلہ معطلی کی درخواست کی بجائے سائفر اور توشہ خانہ کیسز کی مرکزی اپیلیں سن کر فیصلہ کرینگے۔ انکے مطابق اب دونوں مقدمات کے ٹرائل کس طرح ہوئے اور سائفر اپیل میں کارروائی جس طرف جا رہی ہے سب کے سامنے تھا. سائفر اور توشہ خانہ دونوں مقدمات میں سزا کالعدم ہو جانا کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ احتشام کیانی کا کہنا تھا کہ بظاہر اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے توشہ خانہ مرکزی اپیل کی شنوائی میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے مقابلتاً چھوٹی قربانی دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اس کیس میں سزا معطل کر دی جائے لیکن اپیلیں ابھی سماعت کیلئے مقرر نہ کی جائیں
سرکاری ٹی وی چینل پر رمضان ٹرانسمیشن میں نعت و مذہبی کلام کے نام پر ہونے والی ہلڑ بازی پرسوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر سرکاری ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں سینئر اداکار و میزبان احسن خان ، رابعہ انعم اور مہمانوں کیجانب سے کی جانے والی ہلڑ بازی کی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احسن خان ایک لڑکی کے ساتھ مشہور کلام "تو کجا من کجا" پڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ پروگرام کی میزبان رابعہ انعم بھی ان کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں، دوسری ویڈیو میں ان تمام افراد کو مذہبی کلام پر تقریبا ڈانس کرتے اور ٹک ٹاک کی ویڈیوز بناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز وائرل ہونے پر صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنےآ رہا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری چینل کی ٹرانسمیشن کا یہ حال ہے تو پرائیویٹ چینلز پر کیا شوروغوغا ہوگا،ہم کس طرف جارہے ہیں، یہ ہلڑ بازی کس طرف سے رمضان ٹرانسمیشن لگ رہی ہے۔ عامر شیخ نے کہا کہ یہ کون سا اسلام ہے، اسرغف اللہ، نعت رسول ﷺ اس طرح پڑھی جاتی ہے؟ حضور کی شان میں جب کلام پڑھا جاتا ہے تو عقید ت اور عزت اور احترام لازم ہے، ان لوگوں نے مسلمان ہوکر ایسا انداز اپنایا ہے اور رمضان کے برکتوں والے مہینے کی بھی توہین کی ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ ان کیلئے مذہب یا رمضان کچھ بھی نہیں، سب کچھ کمرشل اور مال کمانے کے طریقے ہیں۔ فرح علی نے کہا کہ نعت پر بھی تھرکنا اور تقریبا ڈانس والے اسٹیپ کرنے یں تو ایسی نعت پر ثواب ملے گا یا گناہ؟ اسماعیل بیگ نے کہا کہ ہم ڈرامہ اور کھیل کے ہیروز کو حقیقی زندگی میں بھی ہیروز سمجھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہر شعبے میں پرفیکشن دکھائیں گے،رانگ نمبرز وہی کریں گے جو میڈیا چینلز والے چاہیں گے، سب گول مال ہے۔
شیر افضل مروت کی تحریک انصاف کے 40 ایم پی ایز ٹوٹنے کی خبر غلط ثابت ہوئی، سینٹ الیکشن میں تحریک انصاف کو پورے کے پورے ووٹ پڑگئے کچھ روز قبل شیرافضل مروت نے ثمرعباس کے شو میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب سے ہمارے 40 ایم پی ایز کو توڑا جا چکا ہے، ن لیگ جو ہمیں آفر کررہی ہے وہ لے لینی چاہئے بجائے اسکے کہ سینیٹ کی سیٹ ہاریں مگر خفیہ رائے شماری میں صنم جاوید کو پڑنےوالے 102 ووٹ اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو 106 ووٹوں نے مروت کے بیان کی نفی کر دی صنم جاوید کو کل 107 ووٹ پڑے جن میں سے 5 مسترد ہوئے جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی مجموعی طور پر 107 ووٹ پڑے۔ صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس پر کہا کہ اب شیر افضل مروت کوبتادینا چاہئے کہ اسکی خبر کا سورس کیا تھا اور یہ خبر اسے کس نے فیڈ کی؟
پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کو جسمانی ریمانڈ دینے والے جج اعجاز بٹر کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ وہی جج ہیں جنہوں نے لاہور اے ٹی سی میں پانچ ماہ تک پی ٹی آئی خواتین کو ضمانت نہیں دی تھی۔ تفصیلات کے مطابق سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج اعجاز بٹر نے پی ٹی آئی خواتین کو کمر مشانی تھانے کو جلانے کے کیس میں 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس فیصلے پرردعمل دیتے ہوئے جج اعجاز بٹر کے ماضی کے حوالے سے اہم انکشافات کردیئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما اظہر مشہوانی نے کہا کہ اعجاز بٹر پہلے لاہور اے ٹی سی میں جج تھے جہاں انہوں نے پی ٹی آئی خواتین کو مختلف کیسز میں شامل کرکے 5 ماہ تک ضمانت نہیں دی،اب سرگودھا اے ٹی سی میں اسی جج نے انہی میں سے دو خواتین کو کمر مشانی تھانے کو جلانے کے کیس میں 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے ، کیا ایسے جج کو آخرت کا ڈر نہیں ہے؟ اس جج کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما طیبہ راجا نے نام لیے بغیر کہا تھا کہ انہوں نے جیل میں آکر کہا تھا کہ "تواڈا لیڈر نسن آلا اے اودا فنانسر آگیا اے، تسی وی لکھ دیو اسی وچ تواڈای بھلائی اے"۔ صحافی شاہد محمود اعوان نے کہا کہ صنم جاوید کا جسمانی ریمانڈ دینےوالے جج وہی ہیں جنہوں نے لاہور اے ٹی سی میں ایک پیشی کے موقع پر صنم جاوید کی تضحیک کی تھی، اس جج نے ایک خاتون وکیل کی بھی تضحیک کی تھی جس کے بعد اس وکیل نے ہائی کورٹ میں تحریری درخواست دیدی تھی جس پر جج اعجاز بٹر کو ٹرانسفر کردیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہی خاتون وکیل صنم جاوید کے مقدمات لڑرہی ہیں اور اس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں، لگتا ہے اسی وجہ سے صنم جاوید مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ صحافی محمد عمیر نے کہا کہ تھانہ کمر مشانی کی ایف آئی آر میں پولیس سے تلخ کلامی کی دفعات شامل ہیں، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اس کیلئے مجمع کو ابھارا،حالانکہ صنم جاوید اور عالیہ حمزہ نا وہاں تھیں اور نا ہی ان کی ریکوری ہونی تھی، ان دونوں کو اس مقدمے میں ساڑھے دس ماہ بعد ضمنی میں نامزد کیا گیا اور جج نے ان دونوں کا 14 روزہ ریمانڈ دیدیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے سپریم کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر سوموٹو نوٹس لینے کے خلاف غریدہ فاروقی کے ایک ٹویٹ کا پوسٹ مارٹم کرڈالا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شہزاد اکبر نے سینئر صحافی و تجزیہ کار غریدہ فاروقی کا ایک ٹویٹ اور واٹس ایپ پر موصول ہونے والے ایک پیغام کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور کہا کہ دوگھنٹے پہلے سپریم کورٹ کے سوموٹ نوٹس کے خلاف بیانیہ بنانے کیلئے تحریر بھیجی گئی اور غریدہ فاروقی نے شفافیت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے یہ تحریری ہو بہو چھاپ دی۔ عمران افضل راجہ نے کہا “تمغے ایویں نہیں کمائے جاتے”اشاروں پر باندری کی طرح ناچنا پڑتا ہے ،کاپی پیسٹ مارنے پڑتے ہیں،ہر دوسرے ٹوئیٹ پر “ختم شد” لگانا پڑتا ہےپھر جا کے تمغوں کے لیے نام فائنل ہوتے ہی غریدہ فاروقی کے اس ٹویٹ اور واٹس ایپ میسج میں کہا گیا کہ حیران کن طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے ایک رکنی کمیشن بنانے کے صرف 2 دن بعد ہی نوٹس لے کر سات رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے، اس سے قبل چیف جسٹس اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان معاملات طے پاگئے گھے اور ایک رکنی کمیشن تشکیل دیدیا گیا تھا۔ غریدہ فاروقی نے اپنے تفصیلی ٹویٹ میں کہا تھا چیف جسٹس پاکستان نے چھ ججز کی طرف سے لکھے جانے والے خط پر سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ بنا دیا - حیران کن طور پر یہ سات رکنی بینچ سپریم کورٹ اور وزیر اعظم کی طرف سے رضا مندی کے بعد ایک رکنی کمیشن بنانے کے صرف دو دن کے بعد بنایا دِیا گیا جبکہ اس سے پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وزیراعظم پاکستان کے مابین معاملات طے پا جانے کے بعد ایک رکنی کمیشن جسٹس تصدق جیلانی پر مشتمل بنا دیا گیا تھا- اس کمیشن کی تعیناتی کے فوری بعد سپریم کورٹ نے باقاعدہ پریس ریلیز ایشو کی تھی اور اس معاملے پر اچھی طرح سے بیان دیا کہ اس معاملے کے اندر کیا کیا ٹرمز اف ریفرنس کو شامل کیا جائے گا اور وہ کن کن معاملات پر تصدق جیلانی والا کمیشن اپنی انکوائری کرے گا اور ثبوتوں کی روشنی میں حقائق کو سامنے لے کر ائے گا وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان کی ملاقات کے بعد تمام ماہرین اور عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ چھ ججز کی جانب سے حساس ادارے پر سنگین الزامات لگائے جانے کے بعد یہ معاملہ اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا کیونکہ کمیشن کے ٹی او آرز نے جو کہ گورنمنٹ آف پاکستان نے ایشو کیے اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور چھ ججز جنہوں نے یہ الزامات لگائے ہیں ان کو ثبوت پیش کرنے پڑیں گے۔۔۔ آج اچانک چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے سات رکنی لارجر بینچ کے بنائے جانے کے اعلان کے بعد جو ایک بات بہت واضح طور پر سامنے اگئی ہے وہ یہ ہے کہ اس لارجر بینچ بنائے جانے کا مقصد ان چھ ججز کو ریلیف دینا مقصود ہے کیونکہ جو کہ ایک رکنی کمیشن تھا اُسکے سامنے اِن تمام چھ ججز کو پیش ہونا تھا اور پیش ہونے کے ساتھ ساتھ ان تمام ججز نے جو اپنے خط کے اندر الزامات لگائے تھے ان الزامات کو ثابت کرنا تھا لیکن اب چونکہ ایک لارجر بینچ سپریم کورٹ کا بنا دیا گیا ہے جہاں پر عمومی بات چیت کی جائیگی اور یہ خدشہ ہے کہ کورٹ کی لارجر بینچ کی سماعت میں اس خط کے اندر لگائے گئے وہ مخصوص specific الزامات جو کہ ان چھ ججز نے لگائے ہیں ان کی کوئی خاطرخواہ انویسٹیگیشن نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی ان ججز کو ثبوت دینے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔۔۔ ایک طرح سے یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اعلی عدلیہ نے یہ لارجر بینچ تشکیل صرف اس لیے کیا ہے کہ اپنے چھ ججز کو کوئی ریلیف دیا جائے کیونکہ کمیشن کے سامنے ان ججز کو ثبوت پیش کرنا ان کی مجبوری تھی اور ثبوت پیش کیے بغیر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا تھا لیکن اب آپ یہ دیکھیں گے کہ اس لارجر بینچ کی تشکیل کے بعد کوئی ثبوت نہیں مانگے جائیں گے اور اس کا جو فیصلہ ہوگا وہ بھی موٹی موٹی باتیں کر کے اس کیس کو دفتر داخل کر کے بھگتا دیا جائے گا۔۔۔ جناب چیف جسٹس صاحب، انصاف وہ ہو جو ہوتا نظر بھی آئے۔ بظاہر اپنی برادری اور سیاسی دباؤ کے تحت لیے گئے اقدامات، انصاف کے اُصول پامال نہ کر دیں؛ یہ جناب چیف جسٹس صاحب کی ذمہ داری ہے! جن 6 ججز نے الزامات لگائے ہیں، ان سے ثبوت حاصل کرنا اب چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے! ثبوت نہ ہوئے تو بھی ذمہ داری چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کی ہے! خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے 7 رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے، بینچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کریں گے۔
سجاول میں اسکول کی تقریب کے دوران جب قومی ترانہ بجایا گیا تو حال میں موجود تمام افراد قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہو گئے لیکن اےسی صاحب نے قومی ترانہ کے احترام میں اٹھنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی اے ڈی سی کی جانب سے تقریب میں پاک فوج کے علاوہ اعلیٰ عہدیداران اور مہمان بھی موجود تھے۔ تقریب میں قومی ترانہ بجایا گیا تو تمام افسران اور مہمان روایت کے مطابق ترانے کے ادب میں اُٹھ کر ترانہ سننے لگے لیکن اے ڈی سی سید وجاہت شاہ بیٹھے رہے اور تقریب میں موجود پاک فوج کے افسران اور دیگر مہمانان گرامی اے ڈی سی کی اس نا زیبا حرکت پر حیرت کا اظہار کرتے رہے۔ معاملہ اس وقت پیش آیا جب پاک نیوی کی جانب سے اسکول کے امتحانات کے بعد تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر کو دعوت دی گئی تھی جس کی جگہ اے ڈی سے شریک ہوئے۔ معاملے پر اے ڈی سی وجاہت شاہ کے اخبارات، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر چرچے ہو رہے ہیں اور ان پر خوب تنقید ہورہی ہے۔ اس پر ڈپٹی کمشنر سجاول نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ناسازی طبیعت کی وجہ سے قومی ترانہ کے وقت بروقت کھڑا نہیں ہوسکا اور میرے چہرے کے تاثرات بھی اچھے نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست دشمن عناصر میری ویڈیو وائرل کررہے ہیں، ان سے لاتعلقی کرتا ہوں، میری پاکستان کیلئے جان بھی حاضر ہے۔