میں آئی ایم ایف کی پٹرول اور بجلی مہنگی کرنے کی شرائط نہ مانتا،شوکت ترین

14shaukattarinwazahatabouteconomy.jpg

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت 2018 میں ایسے منصوبے کرکے گئی جس کی وجہ سے آج پاکستان کو استعمال نہ ہونے والی بجلی کیلئے بھی کیپسٹی کی مد میں 850 ارب روپے دینے پڑرہے ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام اختلافی نوٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ 2 ماہ پہلے تک کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی تھی ، اس حکومت کے آتے ہی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی تو اس میں پچھلی حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے،اس حکومت کو معاملات سنبھالنے ہیں جو ان سے سنبھالے نہیں جارہے، ان کے پلے کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں بین الاقوامی منڈیوں میں جو تیل کی قیمتیں تھیں اس حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 204 روپے تک ہونی چاہیے تھی مگر ہم نے سیلز ٹیکس کو اتنا کم کیا کہ قیمت کو 160تک محدود رکھا اس کے بعد بھی ہم نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے فی لٹر قیمت میں 10 روپے تک کمی کی۔


انہوں نے مزید کہاکہ ہم حکومت کے ختم ہونے پر جو مالیاتی خسارہ چھوڑ کر گئے وہ3اعشاریہ 9 فیصد ہے، فروری سے پہلے ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈیڑھ بلین تھا، فروری میں یہ کم ہوکر 500 ملین پر آیا جو دوبارہ اس مہینے 1 بلین پر پہنچ گیا ہے اس کی وجوہات میں تیل، کوئلے کی قیمتیں اور ویکسین شامل ہیں جو ساڑھے 13 بلین کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ساڑھے 12 بلین ڈالر بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آئی ایم ایف کی پٹرول اور بجلی مہنگی کرنے کی شرائط نہ مانتا، قرض کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ 35 ٹریلین کی معیشت چھوڑ گئے تھے جو آج 65 ٹریلین تک پہنچ چکی ہے اور ہم نے 18 ٹریلین قرض لیا مگر یہ کہتے ہیں ہم نے 20 ٹریلین کا قرض لیا۔ جب یہ گئے تھے اس وقت قرض جی ڈی پی کا 70 سے 71 فیصد تھا اور ہمارے دور میں یہ جی ڈی پی کا 66 سے 67 فیصد ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے کم قرض لیا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے جو کہا جارہا ہے کہ ہم نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، ہم ایک مستحکم معیشت چھوڑ کر گئے ہیں جسے یہ ایسے ہی چلاتے رہیں تو ساڑھے 4فیصد کی شرح سے گروتھ ریٹ مل جائے گا۔

اسحاق ڈار کے تبصرے سے متعلق سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ اسحاق ڈار ایسے تبصرے نا کیا کریں ان کی صحت کیلئے بہتر ہوگا، انہوں نے پانچ سالوں میں روپے کو اوور ویلو کرکے رکھا جس سے 33ارب ڈالر کا نقصان ہو ا پاکستان کو،10 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کم ہوئی اور 23 بلین ڈالر کی امپورٹس میں اضافہ ہوا ،اگر یہ دوبارہ روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے تو دوبارہ یہی حشر ہوگا۔
 
Advertisement

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)



لے بھئ ۔ اس بڈھے کاکے نے تو سیدھا سیدھا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ کوکینی حکومت کے خاتمے کو قرار دے دیا ہے🤣🤣 ۔​
 

eccentric

MPA (400+ posts)



لے بھئ ۔ اس بڈھے کاکے نے تو سیدھا سیدھا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ کوکینی حکومت کے خاتمے کو قرار دے دیا ہے🤣🤣 ۔​
Abey dhakan, kya howa chuppay lga kr bh bheek nhi milli, yahi hota ha jb har kisi ko garage service offer krdaiti ho, abb G chatai shru krdo shyd koi baat ban jai. Bloody bhikari and their prostitutes 🤣
 
Sponsored Link