سوشل میڈیا پر نکاح،طلاق، عدت کے مسائل ڈسکس ہونے پر اسلامی نظریاتی کونسل کا ردعمل سامنے آگیا، یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا صارفین خاورمانیکا کے بشریٰ بی بی سے متعلق گھٹیا الفاظ کی مذمت کررہے تھے
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کا کہنا تھا کہ نکاح، طلاق اور عدت کے مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ شرعی حدود و قیود ہیں ۔ان امور کے بارے میں بے جا گفتگو اور تضحیک کسی صورت میں مناسب نہیں ۔سوشل میڈ یا کا منفی استعمال غیر اخلاقی، غیر شرعی اور قانونی جرم ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن و سنت نے نکاح، طلاق اور عدت کے مسائل اور احکامات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے، شریعت نے ان کی حدود و قیود کو واضح کر دیا ہے
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس وقت جس طرح ان مسائل پر رائے زنی کی جارہی ہے نہایت غیرمناسب اور غیر اخلاقی ہے‘
مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ اگر کسی مرد و عورت کو نکاح، طلاق اور عدت کے حوالے سے مسئلہ ہو تو اسے علما اور طبی ماہرین کی آرا کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شرعی مسائل ہیں اور ان کے بارے بے جا، بے سروپا اور فضول بحث و مباحثہ نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں تعصب، تضحیک، تنقید، نفرت انگیزی اور تشدد پسندانہ طرز سے احتیاط کی جائے جو کہ ملک کی سلامتی کے لیے یقیناً نقصان دہ ہے۔
مفتی راغب نعیمی کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مفتی صاحب اس وقت کیوں نہیں بولتے جب اس موضوع پر خاورمانیکا اپنی سابقہ بیوی پر کیچڑ اچھال رہے تھے، جب سرکاری چینل سمیت تمام چینل اسکو کوریج دے رہے تھے؟
سعید بلوچ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک عورت کی ماہواری بارے غلط فیصلہ جاری کیا گیا، اس عورت کی عزت عدالتوں اور ٹی وی چینلز پر اچھائی گئی تب یہ مولوی حضرات اپنے دنیاوی آقاؤں کے خوف سے خاموش رہے، اس گٹر فیصلے پر لب کشائی تک نہ کی، آج اس فیصلے پر تنقید ہوئی تو ان کی غیرت جاگیر اور سوشل میڈیا کا استعمال غیر قانونی و غیر شرعی قرار دے دیا، اللّٰہ ان مولویوں کی سخت ترین پکڑ فرمائے
صحافی طارق متین نے کہا کہ آج مانیکا نے گٹر ترین چال چلی اور آج ہی یہ رائے سامنے آ گئی ؟ کیوں بھی میڈیا ، سوشل میڈیا اور عدالتوں میں یہ معاملہ پہلے سے چل رہا تھا تب آپ کیوں نہ بولے۔
ہاشمیات کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل طبی بورڈ کی راہ ہموار کررہا ہے۔
عبید بھٹی نے اس پر کہا کہ علماء سے مذمت کی امید مت کریں یہ تو اپنے اپنے حصے اور پروٹوکول کیلیے مرے جارہے ہیں سینکڑوں پنڈی میں حاضریاں دیتے ہیں درجنوں مریم نواز کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کا ہمہ راغب نعیمی کے سر بیٹھا کچھ رویت ہلال کمیٹی میں ایڈجسٹ ہیں کچھ امن کمیٹیوں میں۔۔ کن سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ بغداد پر ہلاکو خان حملہ کرنے والا تھا مولوی حضرات مناظرے کررہے تھے کہ سوئی کے نکے سے اونٹ کیسے گزرے گا
ملک وقار کا کہنا تھا کہ چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل راغب نعیمی جو کہ ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کے قریبی ساتھی ہیں ، کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے عدت اور ماہواری کے معاملات پریس کانفرنس اور ملک کی عدالتوں میں لے کر جانا جائز ہے ۔ سوشل میڈیا پر اگر ان پر بات کرنا جائز نہیں پھر پریس کانفرنس میں کیسے جائز ہے؟