بھارت نقل سے باز نہ آیا، ہالی وڈ فلم میٹرکس کا سین ہی چرالیا

matrixnaql.jpg


مبینہ طور پر بالی ووڈ کو بڑی فلم انڈسٹری کہا جاتا ہے مگر اس انڈسٹری کے کام کو دیکھا جائے تو بڑے پیمانے پر کاپی پیسٹ سے کام چلایا جا رہا ہے کہیں تو تامل فلموں کو ہوبہو چرایا جاتا ہے، گانے پاکستان سے اٹھائے جاتے ہیں اور کئی بڑی فلموں میں انگریزی فلموں سے آئیڈیاز چرائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کا گانا بوہے باریاں کو بھارتی گلوکارہ کنیکا کپور نے نہ صرف چرایا بلکہ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنا گانا قرار دے دیا ہے، یہی نہیں اس سے پہلے بھی پاکستان سے کئی بہترین گانوں کو بھارتی گلوکاروں نے چوری کیا ہے۔

اب بات کرتے ہیں حالیہ ریلیز ہونے والی بھارتی فلم گنگو بائی کاٹھیاواڑی کی جس میں بھارت کے نمبر ون ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے ایک منظر ہالی ووڈ کی سپر ہٹ فلم ’’دی میٹرکس‘‘ سے ہو بہو کاپی کیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا پیج نے فلم ’’گنگو بائی کاٹھیاواڑی‘‘ اور ’’دی میٹرکس‘‘ کے ایک منظر کے درمیان غیر معمولی مماثلت کی جانب نشاندہی کرواتے ہوئے لکھا ’’دو دہائیوں بعد بھی بالی ووڈ کے جدید فلم سازوں میں سے زیادہ تر ’’دی میٹرکس‘‘ کو اپنے مواد میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’’گنگو بائی کاٹھیاواڑی‘‘ میں ایک منظر پیش کیا گیا ہے جس میں عالیہ بھٹ نے ایک لڑکی کو سرخ اور نیلی کینڈی دے کر دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا ہے۔ یہ منظر فلم ’’دی میٹرکس‘‘ کے ایک انتہائی مقبول منظر کی یاد دلاتا ہے، جہاں مورفیوس فلم کے مرکزی کردار ’’نیو‘‘ کو نیلی اور سرخ گولیاں پیش کرتا ہے اور دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہتا ہے۔


اس فلم کرٹیک نے میٹرکس اور گنگو بائی کاٹھیاواڑی کا وہ سین بھی اوپر نیچے شیئر کیا اور بتایا کہ کس طرح انگریزی فلم سے اس سین کو چرا کر اس کا چربہ تیار کیا گیا ہے۔
 
Advertisement

vicahmed99

Minister (2k+ posts)
Bollywood is finished and now more good stories left for them to produce new movies that's why copycat is the only option to save them
Tollywood is flourishing that's why all these actor rushing towards them or asking south actors to perform in Bollywood
 
Sponsored Link