فیک نیوز اور جھوٹے صحافیوں کا آسان حل

Nain

Politcal Worker (100+ posts)
فیک نیوز اور جھوٹے صحافیوں کا آسان حل

پی ٹی وی کو ایک نیا پروگرام شروع کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور ان کی تردیدوں پر محیط ہو۔
فیک نیوز دینے والے صحافی کا نام بتائیں اور تصویر دکھائیں ، صحافی کی مذمت کرتے ہوئے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوں گے۔

حال ہی میں میڈیا مالکان نے سیاسی ایجنڈے پر چلنے اور فیک نیوز صحافیوں کو برطرف کیا ہے۔ کچھ کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی ، میڈیا مالکان نقصان برداشت نہیں کرسکتے ، وہ منافع کے لئے صحافتی کاروبار میں ہیں۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے اور کم ریٹنگز حاصل کرتا ہے تو یہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ کم از کم میڈیا مالکان ان کو اپنے سیاسی مالکان سے رقم لینے کے لئے کہیں گے جن کے لئے وہ جعلی خبریں چلاتے ہیں۔
پروگرام کا نام ہونا چاہئے
آج کی جھوٹی خبریں اور جھوٹے صحافی۔

ذرا تصور کریں کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی کے لوگو والے کلپ ، حامد میر اور عاصمہ شیرازی کی فیک نیوز کا احاطہ کرتے ہوئے۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے تو وہ کسی کے کام کا نھیں رہتا ، یہاں تک کہ انہیں یوٹیوب پر سبسکرائبر بھی نہیں ملتے ۔
 
Advertisement
Last edited:

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
فیک نیوز اور جھوٹے صحافیوں کا آسان حل

پی ٹی وی کو ایک نیا پروگرام شروع کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور ان کی تردیدوں پر محیط ہو۔
فیک نیوز دینے والے صحافی کا نام بتائیں اور تصویر دکھائیں ، صحافی کی مذمت کرتے ہوئے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوں گے۔

حال ہی میں میڈیا مالکان نے سیاسی ایجنڈے پر چلنے اور فیک نیوز صحافیوں کو برطرف کیا ہے۔ کچھ کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی ، میڈیا مالکان نقصان برداشت نہیں کرسکتے ، وہ منافع کے لئے صحافتی کاروبار میں ہیں۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے اور کم ریٹنگز حاصل کرتا ہے تو یہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ کم از کم میڈیا مالکان ان کو اپنے سیاسی مالکان سے رقم لینے کے لئے کہیں گے جن کے لئے وہ جعلی خبریں چلاتے ہیں۔
پروگرام کا نام ہونا چاہئے
آج کی جھوٹی خبریں اور جھوٹے صحافی۔

ذرا تصور کریں کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی کے لوگو والے کلپ ، حامد میر اور عاصمہ شیرازی کی فیک نیوز کا احاطہ کرتے ہوئے۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے تو وہ کسی کے کام کا نھیں رہتا ، یہاں تک کہ انہیں یوٹیوب پر سبسکرائبر بھی نہیں ملتے ۔


ایک اور آسان حل جس میں "ہینگ لگے نہ پھٹکری تے رنگ وی چوکھا" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ

ملک کے تمام نام نہاد صحافیوں اور رپورٹروں کے سکیورٹی کلیرینس پاسز منسوخ کر دیے جائیں
ٹی وی چینلز، اخبارات اور جریدوں کے صرف مالکان کو پاسز جاری کر کے بتا دیا جائے کہ وہ بقلم خود ہر ادارے میں خبروں کے حصول کے لیے بلا روک ٹوک آ جا سکتے ہیں اور آزدی اظہار کے اصول کے تحت معاشرے اور حکومت کی بہتری کے لیے جو مرضی خبر چلائیں یا چھاپیں یا مثبت تنقید کریں اور اپنی تجاویز پیش کریں اس میں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا

لاکن

اگر کسی نے کوئی فیک نیوز چلائی یا چھاپی اور ناجائز طریقے سے افواہیں یا سنسنی پھیلانے کی کوشش کی تو
چینل کا لائسنس اور اخبار یا جریدے کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے
بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا
اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی سازش کرنے پر جیل بھیج دیا جائے گا

میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تیر کی طرح سیدھے نہ ہو گئے تو مجھے کہیے گا
ان خبیثوں کا اس کے علاوه شاید اور کوئی علاج نہیں

جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو کسی سخت معاہدے کے بعد دوبارہ مشروط پاسز کا اجرا کر دیا جائے
 

Nain

Politcal Worker (100+ posts)


ایک اور آسان حل جس میں "ہینگ لگے نہ پھٹکری تے رنگ وی چوکھا" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ

ملک کے تمام نام نہاد صحافیوں اور رپورٹروں کے سکیورٹی کلیرینس پاسز منسوخ کر دیے جائیں
ٹی وی چینلز، اخبارات اور جریدوں کے صرف مالکان کو پاسز جاری کر کے بتا دیا جائے کہ وہ بقلم خود ہر ادارے میں خبروں کے حصول کے لیے بلا روک ٹوک آ جا سکتے ہیں اور آزدی اظہار کے اصول کے تحت معاشرے اور حکومت کی بہتری کے لیے جو مرضی خبر چلائیں یا چھاپیں یا مثبت تنقید کریں اور اپنی تجاویز پیش کریں اس میں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا


لاکن

اگر کسی نے کوئی فیک نیوز چلائی یا چھاپی اور ناجائز طریقے سے افواہیں یا سنسنی پھیلانے کی کوشش کی تو
چینل کا لائسنس اور اخبار یا جریدے کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے
بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا
اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی سازش کرنے پر جیل بھیج دیا جائے گا

میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تیر کی طرح سیدھے نہ ہو گئے تو مجھے کہیے گا
ان خبیثوں کا اس کے علاوه شاید اور کوئی علاج نہیں

جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو کسی سخت معاہدے کے بعد دوبارہ مشروط پاسز کا اجرا کر دیا جائے
اچھی تجویز تاہم اس میں عدالت کے حکم امتناعی کا خطرہ ہے۔ نیو نیوز اور 24 نیوز چینل کے لائسنس پیمرا منسوخ کرچکا لیکن وہ دونوں عدالتی حکم امتناعی پر چل رہے ہیں۔
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
فیک نیوز اور جھوٹے صحافیوں کا آسان حل

پی ٹی وی کو ایک نیا پروگرام شروع کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور ان کی تردیدوں پر محیط ہو۔
فیک نیوز دینے والے صحافی کا نام بتائیں اور تصویر دکھائیں ، صحافی کی مذمت کرتے ہوئے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوں گے۔

حال ہی میں میڈیا مالکان نے سیاسی ایجنڈے پر چلنے اور فیک نیوز صحافیوں کو برطرف کیا ہے۔ کچھ کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی ، میڈیا مالکان نقصان برداشت نہیں کرسکتے ، وہ منافع کے لئے صحافتی کاروبار میں ہیں۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے اور کم ریٹنگز حاصل کرتا ہے تو یہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ کم از کم میڈیا مالکان ان کو اپنے سیاسی مالکان سے رقم لینے کے لئے کہیں گے جن کے لئے وہ جعلی خبریں چلاتے ہیں۔
پروگرام کا نام ہونا چاہئے
آج کی جھوٹی خبریں اور جھوٹے صحافی۔

ذرا تصور کریں کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی کے لوگو والے کلپ ، حامد میر اور عاصمہ شیرازی کی فیک نیوز کا احاطہ کرتے ہوئے۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے تو وہ کسی کے کام کا نھیں رہتا ، یہاں تک کہ انہیں یوٹیوب پر سبسکرائبر بھی نہیں ملتے ۔
Very good suggestion.
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)


ایک اور آسان حل جس میں "ہینگ لگے نہ پھٹکری تے رنگ وی چوکھا" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ

ملک کے تمام نام نہاد صحافیوں اور رپورٹروں کے سکیورٹی کلیرینس پاسز منسوخ کر دیے جائیں
ٹی وی چینلز، اخبارات اور جریدوں کے صرف مالکان کو پاسز جاری کر کے بتا دیا جائے کہ وہ بقلم خود ہر ادارے میں خبروں کے حصول کے لیے بلا روک ٹوک آ جا سکتے ہیں اور آزدی اظہار کے اصول کے تحت معاشرے اور حکومت کی بہتری کے لیے جو مرضی خبر چلائیں یا چھاپیں یا مثبت تنقید کریں اور اپنی تجاویز پیش کریں اس میں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا


لاکن

اگر کسی نے کوئی فیک نیوز چلائی یا چھاپی اور ناجائز طریقے سے افواہیں یا سنسنی پھیلانے کی کوشش کی تو
چینل کا لائسنس اور اخبار یا جریدے کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے
بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا
اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی سازش کرنے پر جیل بھیج دیا جائے گا

میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تیر کی طرح سیدھے نہ ہو گئے تو مجھے کہیے گا
ان خبیثوں کا اس کے علاوه شاید اور کوئی علاج نہیں

جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو کسی سخت معاہدے کے بعد دوبارہ مشروط پاسز کا اجرا کر دیا جائے
Dr Sahib
Keep in mind we do have LHC, IHC, SHC etc who are always there to help poor criminals.
Thanks
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
اچھی تجویز تاہم اس میں عدالت کے حکم امتناعی کا خطرہ ہے۔ نیو نیوز اور 24 نیوز چینل کے لائسنس پیمرا منسوخ کرچکا لیکن وہ دونوں عدالتی حکم امتناعی پر چل رہے ہیں۔
Dr Sahib
Keep in mind we do have LHC, IHC, SHC etc who are always there to help poor criminals.
Thanks


اگر پی ٹی وی والی تجویز پر عمل کیا جائے تو کیا جن لوگوں کو رگیدا جائے گا وہ عدالتوں میں نہیں جائیں گے کہ سرکاری میڈیا پر ہمیں دن رات بدنام کیا جا رہا ؟؟؟ پھر بھی تو یہی عدالتیں ہوں گی
 

wadaich

Prime Minister (20k+ posts)


ایک اور آسان حل جس میں "ہینگ لگے نہ پھٹکری تے رنگ وی چوکھا" یہ بھی ہو سکتا ہے کہ

ملک کے تمام نام نہاد صحافیوں اور رپورٹروں کے سکیورٹی کلیرینس پاسز منسوخ کر دیے جائیں
ٹی وی چینلز، اخبارات اور جریدوں کے صرف مالکان کو پاسز جاری کر کے بتا دیا جائے کہ وہ بقلم خود ہر ادارے میں خبروں کے حصول کے لیے بلا روک ٹوک آ جا سکتے ہیں اور آزدی اظہار کے اصول کے تحت معاشرے اور حکومت کی بہتری کے لیے جو مرضی خبر چلائیں یا چھاپیں یا مثبت تنقید کریں اور اپنی تجاویز پیش کریں اس میں ان کو خوش آمدید کہا جائے گا


لاکن

اگر کسی نے کوئی فیک نیوز چلائی یا چھاپی اور ناجائز طریقے سے افواہیں یا سنسنی پھیلانے کی کوشش کی تو
چینل کا لائسنس اور اخبار یا جریدے کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے
بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا
اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی سازش کرنے پر جیل بھیج دیا جائے گا

میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تیر کی طرح سیدھے نہ ہو گئے تو مجھے کہیے گا
ان خبیثوں کا اس کے علاوه شاید اور کوئی علاج نہیں

جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو کسی سخت معاہدے کے بعد دوبارہ مشروط پاسز کا اجرا کر دیا جائے


None of the institution is free from corrupt & traitor mafia penetration & representative.
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)


None of the institution is free from corrupt & traitor mafia penetration & representative.

جے ڈبلیو! واہ واہ . موقعے کی مناسبت سے زبردست شعر مارا ہے
واٹر کولر آپ کا ہوا
👏 👍
 

Syaed

Councller (250+ posts)
فیک نیوز اور جھوٹے صحافیوں کا آسان حل

پی ٹی وی کو ایک نیا پروگرام شروع کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور ان کی تردیدوں پر محیط ہو۔
فیک نیوز دینے والے صحافی کا نام بتائیں اور تصویر دکھائیں ، صحافی کی مذمت کرتے ہوئے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوں گے۔

حال ہی میں میڈیا مالکان نے سیاسی ایجنڈے پر چلنے اور فیک نیوز صحافیوں کو برطرف کیا ہے۔ کچھ کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی ، میڈیا مالکان نقصان برداشت نہیں کرسکتے ، وہ منافع کے لئے صحافتی کاروبار میں ہیں۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے اور کم ریٹنگز حاصل کرتا ہے تو یہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ کم از کم میڈیا مالکان ان کو اپنے سیاسی مالکان سے رقم لینے کے لئے کہیں گے جن کے لئے وہ جعلی خبریں چلاتے ہیں۔
پروگرام کا نام ہونا چاہئے
آج کی جھوٹی خبریں اور جھوٹے صحافی۔

ذرا تصور کریں کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی کے لوگو والے کلپ ، حامد میر اور عاصمہ شیرازی کی فیک نیوز کا احاطہ کرتے ہوئے۔ جب صحافی بدنام ہوجاتا ہے تو وہ کسی کے کام کا نھیں رہتا ، یہاں تک کہ انہیں یوٹیوب پر سبسکرائبر بھی نہیں ملتے ۔
بہت ہی اچھا حل ہے۔اس طرح پی ٹی وی کو ایک اچھا پروگرام بھی مل جائیگا اور لفافے بھی ایکسپوز ہوجائیں گے۔
 

Nain

Politcal Worker (100+ posts)


اگر پی ٹی وی والی تجویز پر عمل کیا جائے تو کیا جن لوگوں کو رگیدا جائے گا وہ عدالتوں میں نہیں جائیں گے کہ سرکاری میڈیا پر ہمیں دن رات بدنام کیا جا رہا ؟؟؟ پھر بھی تو یہی عدالتیں ہوں گی
اگر آزاد عدلیہ اس پروگرام کو بند کردیتی ہے تو اس سے بہت سارے دوسرے پروگراموں کو بند کرنے کا دروازہ کھل جائے گا ، اور ساتھ ہی آزادی اظہار اور آزاد صحافت کا ڈھکوسلا بھی عدلیہ کے ہاتھوں دفن ہو جائے گا۔
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
اگر آزاد عدلیہ اس پروگرام کو بند کردیتی ہے تو اس سے بہت سارے دوسرے پروگراموں کو بند کرنے کا دروازہ کھل جائے گا ، اور ساتھ ہی آزادی اظہار اور آزاد صحافت کا ڈھکوسلا بھی عدلیہ کے ہاتھوں دفن ہو جائے گا۔
بہت ہی اچھا حل ہے۔اس طرح پی ٹی وی کو ایک اچھا پروگرام بھی مل جائیگا اور لفافے بھی ایکسپوز ہوجائیں گے۔

آپ کا فرمانا بجا ہے . لیکن مسلہ اس عدلیہ کے ڈھکوسلوں کا نہیں ہے اصل مسلہ اس نام نہاد آزادی اظہار کا آئین میں لکھے ہونے کا ہے جس کے تحفظ کا حلف جج صاحبان نے اٹھا رکھا ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں