ماہِ صفر اور ہم :::::: ؟؟؟

jalismirza

Voter (50+ posts)
281248_501313429891162_456851633_n.jpg

:::::: ماہِ صفر اور ہم :::::::ماہِ صفر منحوس ہے ؟؟؟
ماہِ صفر ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس مہینے کی نہ کوئی فضلیت بیان نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے میں کِسی بھی حلال اور جائز کام کو کرنے سے رُکا جائے ، ، جو مہینے فضلیت اور حُرمت والے ہیں اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ الزَّمَانَ قَد استدَارَ کَھیئتِہِ یَومَ خَلَق َ اللَّہ ُ السَّمَوَاتِ وَ الارضَ السَّنَۃُ اثنا عَشَرَ شَھراً مِنھَا اربعَۃَ حُرُمٌ ، ثَلاثٌ مُتَوالیاتٌ ، ذو القعدہ ذوالحجۃِ و المُحرَّم و رجبُ مُضر الَّذِی بین جُمادی و شَعبان ) (سا ل اپنی اُسی حالت میں پلٹ گیا ہے جِس میں اُس دِن تھا جب اللہ نے زمنیں اور آسمان بنائے تھے ، سال بار ہ مہینے کا ہے جِن میں سے چار حُرمت والے ہیں ، تین ایک ساتھ ہیں ، ذی القعدہ ، ذی الحج ، اور مُحرم اور مُضر والا رجب جو جمادی اور شعبا ن کے درمیان ہے ) صحیح البُخاری /حدیث ٧٩١٣ ، ٢٦٦٤ ،
دو جہانوں کے سردار ہمارے محبوب مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کی بارہ مہہینوں میں سے چار کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ چار مہینے حُرمت والے ہیں یعنی اُن چار مہینوں میں لڑائی اور قتال نہیں کرنا چاہئیے ، اِس کے عِلاوہ کِسی بھی اور ماہ کی کوئی اور خصوصیت بیان نہیں ہوئی نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !!!! حیرانگی کی بات ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہ ہونے کے باوجود کچھ مہینوں کو با برکت مانا جاتا ہے اور من گھڑت رسموں اور عِبادت کے لیئے خاص کیا جاتا ہے اور کُچھ کے بارے میں یہ خیال کِیا جاتا کہ اُن میں کوئی خوشی والا کام ، کاروبار کا آغاز ، رشتہ ، شادی بیاہ ، یا سفر وغیرہ نہیں کرنا چاہیئے ، حیرانگی اِس بات کی نہیں کہ ایسے خیالات کہاں سے آئے ، یہ تو معلوم ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی کروں گا ، حیرانگی اِس بات کی ہے کہ جو باتیں اور عقیدے کِسی ثبوت اور سچی دلیل کے بغیر کانوں ، دِلوں اور دِماغوں میں ڈالے جاتے ہیں اُنہیں تو فوراً قُبُول کر لِیا جاتا ہے لیکن جو بات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی جاتی ہے اور پوری تحقیق کے ساتھ سچے اور ثابت شُدہ حوالہ جات کے ساتھ بتائی جاتی ہے اُسے مانتے ہوئے طرح طرح کے حیلے بہانے ، منطق و فلسفہ ، دِل و عقل کی کسوٹیاں اِستعمال کر کر کے راہ فرار تلاش کرنے کی بھر پُور کوشش کی جاتی ہے اور کچھ اِس طرح کہا لکھا جاتا ہے کہ :::

اجی یہ بات دِل کو بھاتی نہیں
کچھ ایسا ہے کہ عقل میں آتی نہیں !!!!
 
Last edited:

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
عبادت کے لیے وقت اور زمانے کی کوی قید نھیں ھاں حرمت والے مھینے عبادت کرنے والوں کے دل خدا تعالی کی طرف زیادھ کھینچتے ھیں۔اب ان حرمت والے مہینوں میں رمضان کا زکر نھیں ھوا حالانکہ اس مھینے میں قرآن مجید نازل ھوا اور روزوں کی فضیلت الگ سے ھے۔ لھذا میں سمجھتا ھوں کہ کسی مھینے کی فضیلت کا ذکر نہ ھونا کوی اسکی اھمیت نھیں گھٹا دیتا۔بلکہ سارے مھینے اللہ ھی کے ھیں
 

behzadji

Minister (2k+ posts)
جب صفر کا چاند دیکھیں تو نمازمغرب کی ادائیگی کے بعد چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد ایک ہزار مرتبہ نہایت توجہ و یکسوئی سے یہ درود پاک پڑھیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِّیِ الاُمِّی بفضل باری تعالیٰ اس عمل کے کرنے سے گناہوں کی معافی ہوگی اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے گا۔

ماہ صفر کی پہلی شب
جو کوئی نماز عشاءکی وتر اور نفل نماز سے پہلی چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ کافرون پڑھے دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ فلق پڑھے اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورة الناس پڑھے۔ نماز ادا کرنے کے بعد ایک سو مرتبہ اِیَّاکَ نَعبُدُوَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ پڑھے۔ پھر ستر مرتبہ درود پاک پڑھے تو انشاءاللہ تعالیٰ ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا۔ پروردگار عالم اپنی حفظ وامان میں رکھے گا۔
ثواب حاصل کرنا
جو کوئی چاہے کہ اسے بہت زیادہ ثواب حاصل ہو اللہ تعالیٰ اُس کے گناہ معاف کرے اور اسے نیکی کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے تو وہ آخری چہار شنبہ کے دن چاشت کی نماز کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ پھر جب سلام پھیرے تو ستر مرتبہ سورہ الم نشرح پڑھے۔ ستر مرتبہ سورہ والتین پڑھے سترمرتبہ سورہ نصر پڑھے اور ستر مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔
صفرالمظفر کے آخری عشرہ کی عبادات
ماہ صفر کے آخری عشرہ میں نفل نمازیں پڑھنے سے اللہ تعالیٰ بندے پر خصوصی فضل وکرم فرماتا ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ آخری عشرہ پہلے کے دن نماز اشراق کے بعد غسل کرکے پاکیزہ لباس پہنے اور بغیر کسی سے کوئی کلام کرے چار رکعت نفل نماز اس طرح سے ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ستر مرتبہ سورہ کوثر پانچ مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک ایک مرتبہ معوذتین پڑھے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد اپنا سرسجدے میں رکھے اور ایک مرتبہ یَاوَھَابُّ اور اَلحَیُّ اَلحَقُّ کہے۔ اس کے بعد اٹھ کر بیٹھ جائے اور اکسٹھ مرتبہ سورہ الم نشرح اکسٹھ مرتبہ سورہ والتین اکسٹھ بار اذا جائ اکسٹھ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ پھر ایک ہزار چودہ مرتبہ یَاوَھَابُّکا ورد کرے۔ اس کے بعد سو مرتبہ اَلحَیُّ اَلحَقُّ پڑھے پھر سجدے سے سراٹھائے اور تین مرتبہ یہ درود پاک پڑھے:اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبدِکَ وَنَبِیَّکَ وَرَسُولِکَ النَّبِیِّ الاُمِّی وَعَلٰی اٰلِہ وَبَارِک وَسَلِّم۔
تکلیف سے نجات کیلئے
اکثر مشائخ عظام کا کہنا ہے کہ آخری عشرہ کے پہلے روز طلوع آفتاب کے وقت باوضو حالت میں یہ تعویذ لکھے:
بسم اللہ الرحمن الرحیمo آلٓمٓ۔ الٓمصٓ۔ کٰھٰیٰعٓصَ۔ طٰہٓ۔ طٰسٓمٓ۔ یٰسٓ۔ صٓ۔ حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ قٓ۔ نٓ۔
تعویذ لکھنے کے بعد پانی میں خوب اچھی طرح گھول دے اور اس میں سات مرتبہ چاندی کا چھلا بجھائے۔ اس کے بعد اگر حاملہ عورت اس کو درد زہ کے وقت اپنی کمر سے باندھے تو اسے درد کی شدت میں کمی ہوگی اور وہ بہت جلد فراغت حاصل کرے گی اگر یہ چھلا بواسیر کا مریض اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگیا میں پہنے تو انشاءاللہ تعالیٰ اس کا مرض رفع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے شفائے کاملہ سے
نوازے گا۔

Courtesy:
http://www.ubqari.org/controller.php?action=Article_Detail&nArtId=2661​