معافی مانگنا عمدہ ثقافت اور بہترین اخلاق ہے۔

Amal

Chief Minister (5k+ posts)


تاریخ کی سب سے طاقتور ترین معذرت

جب حضرتِ ابوذرؓ نے بلالؓ کو کہا
"اے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے! اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا . . ؟
بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اٹھے خدا کی قسم! میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا
یہ سن کر اللہ کے رسول کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا
ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی؟؟؟
تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی
اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے، اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے ۔۔
باہر آکر اپنا رخسار مٹی پر رکھ دیا اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے
"بلال! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پاؤں سے نہ روند دو گے، میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا، یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار
یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا اور بے ساختہ گویا ہوے
خدائے پاک کی قسم! میں اس رخسار کو کیسے روند سکتا ہوں، جس نے ایک بار بھی خدا کو سجدہ کیا ہو پھر دونوں کھڑے ہو کر گلے ملے اور بہت روئے
( صحیح بخاری :31 )
اور آج ہم ایک دوسرے کی ہزاروں بار دل آزاری کرتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ۔ ۔
"بھائی! معاف کریں بہن! معذرت قبول کریں"۔
یہ سچ ہے کہ ہم آئے دن لوگوں کے جذبات کو چھلنی کر دیتے ہیں؛ مگر ہم معذرت کے الفاظ تک زبان سے ادا نہیں کرتے اور "معاف کر دیجئے" جیسا ایک عدد لفظ کہتے بھی ہمیں شرم آتی ہے۔۔
معافی مانگنا عمدہ ثقافت اور بہترین اخلاق ہے، جب کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خود کی بے عزتی ہے۔۔
ہم سب مسافر ہیں، اور سامانِ سفر نہایت ہی کم ہے، ہم سب دنیا و آخرت میں اللہ سے معافی اور درگزر کا سوال کرتے ہیں۔
 
Advertisement
Last edited:

hello

Senator (1k+ posts)
بخاری شریف میں ہے:حضرت سیِّدُنا مَعرُور رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ’’رَبَذَہ‘‘(نامی مقام جوکہ مدینہ شریف سے تین منزل دُور ہے) میں ملاقات کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جَوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے سُوال کیا تو حضرتِ سیِّدُناابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کوماں کے حوالے سے بُرا کہا توحُضورِپُر نور، شاہِ غَیُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اے ابوذَر! تم نے اس کی ماں کی نسبت بُرے الفاظ کہے تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہِلیَّت کی خَصلَت ہے۔ تمہارے لونڈی غلام تمہارے (دینی) بھائی ہیں ،اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کو تمہارا ماتَحت بنادیا ہے تو جس کا بھائی اُس کے ماتَحت ہو، اُس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اُس کوکِھلائے اور جو خود پہنے اُس کو پہنائے اور تم اُن خادِموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو اُنہیں لاچار کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو(یعنی کوئی مَشَقَّت کا کام دو) تو خود بھی کام میں ان کی مددکرو۔
(صَحیح بُخاری ج ۱ص۲۳حدیث۳۰)


عظیم الشان ندامت اور انوکھا کفّارہ
حضرتِ سیِّدُنا اَبوذَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جس شخص کوغلط الفاظ کہے تھے ،وہ حضرتِ سیِّدُنا بلالِ حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔وہ الفاظ معاذ اللہ کوئی مُرَوَّجہ (مُ۔ رَوّ۔ وَجہ) گندی گالی نہیں تھی، بس اتنا کہدیا تھا کہ (اے کالی ماں کے بیٹے) حضرتِ سیِّدُنا بِلالِ حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب دربار ِ رسالت میں اس کی شکایت کی تو سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ سیِّدُنا اَبو ذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ڈانٹا اور نصیحت فرمائی ۔اس کے بعد حضرتِ سیِّدُنا اَبو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر اس کا کیا ردِّ عمل ہوا، یہ بَہُت ہی لَرزہ بَراَ ندام کردینے والی داستان ہے،اس کو سنئے اور خداعَزَّ وَجَل کے خوف سے لرزیئے: چُنانچِہ دربارِ رِسالت کی مَلامَت سُن کر فوراًہی حضرتِ سیِّدُنا اَبوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرتِ سیِّدُنا بلالِ حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں نَدامت کے ساتھ حاضِر ہوئے اور ایک دم اپنا حَسین رُخسار(یعنی گال) زمین پر رکھ کر انتِہائی لَجاجَت کے ساتھ روتے اور گڑگڑاتے ہوئے کہا:’’ اے بِلال! جب تک تم اپنے قدم کے تلوے سے میرے اِس رُخسار(یعنی گال) کو نہ روندوگے میں اُس وَقت تک اپنا یہ چِہرہ ہرگز ہرگز زمین سے نہیں اُٹھاؤں گا۔‘‘حضرتِ سیِّدُنا اَبو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شدید اِصرار سے مجبور ہوکر حضرتِ سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بادِلِ ناخواستہ (با۔ دِلے۔ نا۔ خاس۔ تَہ)اپنا قدم سیِّدُنااَبو ذَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مبارَک چِہرے پر رکھ کر فوراً ہی ہٹالیا اور حضرتِ سیِّدُنا اَبو ذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مُعاف کردیا۔ (اِرشادُالسّاریج۱ص۱۹۷)

ابو ذر غفاری پیکرپرہیزگاری تھے
حضرتِ سیِّدُناعلامہ قَسطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اِس واقِعے کے بارے میں یہ بھی تحریرفرمایا ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا اَبوذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ عار(یعنی غیرت) دلانے والی بات حضرتِ سیِّدُنابِلالِ حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے اُس وَقت کہی تھی جبکہ حضرتِ سیِّدُنااَبوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اِس قسم کے الفاظ کی حُرمت (یعنی حرام ہونے)کا عِلم نہیں ہوا تھا ۔ورنہ حضرتِ سیِّدُنااَ بو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے پیکرِ تقویٰ و پرہیز گار ی سے ایسی بات کا تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اِسی لیے حُضُورِ پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صِرف یہ لفظ کہہ کر ان کی

سَرزَنِش(یعنی ملامت )فرمائی کہ ’’تمہارے اندر ابھی جاہِلیَّت کی خصلت باقی ہے۔ ‘‘اور یہ زَجرو تَوبیخ (زَج ۔ رَو ۔ تَو ۔ بی۔خ۔ یعنی ڈانٹ ڈَپَٹ) بھی ان کے بُلند مَراتِب کی و جہ سے ہوئی کہ اتنے بڑے آدَمی کی زَبان سے اِتنی چھوٹی اورگِری ہوئی بات نہیں نکلنی چاہئے تھی۔ (ایضاً)

حضرتِ سیِّدُنااَبوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بَہُت ہی قدیمُ ا لا سلام صَحابی ہیں ، یہاں تک کہ بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول ہے کہ اسلام قَبول کرنے میں باہَری( غیرحِجازی) صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَانکے اندرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پانچواں نمبر ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مسلمان ہونے کا پورا حال بخاری شریف میں مُفَصَّل مذکورہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایمانی جذبے کا حال یہ تھا کہ قَبولِ اسلام کے بعد چند دن تک بلند آواز سے روزانہ مَجمعِ کُفّار میں اپنے اسلام کا اِعلان فرماتے اورکُفّارِ مکّہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پرپِل پڑتے اور اِس قَدر زَدو کوب یعنی مارپیٹ کرتے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لہولہان ہو کر بے ہوش ہو جاتے مگرجوں ہی ہوش میں آتے پھر اپنے اسلام کا اعلان فرماتے۔(منتخب حدیثیں ص ۱۵۷) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

خدایا بَحَقِّ بِلال و ابو ذَر مجھے دین پر استِقامت عطا کر

الٰہی نہ کچھ پوچھنا روزِ محشر مجھے بخش بہرِ بِلال و ابو ذَر

الٰہی برائے بِلال و ابو ذَر

مجھے خُلد میں دے جوارِ پیمبر
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
یہ واقعہ حضرت ابوذر غفاری کا نہیں ہو سکتا کیوں کہ حدیث کے مطابق انہیں امت کے سچے ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل ہے
 

knowledge88

Minister (2k+ posts)
Unfortunately in our country insult is incomplete unless one insults others mother as well. Even religious and Hafiz-e-quran do that.
Remember when Hafiz Quran Sarfraz got agitated by a South African players batting then first thing he found to criticise was the colour of his skin. Then he insulted his mother. He said " Abay Kalay tery maan kahan bathi hay ? Toh kiya perhwah kay aya hay apni maa say?"
Imagine if a Hafiz-e-quran uses such language for a black person then how other pakistani settle their differences. Kalah honah aik gaali hay Pakistan may. It will not change. Gaali culture is also rife in our country. People who pray five times or Hafiz Quran can't stop themselves from swearng. Just last week I warned someone not to swear because he used Prophet Muhammad pbuh name in his profile. But instead of removing his swearing from his post he got angry on me. In subcontinent gali is ok. Even imam Masjids do it. Remember Khadim Hussain Rizvi, he used to swear a lot.
 
Last edited:

jigrot

MPA (400+ posts)
معافی مانگنا بہت مشکل کام ہے اگر آپ معافی مانگ لیں تو خود کو دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھ لیں۔ ایک دفعہ یہ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ اگرغلطی دوسرے کی بھی ہو تو معافی مانگ لیں۔
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں