بائیڈن کےایک غلط فیصلے سے تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل تک جانےکا خدشہ؟

joe-bid.jpg


بائیڈن کا ایک غلط فیصلہ, تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ

افریقی ویریئنٹ اومکرون کورونا وائرس کی نئی قسم کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں, لیکن اب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ملک کے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے کے فیصلے سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں 100؍ ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ حکومت اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 50؍ ملین بیرل خام تیل مارکیٹ میں لا رہی ہے, جس سے امریکی عہدیداروں کو امید تھی کہ اس سے ملک میں تیل کی قیمتیں نمایاں تک طور پر کم ہو کر اسی سطح پر رہیں گی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا,صدر بائیڈن کے فیصلے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ اوپیک نے بھی اپنی سپلائی میں کمی کا عندیہ دے دیا ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے کا مطلوبہ فائدہ نہیں ہوگا، امریکا اور ایشیا میں اتحادی چاہے کتنے ہی بیرل تیل مارکیٹ میں لا کر فروخت کریں لیکن اوپیک اپنی سپلائی بند کرکے اسے طویل عرصے تک معطل رکھ سکتا ہے۔

 
Advertisement

The wizard

MPA (400+ posts)
J's din petrol ki jagah electric machines ny ly Leni hai us din OPEC countries b apni jagah or a jaye gi america waly us din inko b tunn dy gy
 
Sponsored Link