سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیوٹیپ: گیریٹ ڈسکوری کے سربراہ کا انکشاف

saqi11123.jpg


پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب مبینہ گفتگو کے آڈیو کلپ کی جانچ کرنے والی کمپنی کے سی ای او اینڈریو گیریٹ کا کہنا ہے کہ اگر کسی آڈیو کو اپنے طریقے سے ریکارڈ کر لیں اور اس کو دوبارہ کسی دوسری ڈیوائس پر ریکارڈ کریں تو بعد میں ہونے والی ریکارڈنگ اصل ہی لگے گی۔

گیریٹ ڈسکوری امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک کمپنی ہے جو موبائل، آڈیو اور ویڈیو کلپس پر فرانزک کا کام کرتی ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو گیریٹ نے کہا کہ ہم تکنیکی لوگ ہیں جن کا کام فرانزک چھان بین ہے ہمارا پاکستان کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

کمپنی کے سی ای او اینڈریو گیریٹ نے پاکستانی خبررساں ادارے ڈان سے بات کی اور بتایا کہ انہیں اب تک 2ہزار سے زائد فون کالز، ای میلز موصول ہوئی ہیں یا کئی لوگوں نے ہماری ویب سائٹ پر بھی کہا ہے کہ اس آڈیو کلپ سے متلق ہم اپنے نتیجے کو بدل دیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کالز میں ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ لیکن ہم ان کو سنجیدہ نہیں لے رہے کیونکہ ہم یہاں ایک محفوظ عمارت میں موجود ہیں۔ وہ لوگ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ یا تو نتیجہ تبدیل کر دیا جائے یا کوئی ایسی بات کہہ دیں جو وہ اپنے فائدے کیلئے استعمال کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی امریکہ میں موجود ہے جس کے خلاف پاکستان میں کوئی مقدمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس شخص نے ہمیں کوئی ڈیٹا دیا ہے وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ جب ہم نے یہ کام کیا تو ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ کون تھے۔ ہمیں یہ ٹیپ فرانزک کیلئے دی گئی تھی اس کے علاوہ ہمارا کوئی مقصد نہیں تھا۔

اینڈریو گیریٹ نے کہا کہ ہمیں جو ٹیپ دی گئی کہا گیا تھا کہ جانچ کرنی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ تو نہیں کی گئی، ہم نے وہی کام کیا اور اس کے لئے 2100ڈالر لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس فائل آتی ہے تو ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ کون لوگ ہیں جب تک کہ ان کی تصدیق کیلئے کوئی ریفرنس موجود نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا میں دعویٰ کی جا رہا ہے کہ اگر دوسری کاپی فرانزک کیلئے دی جائے تو اس کو جانچنے یا ایڈیٹنگ کو چیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں، یہ بالکل درست ہے کیونکہ اگر کسی آڈیو کو اپنے طریقے سے ریکارڈ کر لیں اور اس کو دوبارہ کسی دوسری ڈیوائس پر ریکارڈ کریں تو بعد میں ہونے والی ریکارڈنگ اصل ہی لگے گی۔

لیکن انہوں نے واضح کیا کہ میرے اس بیان کو اس آڈیو کلپ کے صحیح یا غلط ہونے کے تناظر میں نہ سمجھا جائے۔ اس کی ساکھ کا دارومدار اس رپورٹر پر ہے جس نے یہ آڈیو کلپ جانچ کیلئے دیا تھا۔ ہم نے اس کا نتیجہ فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ کو دیا۔

گیریٹ نے کہا کہ جو لوگ ہمیں دھمکیاں دے کر اپنا غصہ نکال رہے ہیں دراصل ان کا غصہ غلط سمت میں نکل رہا ہے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے ہم نے بس اس ٹیپ کے اصل یا نقل ہونے پر کام کیا ہے۔

اس خبر پر معاون خصوصی شہباز گل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آڈیو رپورٹ دینے والی امریکی کمپنی کے سربراہ مسٹر گیرٹ نے کہا اگر پہلے کوئی وڈیو ٹوٹے شوٹے جوڑ کر بنائی گئی ہو اور پھر اسے ایک نئی ڈیوائس پر ریکارڈ کر لیا جائے تو ایکسپرٹ کو بعد والی ریکارڈنگ میں ٹوٹے کا پتہ نہیں چلے گا بلکہ اصل معلوم ہو گی۔ باجی مریم تباہ دے۔


ایک اور صارف نے کہا کہ آواز کی رپورٹ دینے والی امریکی کمپنی کے سربراہ گیرٹ نے کہا اگر پہلے کوئی ویڈیو کے ٹکڑے جوڑ کر بنائی ہو اور اسے نئی ڈیوائس پر ریکارڈ کیا جائے تو ایکسپرٹ کو بعد والی ریکارڈنگ میں ٹکڑے کا پتہ نہیں چل سکے گا بلکہ اصل معلوم ہو گی، ادھر تو مکمل تباہ دے۔


علی مرتضٰی ہاشمی بھی اس خبر پر سابق چیف جسٹس ہی کے فقرے کی صورت میں تبصرہ کیا۔

 
Advertisement

Wake Up Pakistan

Chief Minister (5k+ posts)
Kitna masoom hai yeah banda

iss ko pata he nahee tha video kiya hai kis kee hai

$2100 agayi bas theek ae Idher pooray Paksitan mai aaag lagee hui hai

they need to be professional and sensible and have some criteria
 
Sponsored Link