دورہ روس پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے،حبیب اکرم

15habibkarsaftrtpmrussia.jpg

اینکر پرسن حبیب اکرم نے وزیراعظم عمران خان کےدورہ روس کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام "اختلافی نوٹ " میں وزیراعظم کے دورہ روس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اینکر پرسن حبیب اکرم نے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی کیوںکہ دورہ کےبعد اکثریت کی جانب سے یہی سوال کیا گیا کہ وزیراعظم دوست ملک میں گئے تھے تو کیا سوغات لائے ہیں، ہر جگہ ہر دورہ میں وزیراعظم دوسرے ملک کے سامنے ہاتھ پھیلا کر امداد لے آئیں یا پھر کوئی اور مادی فائدہ ہوا ہے تو اگر ہر دورہ کا تقاضا یہ ہے تو پھر دورہ کامیاب نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا کہ پاکستان نے ایسے وقت میں روس کا دورہ کیا ہے جب روس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھے گا اور پاکستان میں اپنا ایشیائی ساتھی دیکھے گا تو یہ ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ خطے میں بھارت کو پیچھے دھکیل کر کسی ملک کی نظر میں جگہ بنانا بہت بڑی کامیابی ہے۔


انہوں نے مزید بتایا کہ جب وہ وزیراعظم کے دورہ کے دوران ماسکو میں موجود تھے تو ان سے ایک روسی وزیر نے وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی اور کہا کہ آپ کے وزیراعظم بہت 'بولڈ' ہیں کیونکہ ایسے وقت میں اگر وہ دورہ نہ بھی کرتے تو شاید کچھ نقصان نہ ہوتا مگر انہوں نے دورہ کر کے اعتماد کی فضا بحال کی ہے۔ سپوٹنک نیوز ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ ہم پاکستان کو مسلم دنیا اور ساؤتھ ایشیا میں پنے دوست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اینکر پرسن نے مزید کہا کہ دنیا میں پانچ بڑے دارالحکومت ایسے ہیں جن کے پاس "ویٹو" پاور ہے اور اگر ان کے مابین جنگ چھڑی ہو تو بشمول پاکستان تیسری دنیا کے ممالک کو جس طرف کوئی فائدہ دکھائی دیتا ہے اس طرف شمولیت اختیار کرنی پڑتی ہے، تاہم اس دورہ سے ماضی میں پاکستان اور روس کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

انہوں نےاپنی بات کے اختتام میں کہا کہ جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی جانب سے روس کا دورہ منسوخ کیا گیا تھا تب ہی دونوں ممالک میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جو کہ تاحال جاری تھی لیکن حالیہ دورہ کے بعد عالمی منظرنامہ تبدیل ہونے کا امکان ہے اور یقینا دوطرفہ تعلقات بہتری کی طرف جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے دو روزہ دورہ ماسکو جمعرات کو مکمل کیا جہاں اس دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہمسایہ ملک یوکرین پر حملے کا اعلان کیا، جس کے بعد روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں نے دورے کو توانائی سے مالامال ملک سے توانائی اور خطے میں رابطہ کاری کے لیے اہم موقع قرار دیا۔

وزیر اعظم عمران خان روس کا طویل عرصے بعد دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم ہیں، اس سے قبل مارچ 1999 میں نواز شریف نے بطور وزیراعظم روس کا دورہ کیا تھا۔
 
Advertisement

concern_paki

Chief Minister (5k+ posts)
Only a confident and self sufficient leader like Imran Khan can do this kind of Daring things, it's far from the capability of mafias such as Nawaz ghaddar and Zardari Dakoo
 

asadqudsi

Senator (1k+ posts)
It was a successful Russian strategy. Russians had planned the invasion and they knew Ukraine did not have significant anti tank weapons. US and Europeans would not privide these due to fear of crossing a red line with Russia , India , and China are Russian allies, that leaves Pakistan, Israel and Turkey as major manufacturers of such weapons. They took out Pakistan , which has better relations with Ukraine than Russia, by red carpet treatment of IK. Nothing will come out of MOU IK signed after strict sanctions.
 

Khi

MPA (400+ posts)
Lagta ha k iss Habib Akram ko bhi safaid powder soongha diya ha Khan ne.

Otherwise: What EXACTLY came out of this Russian visit?
 
Sponsored Link